@immuhammadsohailafridi: جب تمام آئینی، قانونی اور جمہوری راستے ہم نے اختیار کر لیے اور ہماری شنوائی نہیں ہوئی تو پھر ہمارے پاس کون سا راستہ بچتا ہے؟ جب سے میں وزیراعلیٰ بنا ہوں، نو ماہ میں ہم نے کون سا بڑا احتجاج کیا؟ ہم نے ہمیشہ آئینی اور قانونی راستے اختیار کیے، لیکن اب ہمیں احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ پرامن احتجاج میرا آئینی اور قانونی حق ہے۔ ہر شہری اور ہر سیاسی جماعت کو یہ حق حاصل ہے۔ یہ ہماری حکومت میں دوسرا لانگ مارچ ہے، جبکہ ہماری حکومت نے ماضی میں ہونے والے احتجاج اور لانگ مارچ کو بھی جمہوری اصولوں کے تحت سہولت فراہم کی۔ ہم جمہوری لوگ ہیں، عوام کے مینڈیٹ سے آتے ہیں، چور دروازوں سے نہیں آتے۔ ہم عوام کی طاقت پر یقین رکھتے ہیں اور جمہوری اقدار کا احترام کرتے ہیں۔ جب کسی سیاسی جماعت کے ساتھ امتیازی سلوک ہو، ریاستی ادارے اس کی بات نہ سنیں اور قانون کے مطابق سلوک نہ کیا جائے تو اس کے پاس پرامن احتجاج کے سوا کیا راستہ رہ جاتا ہے؟ پرامن احتجاج میرا آئینی حق ہے اور میں یہ حق استعمال کروں گا۔ یہ حق مجھ سے کوئی نہیں چھین سکتا۔ اگر یہ حق نہیں دینا تو پھر آئین میں دیے گئے پرامن احتجاج کے حق کو ہی ختم کر دیں۔ وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی