@quranmajeed...4: بئر مُشَیْرِب کو بعض تاریخی حوالوں میں بئر الیَہوب کے نام سے بھی بیان کیا جاتا ہے۔ اس کنویں کی نسبت نبی کریم ﷺ کے غزوۂ عشیرہ کی جانب سفر کے تاریخی راستے سے جوڑی جاتی ہے۔ کتاب الروض الأنف میں ابن اسحاق کی روایت کے حوالے سے غزوۂ عشیرہ کے سفر کی تفصیل ملتی ہے۔ روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ بنو دینار کی گھاٹی سے گزرے، پھر فَیْفَاء الخَبّار اور بطحاء ابن ازہر کے مقام پر ایک درخت کے نیچے قیام فرمایا، جسے ذات الساق کہا جاتا تھا۔ وہاں آپ ﷺ نے نماز ادا فرمائی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ کھانا تناول فرمایا۔ اس کے بعد روایت میں ایک پانی کے مقام کا ذکر آتا ہے جسے المُشْتَرِب کہا گیا۔ وہاں سے پانی حاصل کرنے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے اپنا سفر جاری رکھا اور مختلف مقامات و وادیوں سے گزرتے ہوئے عُشَیْرہ پہنچے، جو وادیِ ینبع کے علاقے میں واقع تھا۔ عُشَیْرہ میں نبی کریم ﷺ نے کچھ عرصہ قیام فرمایا اور اسی دوران بنو مدلج اور ان کے حلیف بنو ضمرہ کے ساتھ معاہدہ بھی ہوا۔ اس سفر میں کوئی باقاعدہ جنگ پیش نہیں آئی اور بعد ازاں آپ ﷺ مدینہ منورہ واپس تشریف لے گئے۔ آج بئر مُشَیْرِب کی نشاندہی بعض تاریخی تحقیقات میں انہی قدیم روایات کے تناظر میں کی جاتی ہے۔ تاہم بئر مُشَیْرِب، بئر الیَہوب اور روایت میں مذکور المُشْتَرِب کی باہمی تعیین اور موجودہ جغرافیائی مقام کے بارے میں تاریخی تحقیق میں اختلاف پایا جا سکتا ہے۔ یہ مقامات سیرتِ نبوی ﷺ کے اُن تاریخی سفروں کی یاد دلاتے ہیں جن میں رسول اللہ ﷺ نے حکمت، صبر اور حسنِ معاملہ کے ساتھ دعوتِ اسلام کے پیغام کو آگے بڑھایا۔ #foryou #islamic #peace