@mr.baloch633: تشریح گہری سوچ میں ہوں کہ لوگ سچے تھے یا میں ہی جھوٹا تھا، شریف رہوں یا دنیا کی طرح منافق بن جاؤں؟ یہ شعر اُس اندرونی کشمکش اور مایوسی کو بیان کرتا ہے جو بار بار دھوکے، بےقدری یا لوگوں کے بدلتے رویّوں کے بعد پیدا ہوتی ہے۔ انسان سوچنے لگتا ہے کہ شاید مسئلہ دوسروں میں نہیں، کہیں مجھ ہی میں تو نہیں تھا کہ میں نے لوگوں پر اعتبار کیا اور خلوص سے پیش آیا۔ دوسرا مصرعہ اس کشمکش کو مزید گہرا کر دیتا ہے: کیا اپنی سچائی اور شرافت برقرار رکھی جائے یا دنیا کے دوغلے رویّوں کو اپنا لیا جائے؟ شعر کا اصل درد یہی ہے کہ انسان کو دوسروں کی منافقت دیکھ کر اپنے اصول بدلنے کا خیال آنے لگتا ہے، حالانکہ کسی اور کی غلطی کی وجہ سے اپنی اچھائی چھوڑ دینا بھی خود کے ساتھ ناانصافی ہے۔ مختصر مفہوم دنیا کی منافقت تمہیں بدلنے پر مجبور نہ کرے؛ سچا رہو، مگر اتنے سمجھدار ضرور بنو کہ ہر شخص پر اندھا اعتبار نہ کرو۔ 🖤🥀 دل کی بات لوگ بدل جائیں تو اپنے اصول مت بدلو؛ خلوص چھوڑ دینا آسان ہے، مگر اپنی اصل پہچان کھو دینا بہت مہنگا پڑتا ہے۔ 🖤✨ #Fidaa #Baloch #urdupoetry #poetrycommunity #foryoupage