"جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو مدینہ کی ہر چیز روشن ہو گئی۔" > (سنن ترمذی - صحیح حدیث) ایک اور روایت میں ہے: > حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: > *"مَا رَأَيْتُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ فَرِحُوا بِشَيْءٍ فَرَحَهُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ حِينَ قَدِمَ عَلَيْهِمْ"* > "میں نے اہلِ مدینہ کو کبھی کسی چیز پر اتنا خوش ہوتے نہیں دیکھا جتنا وہ رسول اللہ ﷺ کے مدینہ آنے پر خوش ہوئے تھے۔" > (صحیح بخاری) > حتیٰ کہ چھوٹے بچے اور بچیاں گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر یہ نعرہ لگا رہی تھیں: > *"جَاءَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، جَاءَ مُحَمَّدٌ"* > "محمد رسول اللہ ﷺ آ گئے، محمد آ گئے" > (صحیح بخاری) اور مشہور واقعہ: جب آپ ﷺ مدینہ میں داخل ہوئے تو *انصار نے آپ ﷺ کی اونٹنی کی نکیل پکڑنا چاہی* تو آپ ﷺ نے فرمایا: > *"خَلُّوا سَبِيلَهَا فَإِنَّهَا مَأْمُورَةٌ"* > "اس کی راہ چھوڑ دو، یہ اللہ کے حکم سے خود چل رہی ہے۔" > پھر وہ اونٹنی حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر کے سامنے بیٹھ گئی، اور آپ ﷺ نے وہیں قیام فرمایا۔ یہ وہ مبارک دن تھا جس سے مدینہ، مدینہ منورہ بن گیا۔#مُحَمَّدَصلىهِ_وَسَـــــلَّـمْ - @jamshed.3821852473349"/> "جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو مدینہ کی ہر چیز روشن ہو گئی۔" > (سنن ترمذی - صحیح حدیث) ایک اور روایت میں ہے: > حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: > *"مَا رَأَيْتُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ فَرِحُوا بِشَيْءٍ فَرَحَهُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ حِينَ قَدِمَ عَلَيْهِمْ"* > "میں نے اہلِ مدینہ کو کبھی کسی چیز پر اتنا خوش ہوتے نہیں دیکھا جتنا وہ رسول اللہ ﷺ کے مدینہ آنے پر خوش ہوئے تھے۔" > (صحیح بخاری) > حتیٰ کہ چھوٹے بچے اور بچیاں گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر یہ نعرہ لگا رہی تھیں: > *"جَاءَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، جَاءَ مُحَمَّدٌ"* > "محمد رسول اللہ ﷺ آ گئے، محمد آ گئے" > (صحیح بخاری) اور مشہور واقعہ: جب آپ ﷺ مدینہ میں داخل ہوئے تو *انصار نے آپ ﷺ کی اونٹنی کی نکیل پکڑنا چاہی* تو آپ ﷺ نے فرمایا: > *"خَلُّوا سَبِيلَهَا فَإِنَّهَا مَأْمُورَةٌ"* > "اس کی راہ چھوڑ دو، یہ اللہ کے حکم سے خود چل رہی ہے۔" > پھر وہ اونٹنی حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر کے سامنے بیٹھ گئی، اور آپ ﷺ نے وہیں قیام فرمایا۔ یہ وہ مبارک دن تھا جس سے مدینہ، مدینہ منورہ بن گیا۔#مُحَمَّدَصلىهِ_وَسَـــــلَّـمْ - @jamshed.3821852473349 - Tikwm"/> "جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو مدینہ کی ہر چیز روشن ہو گئی۔" > (سنن ترمذی - صحیح حدیث) ایک اور روایت میں ہے: > حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: > *"مَا رَأَيْتُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ فَرِحُوا بِشَيْءٍ فَرَحَهُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ حِينَ قَدِمَ عَلَيْهِمْ"* > "میں نے اہلِ مدینہ کو کبھی کسی چیز پر اتنا خوش ہوتے نہیں دیکھا جتنا وہ رسول اللہ ﷺ کے مدینہ آنے پر خوش ہوئے تھے۔" > (صحیح بخاری) > حتیٰ کہ چھوٹے بچے اور بچیاں گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر یہ نعرہ لگا رہی تھیں: > *"جَاءَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، جَاءَ مُحَمَّدٌ"* > "محمد رسول اللہ ﷺ آ گئے، محمد آ گئے" > (صحیح بخاری) اور مشہور واقعہ: جب آپ ﷺ مدینہ میں داخل ہوئے تو *انصار نے آپ ﷺ کی اونٹنی کی نکیل پکڑنا چاہی* تو آپ ﷺ نے فرمایا: > *"خَلُّوا سَبِيلَهَا فَإِنَّهَا مَأْمُورَةٌ"* > "اس کی راہ چھوڑ دو، یہ اللہ کے حکم سے خود چل رہی ہے۔" > پھر وہ اونٹنی حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر کے سامنے بیٹھ گئی، اور آپ ﷺ نے وہیں قیام فرمایا۔ یہ وہ مبارک دن تھا جس سے مدینہ، مدینہ منورہ بن گیا۔#مُحَمَّدَصلىهِ_وَسَـــــلَّـمْ - @jamshed.3821852473349"/>