@nii_.ka: دیار غیر میں کیسے تجھے صدا دیتے تو مل بھی جاتا تو آخر تجھے گنوا دیتے تمہی نے ہم کو سنایا نہ اپنا دکھ ورنہ دعا وہ کرتے کہ ہم آسماں ہلا دیتے ہمیں یہ زعم رہا اب کے وہ پکاریں گے انہیں یہ ضد تھی کہ ہر بار ہم صدا دیتے وہ تیرا غم تھا کہ تاثیر میرے لہجے کی کہ جس کو حال سناتے اسے رلا دیتے تمہیں بھلانا ہی اول تو دسترس میں نہیں جو اختیار بھی ہوتا تو کیا بھلا دیتے ہم اپنے بچوں سے کیسے کہیں کہ یہ گڑیا ہمارے بس میں جو ہوتی تو ہم دلا دیتے تمہاری یاد نے کوئی جواب ہی نہ دیا مرے خیال کے آنسو رہے صدا دیتے سماعتوں کو میں تا عمر کوستا سیدؔ وہ کچھ نہ کہتے مگر ہونٹ تو ہلا دیتے ۔ ۔ ۔ وصی شاہ #fyp #explore #poetry #trending