@ali.mohsin.abbas_110: ہمارا مسئلہ کسی شخص کی زاتیات سے نہیں مگر جب انسان اپنے ہر کام کو دین بنا کر پیش کرے گا تو اس کے خلاف لسانی جہاد ہر مسلمان پر فرض ہے سو اس پیر کا نام پیر سید حسن گیلانی ہے اور مریدنی کا نام سونا مہر علی خان ہے جو کہ شادی شدہ ہے بقیہ مریدین کے لیے شیعہ / سنی مصادر سے چند ایک مشہور احادیث پیشِ خدمت ہیں عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "لأَنْ يُطْعَنَ فِي رَأْسِ أَحَدِكُمْ بِمِخْيَطٍ مِنْ حَدِيدٍ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمَسَّ امْرَأَةً لا تَحِلُّ لَهُ"۔ترجمہ: حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تم میں سے کسی کے سر میں لوہے کی سوئی (یا میخ) چبھو دی جائے، یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی ایسی عورت کو چھوئے جو اس کے لیے حلال نہیں ہے۔"(حوالہ: المعجم الکبیر للطبرانی، جلد 20، صفحہ 211؛ علامہ البانی نے اسے 'صحیح' قرار دیا ہے)۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عورتوں سے ہمیشہ زبانی بیعت لی:"وَمَا مَسَّتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ إِلا امْرَأَةً يَمْلِكُهَا"۔ترجمہ: "اور رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ نے کبھی کسی (غیر محرم) عورت کے ہاتھ کو نہیں چھوا، سوائے اس عورت کے جو آپ کے نکاح میں ہو۔"(حوالہ: صحیح بخاری، حدیث نمبر 5288)۔ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ (الإمام الباقر) عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ: "لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يُصَافِحَ امْرَأَةً لَيْسَتْ لَهُ مَحْرَماً إِلَّا مِنْ وَرَاءِ الثَّوْبِ وَلَا يَغْمِزْ كَفَّهَا"۔ترجمہ: امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: "کسی مرد کے لیے یہ حلال نہیں کہ وہ کسی ایسی عورت سے مصافحہ کرے (ہاتھ ملائے) جو اس کی محرم نہیں ہے، سوائے اس کے کہ کپڑے کے اوپر سے ہو اور وہ اس کی ہتھیلی کو نہ دبائے۔"(حوالہ: الکافی (للکلینی)، جلد 5، کتاب النکاح، باب مصافحۃ النساء، حدیث نمبر 1)۔ رسول اللہ ﷺ سے منقول طویل خطبے میں ذکر ہے:"مَنْ صَافَحَ امْرَأَةً حَرَاماً جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولًا ثُمَّ يُؤْمَرُ بِهِ إِلَى النَّارِ"۔ترجمہ: "جس نے کسی نامحرم عورت سے حرام مصافحہ کیا، وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے ہاتھ زنجیروں سے بندھے ہوں گے، پھر اسے جہنم کا حکم دے دیا جائے گا۔"(حوالہ: من لا يحضره الفقيه (للشیخ الصدوق)، جلد 4، صفحہ 14)۔ #foryoupage #shia #shiatiktok #foryoupage #shiastatus