@ilyieu0_:

Nala ナラ
Nala ナラ
Open In TikTok:
Region: JP
Wednesday 23 September 2026 08:26:38 GMT
28
2
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @ilyieu0_, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

⚖️ خواجہ فرید یونیورسٹی — 2023 سے آج تک سوال برقرار آخر کب تک طلبہ خاموشی سے یہ سب برداشت کرتے رہیں گے؟ 2023 میں خواجہ فرید یونیورسٹی کے ایک معاملے میں ایک طالبہ سے متعلق انتہائی سنگین صورتحال سامنے آئی تھی۔ اُس وقت سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق ایک طالبہ کو اسکالرشپ کی رقم کے معاملے پر مبینہ طور پر دباؤ کا سامنا کرنا پڑا اور اسے ایک کمرے میں روکنے کا الزام بھی سامنے آیا، جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے طالبہ کو بازیاب کروایا۔ اس معاملے میں متاثرہ فریق کی جانب سے قانونی چارہ جوئی اور عدالت سے رجوع کیا گیا، جبکہ کیس کی پیروی رانا اویس علی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ، ڈسٹرکٹ رحیم یار خان نے کی۔ قانونی کارروائی کے نتیجے میں عدالت سے متعلقہ یونیورسٹی حکام، بشمول وائس چانسلر، سیکیورٹی انچارج اور متعلقہ HOD کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے احکامات بھی حاصل کیے گئے۔ یہ صرف ایک مقدمہ نہیں تھا۔ یہ سوال تھا کہ: کیا ایک طالب علم اپنے ہی تعلیمی ادارے میں محفوظ ہے؟ کیا طالب علم اپنے جائز حقوق کے لیے آواز اٹھا سکتا ہے؟ کیا کسی یونیورسٹی میں انتظامی اختیار رکھنے والے افراد طلبہ پر ایسا دباؤ ڈال سکتے ہیں جس کی شکایت کرنے پر بھی انہیں خوف محسوس ہو؟ اور سب سے اہم سوال: اگر 2023 کے واقعے کے بعد بھی آج ایسے ہی الزامات اور شکایات سامنے آ رہی ہیں تو پھر تبدیلی کہاں آئی؟ آج دوبارہ سوشل میڈیا پر ایسے اسکرین شاٹس گردش کر رہے ہیں جن میں ایک طالبہ اور مبینہ طور پر یونیورسٹی سے وابستہ ایک پروفیسر کے درمیان گفتگو دکھائی دیتی ہے۔ گفتگو کے بارے میں طالبہ کی جانب سے مبینہ طور پر نجی ملاقات کے لیے دباؤ اور پریشانی کا اظہار سامنے آتا ہے۔ ان اسکرین شاٹس کی مکمل صداقت اور پسِ منظر کا تعین متعلقہ تحقیقات کے ذریعے ہونا چاہیے، لیکن اگر کسی طالبہ کی جانب سے ہراسانی، دباؤ یا اختیارات کے غلط استعمال کی شکایت سامنے آتی ہے تو اسے نظر انداز کرنا کسی بھی صورت میں مناسب نہیں۔ سوال یونیورسٹی انتظامیہ سے ہے: کیا 2023 کے واقعے کے بعد کوئی ایسا مؤثر نظام بنایا گیا جس سے طلبہ خود کو محفوظ سمجھ سکیں؟ اگر شکایات دوبارہ سامنے آ رہی ہیں تو ان کی شفاف تحقیقات کب ہوں گی؟ طلبہ کی شکایات کون سنے گا؟ اگر کوئی طالبہ کسی استاد، افسر یا انتظامی عہدیدار کے خلاف شکایت کرے تو اسے غیر جانبدارانہ فورم کون فراہم کرے گا؟ آخر کب تک بچے اور بچیاں خوف، دباؤ یا مبینہ ہراسانی کی شکایات لے کر گھومتے رہیں گے؟ یونیورسٹی صرف عمارت، کلاس رومز اور ڈگریوں کا نام نہیں۔ یونیورسٹی ایک ایسا ادارہ ہونا چاہیے جہاں طالب علم اپنے مستقبل کی تعمیر کے لیے آئے، نہ کہ اپنے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹانے پر مجبور ہو۔ اگر کسی معاملے میں کوئی الزام سامنے آتا ہے تو نہ کسی شخص کو بغیر تحقیق کے مجرم قرار دینا درست ہے اور نہ ہی کسی طالب علم کی شکایت کو بغیر تحقیق کے نظر انداز کرنا۔ ضرورت صرف ایک چیز کی ہے: شفاف تحقیقات، غیر جانبدارانہ کارروائی اور قانون کے مطابق انصاف۔ 2023 میں بھی سوال اٹھے تھے۔ آج بھی سوال موجود ہیں۔ کیا اس بار کوئی پوچھنے والا ہوگا؟ ⚖️ اس کیس کی قانونی پیروی رانا اویس علی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ ڈسٹرکٹ رحیم یار خان #KFUEIT #StudentRights #طلبہ_کی_حفاظت #HarassmentAwareness #UniversityAccountability
