اگر دورِ جہالت کے مصر میں تمہاری آنکھیں دریافت ہوتیں، تو شاید انہیں کسی معبد کا مقدس راز سمجھ کر پوجا جاتا؛ ان میں ایسی گہرائی ہے کہ سمندر بھی خود کو کم محسوس کرے، اور ایسی روشنی کہ ستارے اپنی پیدائش بھول جائیں۔ جس پر یہ نگاہ ٹھہرے، وہ اپنے زخموں کا مطلب بھول جائے۔