@qureshidx5: جان اپنا جو ہم نے مارا تھا کچھ ہمارا اسی میں وارا تھا کون لیتا تھا نام مجنوں کا جب کہ عہدِ جنوں ہمارا تھا کوہِ فرہاد سے کہیں آگے سر مرا اور سنگ خارا تھا ہم تو تھے محوِ دوستی اس کے گو کہ دشمن جہان سارا تھا لطف سے پوچھتا تھا ہر کوئی جب تلک لطف کچھ تمہارا تھا آستاں کی کسُو کے خاک ہوا آسماں کا بھی کیا ستارا تھا پاؤں چھاتی پہ میری رکھ چلتا یاں کبھُو اَس کا یوں گزارا تھا موسمِ گُل میں ہم نہ چُھوٹے حیف گشت تھا دید تھا نظارا تھا اُس کی ابرو جو ٹک جھُکی ایدھر قتل کا تیغ سے اشارا تھا عشق بازی میں کیا موئے ہیں میر آگے ہی جی انہوں نے ہارا تھا!!! #search #foryoi