حضرت جابر بن سمرہؓ بیان کرتے ہیں:
ہم رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھتے تھے اور نماز کے اختتام پر ہاتھوں سے سلام کا اشارہ کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“ان لوگوں کو کیا ہوا ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں سے سلام کرتے ہیں، گویا وہ سرکش گھوڑوں کی دمیں ہیں؟ تم میں سے کسی کے لیے کافی ہے کہ وہ اپنا ہاتھ اپنی ران پر رکھے اور کہے: السلام علیکم، السلام علیکم۔. 1185
2026-09-24 10:06:32
4
faizanmughal5301 :
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم نماز ( کے اختتام پر سلام ) میں ہاتھ اٹھا رہے تھے ۔ آپ نے فرمایا :’’ انھیں کیا ہوا ہے کہ نماز میں ہاتھ اٹھا رہے ہیں گویا کہ وہ سرکش گھوڑوں کی دمیں ہیں ؟ نماز میں سکون اختیار کرو ۔‘‘
یہ عالم صاحب جس حدیث کی بات کر رہے ہے وہ یہ ہے سب کو پرھنا چاہیے۔ شکریہ
2026-09-24 09:48:08
1
crazycricket2806 :
mufti sahb the great❤️❤️❤️❤️
2026-09-24 12:41:03
0
Tasawar butt :
tery Dard ko samjy ham
2026-09-24 12:06:25
1
Sohail Baloc :
یہ پہلا مولانا صاحب ہے جو پھر عبدالقادر جیلانی کی کتاب کنیت البین کتاب ماننے سے انکار کر رہا ہے
2026-09-24 11:58:42
1
Dr Muhammad Tahir (Rph) :
جَابِرِ بْنِ سَمْرَةَ، قَالَ: «خَرَجَعَلَيْنَا رَسُولُاللّهِ صَلّى اللّهُعَلَيْهِ وَسَلّمَ، وَنَحْنُرَافِعُو أَيْدِينَا فِي الصّلَاةِ، فَقَالَ: مَا بَالَهُمْرَافِعِي أَيْدِيهِمْفِي الصّلَاةِ، كَأَنْهَا أَدْنَابُخَيْلٍ شَمَسِ،اسْكُنُوا فِيالصّلَاة.
حضرت جابر بن سمره رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم نماز
میں اپنے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ نماز میں اپنے ہاتھ اس طرح اٹھاتے ہیں جیسے وہ سرکش بدکنے والے گھوڑوں کی دمیں ہوں؟ نماز میں
سكون اختيار کرو۔
2026-09-24 10:06:42
1
Jᴀᴡᴀᴅ ✘ Eɴɢɪɴᴇᴇʀ 🔥 :
ma uch sharif sa hon jis city ki ya baat kar Raha ha lakin phir bhe hum rafuldain ka Sath parhta hain
2026-09-24 12:36:10
0
AQIB BHATTI :
2026-09-24 10:19:06
1
Ajmal khan kanjoo :
2026-09-24 10:46:29
1
M Arshad :
لو جی گل ای مک گئی جے
2026-09-24 12:19:46
0
Ch Sufiyan Asghar :
hayee dardan 😅😅
2026-09-24 12:39:01
0
نور زینب سٹیل ورکس بحریہ ٹاؤن :
کیا آپ کے غوث اعظم شیخ عبداللہ القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے کوئی کتاب لکھی ھے
اس میں یہ واقعات ھے جو آپ لوگ لوگوں کو سناتے ھے۔۔۔
12 سال ڈوبی کشتی
ماں کے پیٹ میں قرآن مجید حفظ کیا
مردوں کو زندہ کیا
غوث کے دھوبی کا کیا نام تھا جس کا قبر میں حساب ھوا اور غوث صاحب کو پتہ چلا تو انہوں نے آگے بتایا۔۔۔
وغیرہ وغیرہ جو بھی کرامات یہ سناتے ھے کہیں تحریر ھے ان کی کتابوں میں
2026-09-24 10:00:39
0
abdul :
1185 نمبر حدیث کون سے باب میں بیان ہوئی ہے باب کا نام بھی بتا دیں مولوی جی
2026-09-24 10:09:52
0
Kamran khizar :
2026-09-24 11:44:16
0
M Islam ul haq 10 :
ابن کثیرؒ نے صریحاً الغنیۃ کو عبد القادر جیلانیؒ کی تصنیف قرار دیا۔
2026-09-24 12:21:58
0
راجپوت..🥀 :
آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا...😆
2026-09-24 10:50:58
0
Saadi Ansari🤫 :
حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نماز شروع کرتے وقت، رکوع میں جانے سے پہلے، رکوع سے سر اٹھاتے وقت، اور دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہوتے وقت اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے تھے، اور انہیں کندھوں کے برابر رکھتے تھے۔
2026-09-24 10:05:54
0
Muhammad RafaQat :
سوال چنا جواب گندم
2026-09-24 11:24:20
0
Shahid♥️♥️♥️ :
عبد القادر نام کا کوئی اور بندہ تھا
جس نے یہ کتاب لکھی ہے ۔😂😂😂😂
وہ کیا جوک مارا ہے
2026-09-24 11:41:24
2
Fawad Butt :
Chalo chado ay gal daso
Malik bin Hawyris RA Bry ya Ghoos Pak?????