⚖️ خواجہ فرید یونیورسٹی — 2023 سے آج تک سوال برقرار آخر کب تک طلبہ خاموشی سے یہ سب برداشت کرتے رہیں گے؟ 2023 میں خواجہ فرید یونیورسٹی کے ایک معاملے میں ایک طالبہ سے متعلق انتہائی سنگین صورتحال سامنے آئی تھی۔ اُس وقت سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق ایک طالبہ کو اسکالرشپ کی رقم کے معاملے پر مبینہ طور پر دباؤ کا سامنا کرنا پڑا اور اسے ایک کمرے میں روکنے کا الزام بھی سامنے آیا، جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے طالبہ کو بازیاب کروایا۔ اس معاملے میں متاثرہ فریق کی جانب سے قانونی چارہ جوئی اور عدالت سے رجوع کیا گیا، جبکہ کیس کی پیروی رانا اویس علی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ، ڈسٹرکٹ رحیم یار خان نے کی۔ قانونی کارروائی کے نتیجے میں عدالت سے متعلقہ یونیورسٹی حکام، بشمول وائس چانسلر، سیکیورٹی انچارج اور متعلقہ HOD کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے احکامات بھی حاصل کیے گئے۔ یہ صرف ایک مقدمہ نہیں تھا۔ یہ سوال تھا کہ: کیا ایک طالب علم اپنے ہی تعلیمی ادارے میں محفوظ ہے؟ کیا طالب علم اپنے جائز حقوق کے لیے آواز اٹھا سکتا ہے؟ کیا کسی یونیورسٹی میں انتظامی اختیار رکھنے والے افراد طلبہ پر ایسا دباؤ ڈال سکتے ہیں جس کی شکایت کرنے پر بھی انہیں خوف محسوس ہو؟ اور سب سے اہم سوال: اگر 2023 کے واقعے کے بعد بھی آج ایسے ہی الزامات اور شکایات سامنے آ رہی ہیں تو پھر تبدیلی کہاں آئی؟ آج دوبارہ سوشل میڈیا پر ایسے اسکرین شاٹس گردش کر رہے ہیں جن میں ایک طالبہ اور مبینہ طور پر یونیورسٹی سے وابستہ ایک پروفیسر کے درمیان گفتگو دکھائی دیتی ہے۔ گفتگو کے بارے میں طالبہ کی جانب سے مبینہ طور پر نجی ملاقات کے لیے دباؤ اور پریشانی کا اظہار سامنے آتا ہے۔ ان اسکرین شاٹس کی مکمل صداقت اور پسِ منظر کا تعین متعلقہ تحقیقات کے ذریعے ہونا چاہیے، لیکن اگر کسی طالبہ کی جانب سے ہراسانی، دباؤ یا اختیارات کے غلط استعمال کی شکایت سامنے آتی ہے تو اسے نظر انداز کرنا کسی بھی صورت میں مناسب نہیں۔ سوال یونیورسٹی انتظامیہ سے ہے: کیا 2023 کے واقعے کے بعد کوئی ایسا مؤثر نظام بنایا گیا جس سے طلبہ خود کو محفوظ سمجھ سکیں؟ اگر شکایات دوبارہ سامنے آ رہی ہیں تو ان کی شفاف تحقیقات کب ہوں گی؟ طلبہ کی شکایات کون سنے گا؟ اگر کوئی طالبہ کسی استاد، افسر یا انتظامی عہدیدار کے خلاف شکایت کرے تو اسے غیر جانبدارانہ فورم کون فراہم کرے گا؟ آخر کب تک بچے اور بچیاں خوف، دباؤ یا مبینہ ہراسانی کی شکایات لے کر گھومتے رہیں گے؟ یونیورسٹی صرف عمارت، کلاس رومز اور ڈگریوں کا نام نہیں۔ یونیورسٹی ایک ایسا ادارہ ہونا چاہیے جہاں طالب علم اپنے مستقبل کی تعمیر کے لیے آئے، نہ کہ اپنے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹانے پر مجبور ہو۔ اگر کسی معاملے میں کوئی الزام سامنے آتا ہے تو نہ کسی شخص کو بغیر تحقیق کے مجرم قرار دینا درست ہے اور نہ ہی کسی طالب علم کی شکایت کو بغیر تحقیق کے نظر انداز کرنا۔ ضرورت صرف ایک چیز کی ہے: شفاف تحقیقات، غیر جانبدارانہ کارروائی اور قانون کے مطابق انصاف۔ 2023 میں بھی سوال اٹھے تھے۔ آج بھی سوال موجود ہیں۔ کیا اس بار کوئی پوچھنے والا ہوگا؟ ⚖️ اس کیس کی قانونی پیروی رانا اویس علی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ ڈسٹرکٹ رحیم یار خان #KFUEIT #StudentRights #طلبہ_کی_حفاظت #HarassmentAwareness #UniversityAccountability

About