@sham_taypist: غلط لوگ غلطیاں کر کے بھی نہیں شرماتے، انہیں کسی کا دل توڑنے کے بعد بھی اپنی باتوں کا افسوس نہیں ہوتا۔ وہ کسی کو تکلیف دے کر بھی ایسے زندگی گزارتے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو، جیسے سامنے والے کے جذبات کی کوئی قیمت ہی نہ ہو۔ اور ہم جیسے لوگ شاید اسی دنیا کے لیے کچھ زیادہ ہی حساس بنائے گئے ہیں، ہمیں کسی کو دکھ دینے کے بعد نہیں بلکہ صرف کسی کے الزام سے ہی اندر سے ٹوٹ جانے کی عادت ہوتی ہے۔ کوئی ہمارے بارے میں ایک غلط بات کہہ دے تو ہم گھنٹوں خاموش بیٹھ کر سوچتے رہتے ہیں کہ آخر ہم سے کہاں غلطی ہوئی، ہم نے کس کا دل دکھایا، ہم نے کیا ایسا کر دیا کہ ہمیں اس نظر سے دیکھا گیا۔ کبھی کبھی تو انسان بےقصور ہوتے ہوئے بھی خود کو قصوروار سمجھنے لگتا ہے، صرف اس لیے کہ اسے کسی کے دل میں اپنے لیے نفرت یا غلط فہمی برداشت نہیں ہوتی۔ عجیب بات ہے نا، کچھ لوگ جان بوجھ کر رشتے توڑتے ہیں، وعدے بھول جاتے ہیں، احساسات کو روند دیتے ہیں اور پھر بھی بڑے سکون سے سو جاتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ ایک چھوٹی سی بات کو دل پر لے کر پوری رات جاگتے رہتے ہیں۔ ہم دوسروں کی سخت باتوں کو بھی یہ سوچ کر نظرانداز کر دیتے ہیں کہ شاید سامنے والا پریشان ہوگا، شاید اس کا مقصد ہمیں تکلیف دینا نہیں تھا، شاید حالات ایسے تھے۔ مگر جب وہی لوگ ہمارے بارے میں کوئی الزام لگا دیں تو ہم خود سے ہی لڑنے لگتے ہیں۔ دل بار بار یہی پوچھتا ہے کہ کیا واقعی میں اتنا برا ہوں؟ کیا واقعی میری محبت، میری نیت اور میری وفاداری کسی کے لیے اتنی بے معنی تھی؟ حالانکہ کبھی کبھی ہماری غلطی صرف اتنی ہوتی ہے کہ ہم نے کسی کو سچے دل سے اپنا سمجھ لیا ہوتا ہے۔ ہم جیسے لوگ کسی سے بدلہ نہیں چاہتے، بس چاہتے ہیں کہ ہمیں سمجھا جائے۔ ہماری خاموشی کو غرور نہ سمجھا جائے، ہماری آنکھوں میں آنے والی نمی کو کمزوری نہ سمجھا جائے، اور ہمارے خاموش ہو جانے کو بےحسی نہ سمجھا جائے۔ ہم بہت کچھ کہنا چاہتے ہیں مگر ہر بار الفاظ گلے میں ہی رک جاتے ہیں، کیونکہ ڈر ہوتا ہے کہ کہیں ہماری صفائی بھی کسی کو بہانہ نہ لگنے لگے۔ پھر ایک وقت آتا ہے جب انسان تھک کر خاموش ہو جاتا ہے، نہ شکایت کرتا ہے، نہ وضاحت دیتا ہے، نہ کسی سے اپنے حق میں فیصلہ مانگتا ہے۔ بس دل ہی دل میں یہ سوچ کر سب اللہ کے حوالے کر دیتا ہے کہ جس نے نیت دیکھی ہے، وہ حقیقت بھی جانتا ہے۔ شاید اسی لیے سب سے زیادہ تکلیف غلط لوگوں سے نہیں، بلکہ اپنی سچائی کے غلط سمجھے جانے سے ہوتی ہے۔ انسان غلطی کر لے تو شاید خود کو معاف کر لے، مگر جب وہ بےقصور ہو کر بھی قصوروار بنا دیا جائے تو دل کے اندر ایک ایسی خاموشی اتر جاتی ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہوتا ہے۔ پھر انسان پہلے جیسا نہیں رہتا؛ ہنستا بھی ہے تو دل کہیں پیچھے اداس رہتا ہے، لوگوں میں بیٹھتا بھی ہے تو اندر سے اکیلا محسوس کرتا ہے۔ اور آخر میں بس یہی سیکھتا ہے کہ ہر کسی کو اپنی صفائی دینا ضروری نہیں، کچھ حقیقتیں وقت خود ثابت کر دیتا ہے۔ کیونکہ غلط لوگ چاہے جتنا شور مچا لیں، سچ کو ہمیشہ شور کی ضرورت نہیں ہوتی❤️🩹#fyp