@therawi_: دیواروں پر لگی کالک کو لاکھ دھویا جائے، جلنے کی بو برسوں تک اس عمارت سے نہیں جاتی۔ معافی دراصل ایک سمجھوتہ ہے۔ یہ آگ کو مزید پھیلنے سے تو روک لیتی ہے، لیکن جو چھت گر چکی ہو، اسے دوبارہ کھڑا نہیں کر سکتی۔ ہم اکثر یہ توقع کرتے ہیں کہ ایک ندامت بھرا جملہ اس ساری تباہی کا ازالہ کر دے گا جو ہمارے اپنے ہاتھوں ہوئی ہے۔ مگر نقصان کا ایک ٹھوس وجود ہوتا ہے۔ لفظ چاہے کتنے ہی سچے کیوں نہ ہوں، وہ گری ہوئی اینٹوں کی جگہ نہیں لے سکتے۔ بھروسے کے ٹوٹنے اور بکھرنے کا عمل جسمانی اور نفسیاتی ہوتا ہے، اور اسے ٹھیک ہونے کے لیے محض ہمدردی نہیں، دوبارہ تعمیر کی طویل اذیت درکار ہوتی ہے۔ کچھ زخم معافی کے دائرے سے باہر ہوتے ہیں۔ وہ بس وقت کے ساتھ سہنے پڑ جاتے ہیں۔ . . . . . #BrokenTrust #UrduAdab #Falsafa #LifeLessonsUrdu #TheRawiQuotes