@catlife669: It’s literally the cats brush now. Haha. 🤣 #hairbrush #cats #owningcats #sillycat

Catlife669
Catlife669
Open In TikTok:
Region: US
Thursday 24 September 2026 00:51:23 GMT
33
3
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @catlife669, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

پنجاب میں عوام کے ٹیکس کے پیسوں پر کڑا پہرا اور احتساب کے عمل کا سلسلہ جاری،  پبلک اکاؤنٹس  کمیٹی میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال بہاولنگر کی آڈٹ پیرا رپورٹ کارروائی کے دوران ہوش ربا انکشافات سامنے آئے کہ کس طرح ماضی میں ہسپتال انتظامیہ نے قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے کوٹیشنز ورک کے نام پر لوٹ مار کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کر رکھا تھا، جس پر کمیٹی کے چیئرمین چوہدری احمد اقبال نے حیرت سے  پوری کمیٹی کے سامنے بے ضابطگیوں کی ساری کہانی کھول کر رکھ دی۔ آڈٹ پیرا رپورٹ  کے مطابق ہسپتال میں  فنڈز نکالنے کا یہ کھیل ایک جنریٹر کی مرمت سے شروع ہوا۔ جنریٹر کو ٹھیک کرنے اور اس کے اسپیئر پارٹس کی تبدیلی کا بہانہ بنا کر ٹینڈر کے بغیر روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں روپے کی الگ الگ کوٹیشنز تیار کی گئیں۔ جب اس راستے سے فنڈز نکلوانے کا چسکا لگا تو کھیل کو مزید آگے بڑھایا گیا اور ہسپتال کے لیے پنکھے، فریج اور واٹر کولرز کی خریداری کے نام پر متعدد نجی فرموں اور فرنٹ مین ٹریڈرز کو کوٹیشنز کے ذریعے لاکھوں روپے کی ادائیگیاں کی گئیں، ہسپتال کے لیے نئی بیڈ شیٹس خریدنے کے نام پر کوٹیشنز پاس کروائی گئیں۔ اس کے فوری بعد انہی بیڈ شیٹس کی دھلائی (واشنگ) کے نام پر الگ سے فرضی بلز پر  لاکھوں روپے نکالے گئے۔ چادروں کی دھلائی کے بعد ان چادروں پر ہسپتال کا مونوگرام (Monogram) لگانے کا انوکھا بہانہ گھڑا گیا اور مونوگرام پرنٹنگ کے نام پر ایک بار پھر کوٹیشنز کے ذریعے سرکاری خزانے پر ہاتھ صاف کیا گیا۔ حد تو یہ ہے کہ اس کاغذی کارروائی کے فوراً بعد
پنجاب میں عوام کے ٹیکس کے پیسوں پر کڑا پہرا اور احتساب کے عمل کا سلسلہ جاری، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال بہاولنگر کی آڈٹ پیرا رپورٹ کارروائی کے دوران ہوش ربا انکشافات سامنے آئے کہ کس طرح ماضی میں ہسپتال انتظامیہ نے قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے کوٹیشنز ورک کے نام پر لوٹ مار کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کر رکھا تھا، جس پر کمیٹی کے چیئرمین چوہدری احمد اقبال نے حیرت سے پوری کمیٹی کے سامنے بے ضابطگیوں کی ساری کہانی کھول کر رکھ دی۔ آڈٹ پیرا رپورٹ کے مطابق ہسپتال میں فنڈز نکالنے کا یہ کھیل ایک جنریٹر کی مرمت سے شروع ہوا۔ جنریٹر کو ٹھیک کرنے اور اس کے اسپیئر پارٹس کی تبدیلی کا بہانہ بنا کر ٹینڈر کے بغیر روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں روپے کی الگ الگ کوٹیشنز تیار کی گئیں۔ جب اس راستے سے فنڈز نکلوانے کا چسکا لگا تو کھیل کو مزید آگے بڑھایا گیا اور ہسپتال کے لیے پنکھے، فریج اور واٹر کولرز کی خریداری کے نام پر متعدد نجی فرموں اور فرنٹ مین ٹریڈرز کو کوٹیشنز کے ذریعے لاکھوں روپے کی ادائیگیاں کی گئیں، ہسپتال کے لیے نئی بیڈ شیٹس خریدنے کے نام پر کوٹیشنز پاس کروائی گئیں۔ اس کے فوری بعد انہی بیڈ شیٹس کی دھلائی (واشنگ) کے نام پر الگ سے فرضی بلز پر لاکھوں روپے نکالے گئے۔ چادروں کی دھلائی کے بعد ان چادروں پر ہسپتال کا مونوگرام (Monogram) لگانے کا انوکھا بہانہ گھڑا گیا اور مونوگرام پرنٹنگ کے نام پر ایک بار پھر کوٹیشنز کے ذریعے سرکاری خزانے پر ہاتھ صاف کیا گیا۔ حد تو یہ ہے کہ اس کاغذی کارروائی کے فوراً بعد "فائن کوالٹی کی بیڈ شیٹس" (اعلیٰ معیار کی چادریں) خریدنے کے نام پر ایک اور نئی کوٹیشن تیار کر کے فنڈز اڑا دیے گئے، یعنی ایک ہی بیڈ شیٹ کی خریداری، پھر دھلائی، پھر مونوگرام اور پھر فائن کوالٹی کا نام لے کر بار بار فنڈز کی نکاسی کی جاتی رہی۔ Chairman Public Accounts committee Ch Ahmed Iqbal remarks on District headquarter hospital DHQ Bahawalnagar #fypシ #breakingnews #trending #fyp #viral

About