@hassankhan5530: کچھ جدائیاں ایسی ہوتی ہیں جنہیں الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں ہوتا، خاص طور پر جب کوئی اپنا، وہ بھی کم عمری میں، ہمیشہ کے لیے ہم سے جدا ہو جائے۔ ایسے وقت میں دل کے پاس سوال بہت ہوتے ہیں، مگر جواب بہت کم۔ ہم یہ نہیں جان سکتے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی اپنے کو اس وقت کیوں واپس بلایا، کیونکہ اُس کی حکمت اور اُس کے فیصلوں کا پورا علم صرف اُسی کو ہے۔ لیکن ہم اتنا ضرور جانتے ہیں کہ زندگی بھی اُسی کی عطا ہے، موت بھی اُسی کے اختیار میں ہے، اور ہر جان کو ایک دن اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ ہم اپنے پیاروں کو ہمیشہ اپنے پاس نہیں رکھ سکتے، لیکن اُن کی محبت، اُن کی مسکراہٹیں، اُن کی باتیں اور اُن کی خوبصورت یادیں ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ غم شاید اپنی شکل بدل لے، مگر سچی محبت کبھی ختم نہیں ہوتی۔ ایسے موقع پر انسان صرف صبر کی بات کر سکتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ صبر بھی اللہ ہی عطا فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ غم زدہ دلوں کو اپنی رحمت سے سنبھالے، والدین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، اُن کے دلوں کو سکون دے، اور اُن کے بچھڑے ہوئے پیارے کی مغفرت فرماتے ہوئے اُس کے درجات بلند فرمائے۔ قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے: "بے شک ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔" (سورۃ البقرہ: 156) اور یہی یقین انسان کے ٹوٹے ہوئے دل کو ایک امید دیتا ہے کہ یہ جدائی آخری منزل نہیں؛ ایک دن ہم سب اپنے رب کے سامنے جمع ہوں گے۔ اللہ اُن تمام والدین کو اپنی خاص رحمت میں رکھے جو اپنے جوان بچوں کی جدائی کا بوجھ اٹھا رہے ہیں، اُن کے آنسوؤں کو سکون میں بدل دے، اُن کے دلوں کو مضبوط کرے، اور اُنہیں وہ صبر عطا فرمائے جو صرف اُسی کی طرف سے آتا ہے۔ اللہ اُن کے پیارے کو اپنی رحمت میں جگہ دے، اور اُن کے لیے اس دنیا کی جدائی کو آخرت کی ملاقات کی امید بنا دے۔ آمین یا رب العالمین۔@👑 𝓓𝓾𝓻𝓻𝓪𝓷𝓲 👑