یار، آج کل میں یہ بات کہتا ہوں کہ لڑکیوں اور بچیوں کے لیے ہوم اسکولنگ ایک بہت اچھا طریقہ ہونا چاہیے۔ کیونکہ جیسے ہی بچیاں گھر سے باہر نکلتی ہیں تو مختلف قسم کے خطرات بھی سامنے آتے ہیں۔ کم عمر بچیوں کے لیے ہراسانی اور زیادتی کا خطرہ ہوتا ہے، جبکہ بڑی ہونے پر غیر ضروری میل جول، افیئرز اور ایسے دیگر مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں جن سے والدین اپنی بچیوں کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔
اسی طرح کلچر ڈے اور مختلف فنکشنز کے نام پر مخلوط پروگرام ہوتے ہیں، جہاں میل جول بڑھتا ہے اور بہت سی ایسی چیزیں سامنے آتی ہیں جن سے بہت سے والدین اپنی بچیوں کو دور رکھنا چاہتے ہیں۔
اس لیے میرے خیال میں آج کے دور میں ہوم اسکولنگ ایک بہترین متبادل ہے۔ اب ہوم اسکولنگ کے بہت سے طریقے موجود ہیں، آن لائن تعلیم کے ذرائع ہیں، اور بچے گھر بیٹھ کر باقاعدہ تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔ بہت سے علماء اور دینی شخصیات، مثلاً طارق مسعود صاحب اور دیگر حضرات بھی اپنے بچوں کی ہوم اسکولنگ کرواتے ہیں۔
ہم خود بھی اپنے بچوں کی تعلیم کا انتظام کرتے ہیں، لیکن ہوم اسکولنگ کے ذریعے۔ میرا خیال ہے کہ بچے گھر پر اپنی تعلیم جاری رکھیں اور صرف امتحانات کے دن امتحان دینے کے لیے جائیں، جبکہ باقی تعلیم گھر کے محفوظ ماحول میں مکمل کریں۔ یوں تعلیم بھی جاری رہتی ہے اور والدین بچوں کی تربیت، ماحول اور صحبت پر بھی بہتر توجہ دے سکتے ہیں۔
2026-09-24 20:19:18
0
Ãlôäñ båbä :
😭😭😭
2026-09-24 17:58:04
0
Niaz M Hamzazai :
😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭
2026-09-24 08:01:28
0
Shoaib Akhtar :
😭😭😭
2026-09-24 14:05:24
0
Mudassir Khan :
💯
2026-09-24 14:00:12
0
کیفے القریش :
😳😳😳
2026-09-24 08:46:42
0
ستړي مسافر 😞 :
😭😭😭
2026-09-24 16:38:02
0
Nk🤔عمیر باچا :
🤔
2026-09-24 18:02:49
0
To see more videos from user @farishtakhan36, please go to the Tikwm
homepage.