@userorr9ng81j2: میں نے آغاز سے انجامِ سفر جانا ہے سب کو دو چار قدم چل کے ٹھہر جانا ہے غم وہ صحرائے تمنّا کہ بگولے کی طرح جس کو منزل نہ ملی اس کو بکھر جانا ہے تیری نظروں میں میرے درد کی قیمت کیا تھی میرے دامن نے تو آنسو کو گہر جانا ہے اب کے بچھڑے تو نہ پہچان سکیں گے چہرے میری چاہت ترے پندار کو مر جانا ہے جانے والے کو نہ روکو کہ بھرم رہ جائے تم پکارو بھی تو کب اُس کو ٹھہر جا نا ہے تیز سُورج میں چلے آتے ہیں میری جانب دوستوں نے مجھے صحرا کا شجر جانا ہے زندگی کو بھی ترے در سے بھکاری کی طرح ایک پل کے لئے رُکنا ہے گزر جانا ہے اپنی افسردہ مزاجی کا بُرا ہو کہ فرازؔ واقعہ کوئی بھی ہو آنکھ کو بھر جانا ہے!! #foryou