@_haciyevulfet_: "-Azərbaycanın möminləri Həzrəti Yusifdən də üstün olarlar." #axundazersani #azerbaijan #kesfet #keşfet

_.haciyevulfet._
_.haciyevulfet._
Open In TikTok:
Region: AZ
Monday 21 September 2026 16:49:45 GMT
22323
3158
34
230

Music

Download

Comments

9999_999999999
Huseynzadə. :
Göz harama baxdıqca, qəlbin nuru azalır."Elə bir zaman gələcək ki, insanın dinini qoruması əlində köz tutmaq kimi çətin olacaq.
2026-09-22 04:15:16
39
sb66.0
.. :
Düzdür, iman saxlamaq çətindir, amma müqayisə düzgün deyil. Züleyxa aşiq olub günah işlədib əxlaqsız olmayıb
2026-09-21 20:03:29
1
qaramurad
𝚀𝚊𝚛𝚊 𝙼𝚞𝚛𝚊𝚍 :
Salam Olsun Bakı Bulvarında Yüzlərlə Züleyxadan Üz Cevirən Yusiflərə
2026-09-21 18:46:15
29
...salmanov
【☆】SALMANOV 【☆】 :
eşq olsun Azərbaycan möminlərinə 💚
2026-09-21 17:47:21
14
hesenelibaxseliye6
!!!BAXŞƏLİYEV!!! :
ayda ayda cox böyük mənasi dəryasi var ayda aydaa
2026-09-21 19:58:21
3
ulvi.bey313
Ülvi :
Bugün fərd olaraq bəzi günahlardan qaçmaq mümkündür. Ama elə günahlar var ki, artıq o sistem elə qurulub və sistemi parçası olaraq o günahı etməmək kimi şansın yoxdur. Misal hüquq sistemi, məmur sistemi, ticarət və s.. Elə bir sistem formalaşıb ki, bu sistemdə artıq məsumiyyətin m-sından söhbət belə gedə bilməz. Ya bu sistemdən üz döndərəcək qədər azad təfəkkürə sahib olmalısan, ya da o sistemin parçası olmalısan ki evinə bir tikə haram çörək aparasan. Seçim bizim əlimizdə deyil artıq, çünki bütün sistem belədir. Mənəvi dəyərlər unutdurulur, Allahsız cəmiyyət formalaşdırılır. Görənlər var ama bir müddət sonra artıq görən gözlər qalmayacaq, qəlblərə qədər möhürlənəcəklər... Allah bizləri Sirat əl-Mustaqimə doğru yönəltsin. Amin 🤲
2026-09-22 20:41:15
3
dfjk7kf
fiat🚙 :
ƏHSSƏN VARR OLL
2026-09-22 04:30:02
2
nur_e289
nur_e289 :
Teesüfki haqlısız…(( insanlar günahdan haramdan qorxmaz olub😔
2026-09-22 17:33:38
1
user4126449003735
user4126449003735 :
bir təpkeş dərin gedənlər, göz günahına salır bizi😔
2026-09-21 17:13:06
0
camal.0.49
CAMAL 049 :
günahdan qacan millətiydiy bəs nə oldu günaha qaçan millət olduğ
2026-09-24 19:45:25
0
rnt.cesur
Rnt cesur :
omruve bereket olke mehv olub gedir
2026-09-22 11:49:43
1
veteran_mirzezade42
veteran_mirzəzadəރ:ރ :
əhsən
2026-09-21 20:57:50
1
elvin14959
🌏 :
👍
2026-09-22 06:39:44
1
liyamsi06
Her_Fesil_Payizdi_Mene :
vaxt zaman suretle gedir sey iwlere baw qowanda oz heyat yawaywimdan ibret
2026-09-21 19:54:25
0
ilham._005
İlham _005 :
bəs indi
2026-09-23 12:14:21
0
bockadan_mocuzeler
bockadan_mocuzeler :
Allah sene omur versun..
2026-09-21 21:06:23
2
musayev_1005
Elcan :
2026-09-21 18:36:54
0
dfjk7kf
fiat🚙 :
SƏLİS VƏ RAHATT AÇİGLAMA
2026-09-22 07:36:35
1
yaver.kerimov2
Yaver Kerimov :
Kişi qızıl xirdalıyır
2026-09-21 19:21:51
2
adsoyad8374
adsoyad8374 :
bu nagıldı. böyük absord Elə günahların coxunu dindarlarımız edir .
2026-09-22 15:25:53
0
taghizade19
Taghizade :
2026-09-26 05:29:20
0
anar.aliyev54
Anar Aliyev :
🥹👏🤲
2026-09-25 02:53:33
0
nazim.salamov
Nazim Salamov :
[Лайк][Лайк][Лайк]
2026-09-23 05:25:11
0
user9125903
user912590 :
[Gözleri yaşlı][Gözleri yaşlı][Gözleri yaşlı]
2026-09-25 02:18:37
0
sz.sahibi11
kişi sözü :
🥺🥺🥺
2026-09-21 19:57:50
0
To see more videos from user @_haciyevulfet_, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

