@shair_e_mashraq: تشریح علامہ اقبالؒ اس شعر میں قوموں کی ترقی اور کامیابی کا راز بیان کرتے ہیں۔ شاعر کے نزدیک کوئی قوم صرف معمولی صلاحیتوں، باتوں یا ظاہری ہنر سے دنیا میں نمایاں مقام حاصل نہیں کر سکتی۔ قوم کو ایسی غیر معمولی صلاحیت، عزم، حوصلہ اور عمل کی ضرورت ہوتی ہے جو مشکلات اور رکاوٹوں کو ختم کر سکے۔ "ضربِ کلیمی" سے مراد حضرت موسیٰؑ کے عصا کی وہ ضرب ہے جس نے اللہ کے حکم سے باطل اور جادو کے فریب کو شکست دی۔ اقبالؒ نے اسے حق کی قوت، باطل کے خلاف جدوجہد، جرات اور انقلابی عمل کی علامت بنایا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جس ہنر اور صلاحیت میں ایسی قوتِ عمل اور انقلاب پیدا کرنے کی طاقت نہ ہو، وہ ہنر قوم کو بلندی تک نہیں پہنچا سکتا۔ یعنی صرف علم یا ہنر کافی نہیں، بلکہ اسے عزم، محنت، خودی اور عملی جدوجہد کے ساتھ استعمال کرنا ضروری ہے۔ آسان الفاظ میں: جو قوم مشکلات کا مقابلہ کرنے، باطل کے خلاف کھڑے ہونے اور اپنی حالت بدلنے کی طاقت نہیں رکھتی، وہ دنیا میں بڑا مقام حاصل نہیں کر سکتی۔ #trending #خودی_اور_آزادی #شاعر_مشرق #علامہ_اقبال #viralvideo