@javedwarraich370: لبالب شیشۂ تہذیبِ حاضر ہے مئے ’لا‘ سے مگر ساقی کے ہاتھوں میں نہیں پیمانۂ ’اِلّا‘ اس شعر میں علامہ اقبال نے اسلامی تصورِ توحید کے دو بنیادی اجزا ’’لا‘‘ اور ’’اِلّا‘‘ کو تہذیبِ حاضر کے فکری بحران کی علامت بنا کر پیش کیا ہے۔ ’’لا‘‘ سے مراد صرف سادہ انکار نہیں بلکہ باطل، جھوٹے معبودوں، مادی مرکزیت، فرسودہ تصورات اور ان تمام حاکمیتوں کی نفی ہے جو انسان کو حقیقتِ مطلقہ سے دور کرتی ہیں۔ اقبال کے نزدیک جدید تہذیب میں یہ نفی بہت نمایاں ہے؛ اس نے روایت، مذہبی اتھارٹی اور قدیم اقدار پر سوال اٹھایا، بہت سی پرانی مرکزیتوں کو توڑا اور انسان کو فکری آزادی دی۔ اسی لیے وہ کہتے ہیں کہ تہذیبِ حاضر کا شیشہ ’’مئے لا‘‘ سے لبالب ہے۔ لیکن شعر کا اصل نکتہ اگلے مصرعے میں سامنے آتا ہے: ’’مگر ساقی کے ہاتھوں میں نہیں پیمانۂ اِلا‘‘۔ یعنی مسئلہ یہ نہیں کہ جدید تہذیب نے انکار کیوں کیا، بلکہ یہ ہے کہ انکار کے بعد اس کے پاس اثبات میں کیا ہے؟ اس نے پرانے مرکز کو توڑ دیا، مگر اس کی جگہ وہ کون سا حتمی مرکز پیش کرتی ہے جو انسان کو معنی، مقصد، قدر اور زندگی کی آخری سمت فراہم کرے؟ یہاں ’’اِلّا‘‘ صرف مذہبی اصطلاح نہیں بلکہ حقیقتِ مطلقہ، الٰہی مرکزیت اور ایک ایسے مثبت اثبات کی علامت ہے جو نفی کے بعد انسان کو سمت عطا کرتا ہے۔ اس اعتبار سے اقبال کا اعتراض یہ نہیں کہ جدید تہذیب کے پاس کوئی اقدار یا مثبت تصورات سرے سے موجود نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس کے بنیادی اثبات کی آخری بنیاد کیا ہے۔ ’’لا‘‘ انسان کو آزادی دے سکتی ہے، مگر ’’اِلّا‘‘ اسے سمت دیتی ہے؛ ’’لا‘‘ باطل کو توڑتی ہے، مگر ’’اِلّا‘‘ حق کو قائم کرتی ہے؛ ’’لا‘‘ نفی ہے، مگر ’’اِلّا‘‘ اس نفی کو معنی اور مقصد میں بدلنے والا اثبات ہے۔ چنانچہ اقبال کے نزدیک بحران خود انکار میں نہیں، بلکہ اس مقام پر رک جانے میں ہے جہاں ’’لا‘‘ کے بعد ’’اِلّا‘‘ آنا چاہیے تھا۔ جدید تہذیب نے بہت کچھ رد کیا، لیکن اقبال کے سوال کا مرکز یہ ہے کہ اس رد کے بعد انسان کو آخر کیا دیا گیا؟ یہی سوال اس شعر کو محض مغربی تہذیب کی مخالفت نہیں بلکہ نفی و اثبات، آزادی و مقصد، اور انسانی زندگی کے معنی کے بارے میں ایک گہری فلسفیانہ گفتگو بنا دیتا ہے۔ غزل: سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سودا کتاب: بالِ جبریل #UnfreezeYourAccount