جب دل اپنے رب کی محبت میں خود کو بھول جائے... تب فنا کے بعد بقا کا راز کھلتا ہے رات کا آخری پہر تھا۔ صحرا پر چاند کی مدھم روشنی بکھری ہوئی تھی۔ دور تک پھیلے ریت کے ٹیلے ایسے خاموش کھڑے تھے جیسے کسی نے پوری کائنات کو ایک لمحے کے لیے روک دیا ہو۔ ایک شکستہ سی چٹان کے سائے میں ایک درویش بیٹھا تھا۔ اس کی چادر آنسوؤں سے بھیگی ہوئی تھی، مگر آج اس کی آنکھوں میں کسی دنیاوی جدائی کا غم نہیں تھا۔ وہ اپنے آپ سے جدا ہونے کے غم میں رو رہا تھا۔ اس نے دونوں ہاتھ اپنے سینے پر رکھے، آنکھیں بند کیں اور دیر تک خاموش رہا۔ پھر اس کے ہونٹ ہلے:
جب دل اپنے رب کی محبت میں خود کو بھول جائے... تب فنا کے بعد بقا کا راز کھلتا ہے رات کا آخری پہر تھا۔ صحرا پر چاند کی مدھم روشنی بکھری ہوئی تھی۔ دور تک پھیلے ریت کے ٹیلے ایسے خاموش کھڑے تھے جیسے کسی نے پوری کائنات کو ایک لمحے کے لیے روک دیا ہو۔ ایک شکستہ سی چٹان کے سائے میں ایک درویش بیٹھا تھا۔ اس کی چادر آنسوؤں سے بھیگی ہوئی تھی، مگر آج اس کی آنکھوں میں کسی دنیاوی جدائی کا غم نہیں تھا۔ وہ اپنے آپ سے جدا ہونے کے غم میں رو رہا تھا۔ اس نے دونوں ہاتھ اپنے سینے پر رکھے، آنکھیں بند کیں اور دیر تک خاموش رہا۔ پھر اس کے ہونٹ ہلے: "یا اللہ... مجھے مجھ سے چھین لے، مگر خود سے جدا نہ کرنا۔" یہ دعا ختم ہوئی تو جیسے اس کے اندر برسوں سے جاری کوئی جنگ بھی ختم ہو گئی۔ نہ خواہش باقی رہی، نہ شکوہ۔ نہ لوگوں کی طلب، نہ لوگوں سے شکایت۔ نہ اپنی تعریف کی بھوک، نہ اپنی تکلیف سنانے کی خواہش۔ بس ایک نام باقی رہ گیا... اللہ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں فنا کا مفہوم سمجھ میں آنا شروع ہوتا ہے۔ فنا کا مطلب یہ نہیں کہ انسان وجود سے مٹ جائے، نہ یہ کہ بندہ خدا بن جائے۔ فنا سے مراد اپنے نفس کی خودپسندی، انا، تکبر اور اپنی خواہش کو اللہ کی رضا کے سامنے مٹا دینا ہے۔ بندہ رہتا ہے، مگر اپنی "میں" کے بت کو توڑ دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے: "میں نہیں جانتا... میرا رب جانتا ہے۔" "میں نہیں چاہتا... میرا رب جو چاہے وہ بہتر ہے۔" "میں نہیں سمجھتا... مگر مجھے اپنے رب پر یقین ہے۔" اور جب یہ "میں" کم ہونے لگتی ہے، تب دل میں ایک نئی زندگی پیدا ہوتی ہے۔ اسی کو اہلِ تصوف بقا کی کیفیت کہتے ہیں۔ یعنی بندہ اپنی انا میں نہیں، اللہ کی اطاعت، محبت اور رضا میں زندہ رہتا ہے۔ کبھی ایک شمع کو غور سے دیکھا ہے؟ وہ خود جلتی ہے تاکہ دوسروں کو روشنی دے۔ اس کا وجود ختم ہوتا جاتا ہے، مگر اس کی روشنی بڑھتی جاتی ہے۔ انسان کا نفس بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ جب تک وہ اپنی بڑائی، اپنی خواہش، اپنی انا اور اپنی مرضی کو بچانے میں لگا رہتا ہے، دل اندھیرے میں رہتا ہے۔ لیکن جب وہ اپنے رب کے سامنے جھک کر کہتا ہے: "یا اللہ! میری مرضی نہیں... تیری رضا۔" تو عجیب انقلاب آتا ہے۔ جو چیز اندر سے مر رہی ہوتی ہے، وہ انا ہوتی ہے۔ اور جو چیز جنم لے رہی ہوتی ہے، وہ بندگی ہوتی ہے۔ یہی فنا کے بعد بقا کی طرف سفر ہے۔ 🕋 راہِ تصوف شاید تم بھی کبھی رات کے کسی پہر اپنے آپ سے تھک گئے ہو۔ لوگوں سے نہیں... اپنے آپ سے۔ اپنی توقعات سے، اپنی خواہشوں سے، اپنی انا سے، اپنی ان خواہشوں سے جو پوری نہ ہوئیں، ان رشتوں سے جنہیں بچاتے بچاتے تم خود بکھر گئے، ان سوالوں سے جن کے جواب برسوں سے نہیں ملے۔ اور پھر ایک رات دل نے کہا: "بس..." اب کسی سے کچھ نہیں چاہیے۔ نہ دنیا سے محبت کا ثبوت، نہ لوگوں سے وفا کی ضمانت، نہ تقدیر سے وضاحت۔ بس اللہ چاہیے۔ یہ شکست نہیں ہے۔ یہ شاید تمہاری روح کی پہلی حقیقی فتح ہے۔ کیونکہ کبھی کبھی اللہ بندے کو ہر چیز سے خالی کرتا ہے تاکہ وہ پہلی بار صرف اللہ سے بھر سکے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کا ایک منظر اس حقیقت کو روشن کرتا ہے۔ جب انہوں نے اپنی قوم کے باطل معبودوں سے منہ موڑا تو انہوں نے اپنی پوری ہستی کو اللہ کے سپرد کر دیا۔ پھر وہ لمحہ آیا جب انہیں آگ میں پھینکا گیا۔ آگ سامنے تھی۔ لوگ تماشائی تھے۔ زمین خاموش تھی۔ ظاہری سہاروں میں سے کوئی سہارا باقی نہ تھا۔ مگر ایک بندہ اپنے رب پر قائم تھا۔ پھر اللہ کا حکم آیا: "اے آگ! ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔" یہاں فنا کا مطلب سمجھ آتا ہے۔ ابراہیمؑ نے اپنی انا، خوف اور ظاہری سہاروں کو اللہ کے سامنے چھوڑ دیا تھا۔ اور بقا؟ بقا یہ تھی کہ وہ اللہ کے حکم، یقین اور بندگی میں قائم رہے۔ آگ اپنی جگہ تھی... مگر دل میں آگ سے بڑا یقین موجود تھا۔ اور شاید یہی راز ہے. اللہ ہمیشہ تمہیں تمہاری مرضی کے مطابق نہیں بچاتا۔ کبھی وہ تمہیں تمہاری اپنی ذات سے بچاتا ہے۔ تم سوچتے ہو: "میری زندگی کیوں ٹوٹ گئی؟" شاید اللہ کہتا ہے: "تاکہ تم اپنے رب کو پا سکو۔" تم کہتے ہو: "میرے سارے سہارے کیوں چھن گئے؟" شاید جواب آتا ہے: "تاکہ تم جان سکو کہ اصل سہارا کون ہے۔" تم کہتے ہو: "میری خواہش کیوں پوری نہیں ہوئی؟" اور شاید رحمت خاموشی سے کہتی ہے: "کیونکہ میں تمہیں تمہاری خواہش نہیں... تمہیں خود تمہارے رب تک لے جانا چاہتا تھا۔" فنا یہ نہیں کہ تم دنیا چھوڑ دو فنا یہ ہے کہ دنیا تمہارے دل کی بادشاہ نہ رہے۔ فنا یہ نہیں کہ تم محبت کرنا چھوڑ دو۔ فنا یہ ہے کہ ہر محبت کو اللہ کی رضا کے تابع کر دو۔ فنا یہ نہیں کہ تم اپنے وجود کو مٹا دو۔ فنا یہ ہے کہ اپنی انا کو مٹا کر بندگی میں زندہ ہو جاؤ۔ اور بقا؟ بقا یہ ہے کہ پھر تم دنیا میں رہو، مگر دنیا تمہارے اندر نہ رہے۔ تم ہنسو، مگر شکر کے ساتھ۔ روؤ، مگر اللہ کے سامنے۔ محبت کرو، مگر پاکیزگی کے ساتھ۔ جیو، مگر اس یقین کے ساتھ کہ ایک دن اسی رب کے پاس واپس جانا ہے۔

About