@immuhammadsohailafridi: 26 نومبر 2024 کے بعد آج تقریباً دو سال ہونے کو ہیں۔ ان دو سالوں میں ہم نے کوئی لانگ مارچ نہیں کیا، کوئی بڑا احتجاج نہیں کیا اور خیبر پختونخوا سے باہر کوئی بڑا جلسہ بھی نہیں کیا۔ ہم نے تمام آئینی، قانونی اور جمہوری راستے اختیار کیے۔ ایک سیاسی جماعت اس سے زیادہ کیا کر سکتی ہے؟ ہم نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا پلیٹ فارم استعمال کیا، لیکن ہمیں مثبت جواب نہیں ملا۔ ہم نے قومی اسمبلی کا فورم استعمال کیا، وہاں بھی بات آگے نہیں بڑھی۔ پنجاب حکومت کو خطوط لکھے، لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔ عدالتوں سے بھی رجوع کیا گیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز نے عمران خان صاحب سے ملاقات کے احکامات دیے، لیکن ان احکامات پر عمل نہیں ہوا۔ عدالت نے حکم دیا کہ ہر ہفتے 18 افراد عمران خان صاحب سے ملاقات کر سکتے ہیں، لیکن اس حکم پر بھی عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ حال ہی میں سپریم کورٹ کے تین ججز نے عمران خان صاحب کو 48 گھنٹوں کے اندر الشفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے، ان کی بہن کی موجودگی اور ذاتی ڈاکٹروں کی نگرانی میں علاج کرانے کا حکم دیا، لیکن اس حکم پر بھی عمل نہیں کیا گیا۔ ہم نے ہر آئینی اور قانونی راستہ آزما لیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک سیاسی جماعت اس کے بعد اور کیا راستہ اختیار کرے؟ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی