@mazigarrrrr: 🫀خدا کو ہم نے بے پردہ اسی کی ذات میں دیکھا کہیں وہ نور بن کر تھا، کہیں انسان میں دیکھا جو پردہ تھا نگاہوں پر وہ عشق نے ہٹا ڈالا ہر ایک ذرے میں پھر ہم نے اُسی کا نور پا ڈالا کبھی دریا کی موجوں میں، کبھی صحرا کی خاموشی جہاں دیکھا وہیں ہم نے اسی کا راز ہی دیکھا میرے مُرشد کی نگاہوں میں عجب کیفیت دیکھی ادب میں ڈوبی سانسوں میں ہزاروں رحمتیں دیکھیں میں جب گم تھا اندھیروں میں اسی نے ہاتھ تھاما تھا میں نے پیر کی صورت میں کرمِ مصطفیٰ دیکھا نہ کعبے میں وہ محدود نہ بت خانے میں قید ملا جو سچے دل سے ڈھونڈا تو ہر ایک شئے میں وہی ملا فقیروں کی نگاہوں میں عجب ایک نور ہوتا ہے انہی کی خاک میں ہم نے خدا کا عکس دیکھا