@hanijigar: وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا گردشِ ایام کا یہ پہیہ جب گھوم کر ہمارے موافق آئے گا تو ہماری خاموشی کا یہ طویل دورانیہ بالآخر ختم ہو جائے گا۔ آج اگر ہم چپ چاپ ہر رویہ ہر تلخ طنز اور ہر بے رخی سہہ رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہمیں درد محسوس نہیں ہوتا یا ہم بے حس ہو چکے ہیں ہم نے اپنے سارے زخم خاموش آنسو اور گلے دل کے گہرے گوشوں میں سنبھال کر رکھے ہوئے ہیں جب وقت کا دھارا بدلے گا اور بخت ہمارا ساتھ دے گا تب ہم ایک ایک کر کے وہ تمام باتیں وہ سارے روپ اور وہ تمام انداز سامنے رکھیں گے جو ہماری روح کو چھلنی کرتے رہے ہیں وہ دن صابروں کی فتح کا ہوگا جہاں ہم بتائیں گے کہ کس طرح ان کا دیا ہوا ہر ایک لفظ ہمارے دل پر بھاری تھا اور تب شاید ان کے پاس پچھتاوے کے سوا کچھ باقی نہیں رہے گا