@cartoon.0198: ضمیر انسانی وجود کا وہ اندرونی قطب نما ہے جو صحیح اور غلط کی تمیز سکھاتا ہے۔ مگر مادیت، لالچ اور دنیاوی دوڑ میں اکثر انسان کا ضمیر سو جاتا ہے۔ جب انسان اپنے فائدے کے لیے دوسروں کے حقوق پامال کرنے لگے، سچائی سے منہ موڑ لے اور اپنے فیصلوں پر شرمندگی محسوس کرنا چھوڑ دے، تو یہ ضمیر کی موت کی علامت ہے۔ سوئے ہوئے ضمیر کو جگانے کے لیے خود احتسابی، موت کی یاد اور انسانی درد کا احساس ضروری ہے۔ جب تک انسان اپنے اندر کے انسان کو زندہ نہیں رکھتا، وہ حقیقی کامیابی اور اندرونی سکون حاصل نہیں کر سکتا۔