Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
API
Home
How To Use
Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
Home
Detail
@thoxinh_pp: #dance #xuhuongtiktok #fyp
Thỏ Mây 🤍
Open In TikTok:
Region: VN
Wednesday 23 September 2026 14:38:26 GMT
34583
617
10
18
Music
Download
No Watermark .mp4 (
1.05MB
)
No Watermark(HD) .mp4 (
1.05MB
)
Watermark .mp4 (
1.19MB
)
Music .mp3
Comments
Anh yêu Em :
Em đáng yêu quá
2026-09-25 08:19:55
0
🗿 :
Ai
2026-09-23 15:33:41
0
Đoàn Xuân Bách :
🥰
2026-09-23 15:42:02
0
Điển trường TQ :
2026-09-23 16:23:32
0
Hoàng Ngô :
qua nt với a nào
2026-09-23 17:28:54
0
Minh Nhỏ :
tướng này chịu sao nổi
2026-09-23 17:52:18
0
Minh Nhỏ :
mlemlem
2026-09-23 17:52:45
0
út lâm 68 :
[Ấm lòng][Ấm lòng][Ấm lòng]
2026-09-24 00:32:16
0
Anh yêu Em :
🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰
2026-09-25 08:20:00
0
Lọt Thachh :
🥰
2026-10-15 15:45:07
0
To see more videos from user @thoxinh_pp, please go to the Tikwm homepage.
Other Videos
ባሌን ልፈታው ገብቸ አፍቅሬው ወጣሁ !
İkiz beyinler #depaul #parades #arjantin #wc #dostluk
تصوف میں تزکیۂ نفس سے مراد انسان کے باطن کو برائیوں، تکبر، حسد، ریا، حرص اور نفسانی خواہشات سے پاک کرنے کی کوشش ہے۔ صوفیانہ تعلیمات میں نفس کے مختلف مراتب بیان کیے جاتے ہیں، جن کے ذریعے سالک کے باطن کی اصلاح، اخلاق کی تبدیلی اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کے سفر کو سمجھایا جاتا ہے۔ یہ یاد رہے کہ یہ مراتب ہر انسان میں لازماً ایک ہی ترتیب سے ظاہر نہیں ہوتے، اور صرف چند کیفیات محسوس کرنے سے کسی شخص کا روحانی مقام طے نہیں کیا جا سکتا۔ سات مراتب کی اصطلاحات اور ترتیب بھی مختلف صوفی سلسلوں میں کچھ مختلف ملتی ہیں۔ اس مرتبے میں انسان کی خواہشات، غصہ، حرص، حسد، تکبر اور انا اس پر غالب رہتے ہیں۔ وہ اپنی غلطی کو بھی درست ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے، دوسروں کو قصوروار ٹھہراتا ہے اور اپنی خواہش پوری کرنے کے لیے حق و باطل کی تمیز کھو سکتا ہے۔ کیفیت: خواہشات کی غلامی، غفلت اور خود پسندی۔ مجاہدہ: توبہ، خواہشات پر قابو، عبادت اور اپنے اعمال کا محاسبہ۔ قرآنی حوالہ: سورۃ یوسف، آیت 53۔ 2۔ نفسِ لوّامہ — ضمیر کی بیداری اس مرحلے میں انسان کے اندر ضمیر بیدار ہونے لگتا ہے۔ غلطی کے بعد دل ملامت کرتا ہے، ندامت پیدا ہوتی ہے اور انسان سوچتا ہے کہ میں نے ایسا کیوں کیا؟ کبھی وہ نفس کے سامنے ہار جاتا ہے، پھر توبہ کرتا ہے اور دوبارہ کوشش کرتا ہے۔ کیفیت: ندامت، کشمکش، خود احتسابی اور اصلاح کی طلب۔ مجاہدہ: مایوس ہوئے بغیر توبہ پر قائم رہنا اور غلطی کے اسباب کو پہچاننا۔ قرآنی حوالہ: سورۃ القیامۃ، آیت 2 اس مرحلے میں انسان اپنے اندر کی برائیوں کو زیادہ واضح طور پر پہچاننے لگتا ہے۔ نیکی، رحم، سخاوت، سچائی اور دوسروں کی مدد کی طرف رغبت بڑھتی ہے۔ تاہم ہر اندرونی خیال یا احساس کو الہام سمجھنا درست نہیں؛ اسے قرآن و سنت اور عقلِ سلیم کی کسوٹی پر پرکھنا ضروری ہے۔ کیفیت: نیکی کی طلب، باطنی بیداری اور اپنے عیبوں کی پہچان۔ خطرہ: اپنی نیکیوں پر فخر کرنا اور خود کو دوسروں سے برتر سمجھنا۔ مجاہدہ: اخلاص، خدمتِ خلق، عاجزی اور نیت کی اصلاح۔ قرآنی حوالہ: سورۃ الشمس، آیات 7–10 4۔ نفسِ مطمئنہ — قلب کا اطمینان اس مقام کی بنیادی علامت یہ ہے کہ انسان کا دل اللہ کی یاد اور اس پر بھروسے سے سکون پانے لگتا ہے۔ آزمائشیں ختم نہیں ہوتیں، غم بھی آتا ہے اور آنکھیں بھی نم ہوتی ہیں، مگر انسان مصیبت میں بھی اپنے ایمان، اخلاق اور ذمہ داریوں سے دست بردار نہیں ہوتا۔ کیفیت: قلبی سکون، توکل، صبر اور ذکرِ الٰہی سے انس۔ مجاہدہ: عبادت میں استقامت، شکر، صبر اور اللہ سے تعلق مضبوط کرنا۔ قرآنی حوالہ: سورۃ الفجر، آیات 27–30 5۔ نفسِ راضیہ. رضا کی کیفیت اس مرتبے میں انسان اللہ کے فیصلوں پر راضی رہنے کی تربیت پاتا ہے۔ اسے اپنی ہر خواہش پوری ہونے کی ضد نہیں رہتی۔ وہ نعمت پر شکر کرتا ہے اور آزمائش میں حکمت تلاش کرتے ہوئے صبر اختیار کرتا ہے۔ کیفیت: قناعت، رضا، شکر اور نتیجے کو اللہ کے سپرد کرنا۔ اہم بات: رضا کا مطلب ظلم کو قبول کرنا یا ناانصافی کے خلاف کوشش چھوڑ دینا نہیں؛ انسان حق کے لیے کوشش کرتے ہوئے بھی اللہ پر بھروسہ رکھ سکتا ہے۔ قرآنی اشارہ: سورۃ الفجر، آیت 28 میں رَاضِيَةً کے الفاظ آتے ہیں۔ 6۔ نفسِ مرضیہ.مقبولیت اور اچھے کردار کی علامت صوفیانہ اصطلاح میں یہ وہ مرتبہ ہے جس میں بندہ اللہ کی رضا کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے اخلاق میں نرمی، انصاف، امانت، رحم اور مخلوق کے لیے خیر خواہی نمایاں ہونے لگتی ہے۔ کیفیت: حسنِ اخلاق، اخلاص، خدمتِ خلق اور عاجزی۔ خطرہ: یہ خیال پیدا ہونا کہ میں اللہ کا مقبول بندہ بن چکا ہوں۔ حقیقی سالک اپنے مقام کے دعوے کے بجائے اپنی اصلاح میں مشغول رہتا ہے۔ قرآنی اشارہ: سورۃ الفجر، آیت 28 میں مَرْضِيَّةً کے الفاظ آتے ہیں۔ 7۔ نفسِ کاملہ. روحانی پختگی اور تزکیے کی تکمیل بعض صوفیانہ سلسلوں میں اسے نفسِ کاملہ اور بعض میں نفسِ صافیہ کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد روحانی پختگی، اخلاقی پاکیزگی اور بندگی میں استقامت کی اعلیٰ کیفیت ہے۔ انسان دنیا کے معاملات میں رہتے ہوئے بھی اپنی نیت، کردار اور اللہ کے حقوق و بندوں کے حقوق کا خیال رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ کیفیت: عاجزی، اخلاص، حکمت، عدل اور مخلوق کے لیے خیر خواہی۔ اصل پہچان: شہرت، کشف، خواب یا غیر معمولی تجربات نہیں، بلکہ اچھا کردار، سچی بندگی اور مسلسل اصلاح۔ یہ بھی یاد رہے کہ نفسِ کاملہ کی اصطلاح سات مراتب کی ہر ترتیب میں یکساں نہیں؛ بعض سلسلے ساتویں مرتبے کو نفسِ صافیہ کہتے ہیں۔ 🌙 سسی کے لیے سب سے اہم بات نفس کے مراتب محض ناموں یا روحانی کیفیات کی فہرست نہیں، بلکہ اپنے باطن کو جانچنے کا ایک صوفیانہ طریقہ ہیں۔ انسان ایک معاملے میں صبر والا اور دوسرے میں غصے کا شکار ہو سکتا ہے؛ اسی لیے اپنے بارے میں قطعی روحانی درجہ مقرر کرنے کے بجائے مسلسل محاسبہ زیادہ مفید ہے۔ سسی بنتِ الست✍️
Mấy bà đã tìm được chân ái kem chống nắng cho da dầu mụn chưa ##Sumdfine##KemChongNang##BaoVeToanDien
+212 782‑590893 #المغرب🇲🇦تونس🇹🇳الجزائر🇩🇿تركيا🇹🇷_العراق🇮🇶 #فرانسا_ايطاليا_بيلجكا_المغرب🇨🇵🇮🇹🇲🇦🇩🇪 #الجالية_المغربية_في_كل_مكان💚 #هولندا_امستردام_اوترخت_لاهاي_ورتردام #المانيا_السويد_النمسا_النروج_دينيمارك
About
Robot
API
Legal
Privacy Policy