@irfansabir597: کے ھو علم پڑھیا پر ادب نہ سکھیا، کی لینا علم نوں پڑکے ھو ہم روز انگلیوں پر دانے گنتے ہیں، تسبیح کا چکر پورا کرتے ہیں اور خود کو پارسا سمجھ بیٹھتے ہیں۔ مگر کبھی سوچا ہے کہ تسبیح کا وہ دھاگا جس نے ان دانوں کو جوڑ رکھا ہے، وہ ہم سے کیا کہتا ہے؟ وہ کہتا ہے کہ سفر دائرے کا نہیں، اندر کا تھا۔جب ہاتھ میں تسبیح ہو اور دل میں تکبر، جب زبان پر استغفار ہو اور نظر میں دوسروں کے لیے حقارت، تو وہ عبادت صرف ایک عادت بن جاتی ہے۔ ہم دانوں کو تو آگے بڑھا دیتے ہیں، مگر اپنے نفس کو حسد، غرور اور کینے کی اسی پرانی جگہ پر چھوڑ دیتے ہیں۔ تسبیح کا ایک چکر پورا ہونا اس بات کی گواہی ہے کہ وقت گزر رہا ہے، مگر ہمارا وہیں کا وہیں رہ جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری روح سوئی ہوئی ہے۔سچی بندگی تو وہ ہے جو انسان کو جھکا دے۔ جو دل سے "میں" کو مٹا کر "تو" کو بسا دے۔ دانے گننا چھوڑ دیجیے، ذرا اپنے دل کے زخموں اور اس کی کجیوں کو گننا شروع کیجیے۔ کیونکہ خدا تسبیح کے گھومتے دانوں کو نہیں، اس تڑپتے ہوئے دل کو دیکھتا ہے جو عاجزی سے اس کے حضور جھک جاتا ہے #pakistan #urdupoetry #urdushayari #foryou #foryou