وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا ۗ أَلَا تُحِبُّونَ أَن يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ (النور 24:22) "انہیں چاہیے کہ معاف کر دیں اور درگزر کریں۔ کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں بخش دے؟" ذرا اس آیت کو دوبارہ پڑھو… کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ تمہیں معاف کرے؟ تو پھر کبھی کبھی دوسروں کو معاف کرنا بھی سیکھنا پڑتا ہے۔ لیکن معاف کرنا یہ نہیں کہ جو ظلم ہوا اسے صحیح مان لیا جائے۔ نہیں۔ اگر کسی نے تم پر ظلم کیا ہے، تو اپنے حق کے لیے جائز طریقہ اختیار کرنا الگ بات ہے۔ مگر دل میں نفرت کو ہمیشہ کے لیے پالنا اپنے ہی دل کو جلانا ہے۔ کبھی کبھی معافی دوسرے شخص کے لیے نہیں… اپنے دل کے سکون کے لیے ہوتی ہے۔ اور ایک بات… اگر تمہاری کسی سے ناراضی ہے اور معاملہ صرف انا، ضد یا معمولی غلط فہمی کا ہے… تو آج ہی سوچو۔ شاید تم جس شخص کو کل منانے کا سوچ رہے ہو، کل وہ موجود ہی نہ ہو۔ ایک چھوٹا سا پیغام بھیج دو: "جو ہوا، اسے چھوڑ دیتے ہیں۔ اللہ ہمیں معاف کرے۔ اگر میری طرف سے کبھی تمہارا دل دکھا ہو تو مجھے معاف کر دینا۔" یقین کرو… کبھی کبھی صرف ایک جملہ سالوں کی دوری ختم کر دیتا ہے۔ اور سب سے خوفناک حقیقت یہ ہے: ہم سب کے بارے میں یہ سوال کبھی نہ کبھی پوچھا جائے گا۔ آج تم کسی سے ناراض ہو… کل ممکن ہے تمہارا اپنا نام کسی کی زبان پر ہو: "وہ شخص جس سے میری ناراضی تھی… آج قبر میں ہے۔" اس لیے رشتوں کو انا سے بڑا نہ بناؤ۔ دلوں کو توڑنے میں ایک لمحہ لگتا ہے، مگر کبھی کبھی انہیں دوبارہ جوڑنے کا موقع نہیں ملتا۔ اپنے ذہن میں اُس شخص کا چہرہ لاؤ جس سے تم ناراض ہو۔ اور خود سے صرف ایک سوال پوچھو: > "اگر مجھے پتا چل جائے کہ وہ کل اس دنیا میں نہیں ہوگا… تو کیا میں آج بھی اُس سے ناراض رہوں گا؟" اگر جواب "نہیں" ہے… تو پھر کل کا انتظار کیوں؟ آج ہی دل صاف کر لو۔ کیونکہ… موت اکثر رخصت ہونے سے پہلے معافی مانگنے کا وقت نہیں دیتی۔ اللہ ہمارے دلوں سے کینہ نکال دے، ہمیں معاف کرنے والا دل عطا فرمائے، اور ہمارے اُن تمام رشتوں کو جوڑ دے جنہیں ہماری انا نے توڑ دیا ہے۔ آمین۔ 🤲 ﷺ #foryou #islamic_video #heartbroken #allah #Love - @zikerzone"/> وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا ۗ أَلَا تُحِبُّونَ أَن يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ (النور 24:22) "انہیں چاہیے کہ معاف کر دیں اور درگزر کریں۔ کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں بخش دے؟" ذرا اس آیت کو دوبارہ پڑھو… کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ تمہیں معاف کرے؟ تو پھر کبھی کبھی دوسروں کو معاف کرنا بھی سیکھنا پڑتا ہے۔ لیکن معاف کرنا یہ نہیں کہ جو ظلم ہوا اسے صحیح مان لیا جائے۔ نہیں۔ اگر کسی نے تم پر ظلم کیا ہے، تو اپنے حق کے لیے جائز طریقہ اختیار کرنا الگ بات ہے۔ مگر دل میں نفرت کو ہمیشہ کے لیے پالنا اپنے ہی دل کو جلانا ہے۔ کبھی کبھی معافی دوسرے شخص کے لیے نہیں… اپنے دل کے سکون کے لیے ہوتی ہے۔ اور ایک بات… اگر تمہاری کسی سے ناراضی ہے اور معاملہ صرف انا، ضد یا معمولی غلط فہمی کا ہے… تو آج ہی سوچو۔ شاید تم جس شخص کو کل منانے کا سوچ رہے ہو، کل وہ موجود ہی نہ ہو۔ ایک چھوٹا سا پیغام بھیج دو: "جو ہوا، اسے چھوڑ دیتے ہیں۔ اللہ ہمیں معاف کرے۔ اگر میری طرف سے کبھی تمہارا دل دکھا ہو تو مجھے معاف کر دینا۔" یقین کرو… کبھی کبھی صرف ایک جملہ سالوں کی دوری ختم کر دیتا ہے۔ اور سب سے خوفناک حقیقت یہ ہے: ہم سب کے بارے میں یہ سوال کبھی نہ کبھی پوچھا جائے گا۔ آج تم کسی سے ناراض ہو… کل ممکن ہے تمہارا اپنا نام کسی کی زبان پر ہو: "وہ شخص جس سے میری ناراضی تھی… آج قبر میں ہے۔" اس لیے رشتوں کو انا سے بڑا نہ بناؤ۔ دلوں کو توڑنے میں ایک لمحہ لگتا ہے، مگر کبھی کبھی انہیں دوبارہ جوڑنے کا موقع نہیں ملتا۔ اپنے ذہن میں اُس شخص کا چہرہ لاؤ جس سے تم ناراض ہو۔ اور خود سے صرف ایک سوال پوچھو: > "اگر مجھے پتا چل جائے کہ وہ کل اس دنیا میں نہیں ہوگا… تو کیا میں آج بھی اُس سے ناراض رہوں گا؟" اگر جواب "نہیں" ہے… تو پھر کل کا انتظار کیوں؟ آج ہی دل صاف کر لو۔ کیونکہ… موت اکثر رخصت ہونے سے پہلے معافی مانگنے کا وقت نہیں دیتی۔ اللہ ہمارے دلوں سے کینہ نکال دے، ہمیں معاف کرنے والا دل عطا فرمائے، اور ہمارے اُن تمام رشتوں کو جوڑ دے جنہیں ہماری انا نے توڑ دیا ہے۔ آمین۔ 🤲 ﷺ #foryou #islamic_video #heartbroken #allah #Love - @zikerzone - Tikwm"/> وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا ۗ أَلَا تُحِبُّونَ أَن يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ (النور 24:22) "انہیں چاہیے کہ معاف کر دیں اور درگزر کریں۔ کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں بخش دے؟" ذرا اس آیت کو دوبارہ پڑھو… کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ تمہیں معاف کرے؟ تو پھر کبھی کبھی دوسروں کو معاف کرنا بھی سیکھنا پڑتا ہے۔ لیکن معاف کرنا یہ نہیں کہ جو ظلم ہوا اسے صحیح مان لیا جائے۔ نہیں۔ اگر کسی نے تم پر ظلم کیا ہے، تو اپنے حق کے لیے جائز طریقہ اختیار کرنا الگ بات ہے۔ مگر دل میں نفرت کو ہمیشہ کے لیے پالنا اپنے ہی دل کو جلانا ہے۔ کبھی کبھی معافی دوسرے شخص کے لیے نہیں… اپنے دل کے سکون کے لیے ہوتی ہے۔ اور ایک بات… اگر تمہاری کسی سے ناراضی ہے اور معاملہ صرف انا، ضد یا معمولی غلط فہمی کا ہے… تو آج ہی سوچو۔ شاید تم جس شخص کو کل منانے کا سوچ رہے ہو، کل وہ موجود ہی نہ ہو۔ ایک چھوٹا سا پیغام بھیج دو: "جو ہوا، اسے چھوڑ دیتے ہیں۔ اللہ ہمیں معاف کرے۔ اگر میری طرف سے کبھی تمہارا دل دکھا ہو تو مجھے معاف کر دینا۔" یقین کرو… کبھی کبھی صرف ایک جملہ سالوں کی دوری ختم کر دیتا ہے۔ اور سب سے خوفناک حقیقت یہ ہے: ہم سب کے بارے میں یہ سوال کبھی نہ کبھی پوچھا جائے گا۔ آج تم کسی سے ناراض ہو… کل ممکن ہے تمہارا اپنا نام کسی کی زبان پر ہو: "وہ شخص جس سے میری ناراضی تھی… آج قبر میں ہے۔" اس لیے رشتوں کو انا سے بڑا نہ بناؤ۔ دلوں کو توڑنے میں ایک لمحہ لگتا ہے، مگر کبھی کبھی انہیں دوبارہ جوڑنے کا موقع نہیں ملتا۔ اپنے ذہن میں اُس شخص کا چہرہ لاؤ جس سے تم ناراض ہو۔ اور خود سے صرف ایک سوال پوچھو: > "اگر مجھے پتا چل جائے کہ وہ کل اس دنیا میں نہیں ہوگا… تو کیا میں آج بھی اُس سے ناراض رہوں گا؟" اگر جواب "نہیں" ہے… تو پھر کل کا انتظار کیوں؟ آج ہی دل صاف کر لو۔ کیونکہ… موت اکثر رخصت ہونے سے پہلے معافی مانگنے کا وقت نہیں دیتی۔ اللہ ہمارے دلوں سے کینہ نکال دے، ہمیں معاف کرنے والا دل عطا فرمائے، اور ہمارے اُن تمام رشتوں کو جوڑ دے جنہیں ہماری انا نے توڑ دیا ہے۔ آمین۔ 🤲 ﷺ #foryou #islamic_video #heartbroken #allah #Love - @zikerzone"/>