@fad_writes: تارے کیسے توڑ کر لائے گا وہ تیری خاطر، جس نے پھول تجھے دلوائے قیمت کم کروا کے۔ وہ محبت بھی کیا محبت ہوگی، جو ہر خوشی کا حساب رکھے، جو گلاب کی خوشبو میں بھی دکاندار سے رعایت مانگے، اور پھر بڑے فخر سے کہے، دیکھو! تمہارے لیے پھول لایا ہوں۔ ہم نے تو چاہا تھا کہ تمہیں وہ شخص ملے جو تمہاری مسکراہٹ کی قیمت دنیا کی ہر دولت سے زیادہ جانے، جو تمہاری آنکھوں میں اداسی دیکھ کر اپنی راتیں بے سکون کر دے، جو تمہارے لیے چاند نہ توڑ سکے تو کم از کم چاندنی ضرور لے آئے۔ مگر جس نے محبت میں بھی دام کم کروائے ہوں، وہ بھلا ستاروں تک کیسے جائے گا؟ وہ تمہارے خوابوں کی قیمت بھی کسی دن لگائے گا، اور شاید تمہاری چاہت کو بھی اپنی استطاعت کے ترازو میں تولے گا۔ محبت تو وہ ہے جہاں پھول دیتے ہوئے قیمت نہیں پوچھی جاتی، جہاں تحفہ چھوٹا ہو مگر نیت بہت بڑی ہو، جہاں ایک معمولی سا گلاب بھی دل کی پوری کائنات بن جائے۔ تمہیں ایسے شخص کی ضرورت نہیں جو ہر چیز سستی تلاش کرے، تمہیں وہ چاہیے جو تمہاری خوشی کے لیے اپنی انا تک مہنگی کر دے۔ جو تمہارے لیے تارے نہ توڑ سکے وہ کوئی مجرم نہیں، مگر جو کوشش بھی نہ کرے اسے محبت کا دعویٰ نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ محبت میں تحفے کی قیمت نہیں دیکھی جاتی، محبت میں دیکھا جاتا ہے کہ دینے والے نے تمہیں کتنا خاص سمجھا۔ سو اگر کبھی کوئی تمہارے ہاتھ میں پھول رکھ کر کہے، یہ تمہارے لیے ہے، تو پھول کی قیمت مت پوچھنا، بس اس کی آنکھوں میں دیکھ لینا شاید وہاں تمہیں وہ محبت نظر آ جائے جو دنیا کے سارے تاروں سے زیادہ قیمتی ہو۔