2026-09-24 10:11:02
0
MUSLIM :
مشکل وقت میں مشرکینِ مکہ، فرعون اور آج کے بعض باطل عقائد رکھنے والوں کا معیار قرآن میں دیکھتے ہیں
ذرا قرآن کی طرف پلٹ کر دیکھتے ہیں
قرآن میں بیان کیے گئے مشرکینِ مکہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿فَإِذَا رَكِبُوا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللّهَمُخْلِصِينَلَهُالدِّينَ﴾
﴿فَلَمّا نَجّاهُمْإِلَى الْبَرِّ إِذَا هُمْيُشْرِكُونَ﴾
(العنکبوت 29:65)
جب وہ کشتی میں سوار ہوتے اور مصیبت میں گھر جاتے تو اللہ ہی کو خالص کرکے پکارتے تھے، پھر جب اللہ انہیں نجات دے دیتا تو دوبارہ شرک کرنے لگتے۔
اسی طرح سورۂ یونس میں فرمایا:
﴿وَإِذَا مَسّكُمُالضّرّفِي الْبَحْرِ ضَلّمَن تَدْعُونَإِلّا إِيّاهُ﴾
(یونس 10:22)
جب سمندر میں تمہیں مصیبت پہنچتی ہے تو جنہیں تم پکارتے ہو وہ سب گم ہوجاتے ہیں، سوائے اللہ کے۔
اور فرعون، جو اپنی سرکشی میں حد سے گزر گیا تھا، جب ڈوبنے لگا تو اس نے کہا:
﴿آمَنتُأَنّهُلَا إِلَٰهَإِلّا الّذِي آمَنَتْبِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ﴾
(یونس 10:90)
یعنی اس آخری لمحے میں بھی اس نے اللہ ہی کو معبود ماننے کا اقرار کیا۔
اب ذرا آج کے بعض عقائد پر قرآن کا یہ معیار رکھ کر غور کریں۔
اگر کوئی شخص مشکل، مصیبت اور بےبسی کے وقت بھی اللہ کو چھوڑ کر کسی غیر اللہ کو فریاد کے لیے پکارتا ہے:
"یا غوث مدد!"
"یا علی مدد!"
"یا رسول مدد!"
تو سوال یہ نہیں کہ وہ شخص اپنے آپ کو کیا کہتا ہے۔
بلکہ اصل سوال یہ ہے:
کہ قرآن اس بندے کے بارے میں کیا کہتا ہے؟
مشرکینِ مکہ مصیبت میں اللہ کو خالص کرکے پکارتے تھے۔
فرعون ڈوبتے وقت اللہ کے سوا کسی دوسرے معبود کا اقرار نہیں کر رہا تھا۔
تو پھر ہمیں اپنے عقیدے کے بارے میں قرآن سے سوال کرنا چاہیے:
کیا شدید مصیبت میں بھی اللہ کے ساتھ غالب کو پکارنا قرآن کے اس معیار کے مطابق ہے؟
اور اگر کوئی کہے:
"ہم اس کو خدا نہیں سمجھتے، صرف مدد کے لیے پکارتے ہیں۔"
تو پھر قرآن سے اگلا سوال ہوگا:
جسے خدا نہیں مانتے، اسے ایسی فریاد کے لیے کیوں پکارتے ہیں جو اللہ ہی سے مانگنی چاہیے؟
قرآن ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ امن و مصیبت میں انسان کا آخری سہارا اللہ ہو:
﴿فَإِيّاهُتَدْعُونَ﴾
"پس تم اسی کو پکارتے ہو۔"
(الأنعام 6:40)
لہٰذا بحث ناموں کی نہیں، پکار کے رخ کی ہے۔
خالق کو مخلوق سے الگ کرو۔
باطل معبود کو مددگار مخلوق سے الگ کرو۔
اور اپنے عقیدے کو قرآن کے پیمانے پر پرکھو۔
نام اور دعویٰ معیار نہیں بلکہ قرآن معیار ہے۔
2026-09-24 11:52:18
0
U$M@π°H@!D€®🇶🇦❤️🇵🇰 :
نیا رنگ نمبر مارکیٹ میں لانچ ہوگیا ہے
2026-09-24 12:45:34
1
Ubaid Ur Rehman Maalik :
تمہیں اب ھی مشکوک لگی ھے ؟؟ [Laugh approved]
2026-09-24 12:22:16
0
Henry29c 🙂 :
1 hi hal ha in wo yea ha Pahli bat to yea ha
2026-09-24 09:59:08
0
To see more videos from user @shahidwriter.123, please go to the Tikwm
homepage.