@pachar113: تیرے پیچھے ملال نکلیں گے بے تحاشا وبال نکلیں گے وقت رہتا ہے تھوڑا بننے میں جیسے نکلے کمال نکلیں گے تیری یادوں کی حوالات سے ہم سوچتے ہیں محال نکلیں گے وہ جو نمبر بلاک کرتا ہے اتنے سارے خیال نکلیں گے تھوڑا تھوڑا نقاب اترے گا خوبصورت سے گال نکلیں گے آؤ! دیکھو گے جیب کو میری؟ سارے سکے حلال نکلیں گے یہ بھی جادو گری ہے کرتب میں ایک کر کے رومال نکلیں گے #tiktok #foryou #benambejan7266 #fyp #trending

Fahim Ali khuhsk 7266
Fahim Ali khuhsk 7266
Open In TikTok:
Region: PK
Wednesday 23 September 2026 14:30:17 GMT
13322
142
4
11

Music

Download

Comments

user5106361662980
masoom _ bachi👀🤭 :
badnam Jo huy to kia naam na ho ga
2026-09-23 15:27:53
2
pachar113
Fahim Ali khuhsk 7266 :
یہ شعر اردو ادب کے مشہور اور معروف شاعر حفیظ ہوشیار پوری کا ہے (بعض جگہوں پر یہ شعر دیگر شعرا سے بھی منسوب ملتا ہے، لیکن حفیظ ہوشیار پوری کی غزل میں یہ بیت شامل ہے)۔ شعر کا ترجمہ اور آسان مطلب: شعر کا بنیادی مطلب یہ ہے کہ جب لوگ یا مخالفین ہمیں رسوا اور بدنام کرنے کی کوشش کر رہے تھے، تو وہ سمجھے کہ وہ ہمیں تباہ کر رہے ہیں۔ لیکن اس بدنامی نے الٹا ہمارے لیے فائدہ پہنچایا۔ جن جگہوں یا محفلوں میں ہمیں کوئی جانتا بھی نہیں تھا (جہاں ہم گمنام تھے)، وہاں بھی لوگوں نے ہمارا ذکر کرنا شروع کر دیا اور یوں غیر ارادی طور پر ہمارا نام اور پہچان ہر جگہ پھیل گئی۔ شاعر نے یہ الفاظ کیوں اور کس کے لیے کہے؟ 1. بدخواہوں اور مخالفین کے لیے (حسد کرنے والے): زندگی میں جب کوئی شخص ترقی کرتا ہے يا اپنی ایک الگ راہ بناتا ہے، تو اس کے حسد کرنے والے اور دشمن اسے نیچا دکھانے کے لیے اس کے خلاف منفی باتیں، افواہیں یا بدنامی پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ شاعر ان بدخواہوں پر طنز کرتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ تم نے میری بدنامی کا جو جال بچھایا تھا، وہ میرے لیے نقصان دہ ثابت ہونے کے بجائے مفت کی مشہوری (Publicity) بن گیا۔ 2. بدنامی کے مثبت رخ (Negative Publicity) کی عکاسی: شاعر نے ایک نفسیاتی اور معاشرتی حقیقت بیان کی ہے کہ منفی خبریں یا باتیں بہت تیزی سے پھیلتی ہیں۔ جب مخالفین کسی کے خلاف کوئی بات کرتے ہیں، تو جو لوگ اس شخص کو پہلے سے نہیں بھی جانتے تھے، وہ بھی اس کے بارے میں جاننے اور اس کی اصل حقیقت معلوم کرنے کا تجسس رکھنے لگتے ہیں۔ اس طرح وہ بدنام کرنے کے چکر میں اس بندے کو مشہور (Famous) کر دیتے ہیں۔ 3. شکوہ اور خود داری (Self-Respect): شاعر اپنے حاسدوں اور دشمنوں کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ تمہاری سازشیں اور منفی حربے مجھے توڑ نہیں سکے، بلکہ تمہاری وجہ سے میری پہچان اور نام و نشان مزید دور دور تک پہنچ گیا۔ مختصر خلاصہ: شعر میں انتہائی خوبصورتی اور طنز کے ساتھ یہ بات کہی گئی ہے کہ کبھی کبھی دشمنوں کی پھیلاائی ہوئی بدنامی انسان کو ان حلقوں اور جگہوں تک پہنچا دیتی ہے جہاں اسے کوئی نہیں جانتا تھا، اور یوں بدنامی بھی اس کے لیے شہرت اور پہچان کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
2026-09-23 18:10:36
1
pachar113
Fahim Ali khuhsk 7266 :
dua thanks for repost my video
2026-09-23 17:12:22
1
To see more videos from user @pachar113, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos


About