@l_belong_to_jhope: "لوگ کہتے ہیں کہ ماں باپ دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہوتے ہیں، اور شاید ہوتے بھی ہیں... مگر ہر کہانی ایک جیسی نہیں ہوتی۔ کچھ بچے ایسے بھی ہوتے ہیں جو بچپن سے جوانی تک صرف ایک چیز کے لیے ترستے رہتے ہیں؛ تھوڑی سی توجہ، چند محبت بھرے لفظ، اور یہ احساس کہ وہ بھی کسی کے لیے اہم ہیں۔ میں نے کبھی ضد نہیں کی، کبھی اپنی خواہشوں کو اُن پر بوجھ نہیں بنایا۔ ہر بار خود کو سمجھایا کہ شاید وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا، شاید ایک دن وہ مجھے بھی سمجھ لیں گے، شاید ایک دن میری خاموشی کے پیچھے چھپا شور سن لیں گے۔ مگر وقت گزرتا گیا، اور میں بھی بدلتی گئ۔ کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو جسم پر نہیں، روح پر لگتے ہیں۔ اور جب زخم روح پر لگیں، تو انسان ہنستے ہوئے بھی اندر سے ٹوٹا ہوا ہوتا ہے۔ لوگ میری مسکراہٹ دیکھتے ہیں، مگر اُنہیں یہ نہیں معلوم کہ میں نے کتنی راتیں جاگ کر گزاری ہیں۔ کتنی بار دل چاہا کہ کوئی آ کر صرف اتنا پوچھ لے: "تم ٹھیک ہو؟" مگر یہ سوال بھی میری قسمت میں نہیں لکھا گیا۔ اب تو حالت یہ ہے کہ نہ کسی سے شکایت باقی ہے، نہ کوئی گلہ۔ کیونکہ جب انسان بار بار نظر انداز ہو، تو ایک وقت کے بعد وہ بولنا چھوڑ دیتا ہے۔ اور میں بھی اب وہی کر رہی ہوں۔ میری خاموشی میری عادت نہیں، میری مجبوری ہے۔ سب کہتے ہیں کہ اولاد ماں باپ کا سہارا ہوتی ہے، مگر کبھی کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ جب اولاد خود اندر سے ٹوٹ رہی ہو، تو اُس کا سہارا کون بنتا ہے؟ جب ایک بچہ اپنے ہی گھر میں خود کو اجنبی محسوس کرنے لگے، تو اُس کے دل پر کیا گزرتی ہے؟ میں نفرت نہیں کرتی، کیونکہ نفرت کے لیے بھی دل میں جگہ چاہیے، اور میرا دل تو بہت پہلے ہی تھک چکا ہے۔ اب بس اتنا چاہتی ہوں کہ ایک دن ایسا آئے، جب مجھے اپنے وجود کو ثابت نہ کرنا پڑے۔ جب مجھے یہ احساس دلانے کی ضرورت نہ پڑے کہ میں بھی انسان ہوں، میرے بھی جذبات ہیں، اور مجھے بھی تکلیف ہوتی ہے۔ شاید کچھ لوگ کبھی نہیں سمجھ پائیں گے کہ اپنوں کی دی ہوئی تکلیف سب سے زیادہ درد دیتی ہے۔ کیونکہ دنیا کے دیے ہوئے زخم وقت کے ساتھ بھر جاتے ہیں، مگر اپنے جب دل توڑ دیں، تو انسان عمر بھر مسکراتے ہوئے بھی ادھورا رہ جاتا ہے۔ اور اگر کبھی میری خاموشی تمہیں عجیب لگے، تو یاد رکھنا... میں نے بولنا نہیں چھوڑا، بس مجھے سننے والے ختم ہو گئے ہیں۔" "شاید میری سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ میں نے ہمیشہ اپنوں سے محبت کی امید رکھی۔ لوگ کہتے ہیں ماں باپ اولاد کی دنیا ہوتے ہیں، مگر میری دنیا تو شاید کبھی بنی ہی نہیں۔ میں نے ہر بار اُن کی خوشی میں اپنی خوشیاں دفن کیں، ہر بار خود کو غلط مانا، ہر بار خاموش رہی... مگر بدلے میں مجھے صرف خاموشیاں ملیں۔ آج اگر میرے دل میں فاصلے ہیں، تو یہ ایک دن میں پیدا نہیں ہوئے۔ یہ اُن بے شمار راتوں کا نتیجہ ہیں جن میں میں اکیلی روئی، اُن لمحوں کا نتیجہ ہیں جب مجھے ضرورت تھی اور کوئی میرے ساتھ نہیں تھا۔ میں نے کبھی نفرت کرنا نہیں سیکھی تھی، مگر انسان اُس وقت بدل جاتا ہے جب وہ بار بار ٹوٹتا ہے۔ اب جب لوگ پوچھتے ہیں کہ تم اتنی خاموش کیوں ہو، تو میں مسکرا دیتی ہوں۔ کیسے بتاؤں کہ میری خاموشی کے پیچھے اُن لوگوں کی کہانی ہے جنہیں میں نے کبھی اپنی پوری دنیا سمجھا تھا۔ شاید ایک دن وہ سمجھ جائیں کہ اولاد صرف روٹی اور کپڑوں سے نہیں جیتی، اُسے محبت، توجہ اور اپنائیت بھی چاہیے ہوتی ہے۔ اور شاید اُس دن بہت دیر ہو چکی ہو گی۔"نفرت نہیں ہے مجھے اپنے ماں باپ سے، بس کچھ زخم ایسے ہیں جو اُنہی کے دیے ہوئے ہیں۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ دنیا کے ہر زخم کا علاج مل جاتا ہے، مگر اپنوں کی دی ہوئی تکلیف عمر بھر ساتھ رہتی ہے۔ 🙂🥀❤️🩹 . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . #fypppppppppppppppppp #goviral #foryouofficalpage #growthmyaccounttiktok✅ #dontunderreviewmyvideo (TikTok team unfreez My account please and don't under review my video please 🥺🙏🏻😭)