@roltik_oxide: #CapCut #оксайд

TWIXIK¹🎰
TWIXIK¹🎰
Open In TikTok:
Region: UA
Tuesday 22 September 2026 10:26:37 GMT
897
11
11
1

Music

Download

Comments

grmas7
лариса :
можна с вами грати
2026-09-22 12:39:35
0
bmb3981
BMB :
а мона с вамі поіграті
2026-09-22 13:36:25
0
userr26rr
? :
А МНЕ!
2026-09-22 12:58:55
0
lizard2473
LIZARD :
2026-09-22 12:36:14
0
user9203025818005
сава :
бол решись на меня или рдпишусь
2026-09-22 15:52:42
0
To see more videos from user @roltik_oxide, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

ناز ہوتے ہیں حسینوں کے، ہم جیسوں کا کیا… ہم اگر منہ بھی بنائیں تو بُرے بنتے ہیں۔ ہمیں کہاں اجازت ہوتی ہے کہ ہم کسی سے روٹھیں، کسی کے سامنے اپنی ناراضی رکھیں یا کبھی یہ امید کریں کہ کوئی ہمارے نخرے بھی اٹھائے گا۔ ہم تو وہ لوگ ہیں جو خود ناراض ہو کر بھی سامنے والے کو مناتے ہیں، خود دل میں دکھ لیے بیٹھے ہوتے ہیں مگر دوسرے کے چہرے کی اداسی دیکھ کر اسے ہنسانے لگتے ہیں۔ ہماری خاموشی کو بھی غرور سمجھ لیا جاتا ہے، ہماری تھکن کو بے رخی، ہماری مصروفیت کو بدل جانا اور ہماری محبت کو عادت۔ ہم اگر ایک دن بات کم کر دیں تو سوال ہونے لگتے ہیں کہ کیا ہوا، بدل کیوں گئے؟ لیکن کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ آخر وہ کون سی بات تھی جس نے ہمیں خاموش ہونے پر مجبور کیا۔ ہم اگر کبھی کہہ دیں کہ ہمیں بھی برا لگا ہے تو فوراً ہمیں حساس، ضدی یا خود غرض سمجھ لیا جاتا ہے۔ شاید اس لیے کہ لوگوں کو ہماری محبت تو پسند ہے، مگر ہماری تکلیف سننے کی فرصت کسی کے پاس نہیں۔ کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ ہم بھی کسی کے لیے اتنے ہی خاص ہوں کہ ہمارے چپ ہونے سے کسی کو بے چینی ہو، ہمارے لہجے کی معمولی سی تبدیلی بھی کوئی محسوس کرے، ہم روٹھ جائیں تو کوئی منانے آئے، ہم خاموش ہوں تو کوئی ہمارے پاس بیٹھ کر پوچھے کہ
ناز ہوتے ہیں حسینوں کے، ہم جیسوں کا کیا… ہم اگر منہ بھی بنائیں تو بُرے بنتے ہیں۔ ہمیں کہاں اجازت ہوتی ہے کہ ہم کسی سے روٹھیں، کسی کے سامنے اپنی ناراضی رکھیں یا کبھی یہ امید کریں کہ کوئی ہمارے نخرے بھی اٹھائے گا۔ ہم تو وہ لوگ ہیں جو خود ناراض ہو کر بھی سامنے والے کو مناتے ہیں، خود دل میں دکھ لیے بیٹھے ہوتے ہیں مگر دوسرے کے چہرے کی اداسی دیکھ کر اسے ہنسانے لگتے ہیں۔ ہماری خاموشی کو بھی غرور سمجھ لیا جاتا ہے، ہماری تھکن کو بے رخی، ہماری مصروفیت کو بدل جانا اور ہماری محبت کو عادت۔ ہم اگر ایک دن بات کم کر دیں تو سوال ہونے لگتے ہیں کہ کیا ہوا، بدل کیوں گئے؟ لیکن کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ آخر وہ کون سی بات تھی جس نے ہمیں خاموش ہونے پر مجبور کیا۔ ہم اگر کبھی کہہ دیں کہ ہمیں بھی برا لگا ہے تو فوراً ہمیں حساس، ضدی یا خود غرض سمجھ لیا جاتا ہے۔ شاید اس لیے کہ لوگوں کو ہماری محبت تو پسند ہے، مگر ہماری تکلیف سننے کی فرصت کسی کے پاس نہیں۔ کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ ہم بھی کسی کے لیے اتنے ہی خاص ہوں کہ ہمارے چپ ہونے سے کسی کو بے چینی ہو، ہمارے لہجے کی معمولی سی تبدیلی بھی کوئی محسوس کرے، ہم روٹھ جائیں تو کوئی منانے آئے، ہم خاموش ہوں تو کوئی ہمارے پاس بیٹھ کر پوچھے کہ "کیا ہوا؟" مگر شاید یہ ناز بھی قسمت والوں کے حصے میں آتے ہیں۔ ہم جیسے لوگ تو ہمیشہ سمجھوتہ کرنا سیکھتے ہیں، اپنی خواہشیں پیچھے رکھنا سیکھتے ہیں، دوسروں کی خوشی کے لیے اپنی ناراضی چھپانا سیکھتے ہیں۔ ہم نے بھی کبھی چاہا تھا کہ کوئی ہمارے لیے بھی کہے کہ "آج تم بس ناراض رہو، منانا میری ذمہ داری ہے"، مگر جب بھی دل نے یہ خواہش کی، حالات نے ہمیں ہماری اوقات یاد دلا دی۔ اس لیے اب نہ ناز کرتے ہیں، نہ شکایت… بس کبھی کبھی دل بھر جائے تو خاموش ہو جاتے ہیں۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ جن لوگوں کے ناز ہم ہنستے ہنستے اٹھاتے ہیں، انہی کے سامنے اگر ہم ذرا سا منہ بنا لیں تو ہم بدتمیز، مغرور یا بدل گئے ہوئے انسان بن جاتے ہیں۔ شاید محبت میں بھی کچھ لوگوں کو صرف اپنا حق یاد رہتا ہے، دوسرے کا حق نہیں۔ انہیں ہماری توجہ چاہیے، ہماری فکر چاہیے، ہماری موجودگی چاہیے، ہماری ہر بات میں اپنا ذکر چاہیے، مگر جب ہمیں ان کی ضرورت ہو تو ہمارے جذبات انہیں بوجھ لگنے لگتے ہیں۔ ہم نے کتنی بار اپنے دل کی بات صرف اس لیے نہیں کہی کہ کہیں سامنے والا ناراض نہ ہو جائے، کتنی بار اپنی تکلیف ہنس کر ٹال دی کہ کہیں کسی کا سکون خراب نہ ہو، کتنی بار آنکھوں میں آنسو ہوتے ہوئے بھی "کچھ نہیں ہوا" کہہ دیا۔ مگر پھر بھی اگر ایک دن ہماری برداشت جواب دے جائے تو قصور ہمارا ہی نکلتا ہے۔ شاید ہم جیسے لوگوں کو محبت تو بہت مل سکتی ہے، مگر ناز کرنے کا حق نہیں ملتا۔ ہمیں ہمیشہ مضبوط رہنا پڑتا ہے، چاہے اندر سے کتنے ہی ٹوٹے ہوئے کیوں نہ ہوں۔ ہمیں ہمیشہ دوسروں کو سمجھنا پڑتا ہے، چاہے ہمیں سمجھنے والا کوئی نہ ہو۔ ہمیں ہمیشہ معاف کرنا پڑتا ہے، چاہے ہماری اپنی آنکھیں کتنی ہی بار نم ہوئی ہوں۔ اور پھر ایک دن انسان تھک جاتا ہے… لوگوں سے نہیں، بلکہ ہر بار خود کو سمجھانے سے، ہر بار اپنی اہمیت ثابت کرنے سے، ہر بار یہ سوچنے سے کہ شاید اگلی بار کوئی ہمیں بھی سمجھ لے گا۔ پھر دل بس اتنا کہتا ہے کہ چھوڑو، ناز بھی انہی کے اچھے لگتے ہیں جنہیں لوگ کھونے سے ڈرتے ہیں… ہم تو وہ ہیں جن کے جانے کا احساس بھی اکثر بہت دیر سے ہوتا ہے۔ ❤️‍🩹#fyp

About