@shahidwriter.123: #shahidwriter123 #IslamicChannel #for

Shahid writer
Shahid writer
Open In TikTok:
Region: PK
Thursday 24 September 2026 07:43:08 GMT
33383
1589
62
241

Music

Download

Comments

arfanbhati2132
arfanbhati2132 :
Zindabad mufti sab salamat rahen
2026-09-24 09:50:12
10
mrsaadi2
Saadi Ansari🤫 :
حضرت جابر بن سمرہؓ بیان کرتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھتے تھے اور نماز کے اختتام پر ہاتھوں سے سلام کا اشارہ کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “ان لوگوں کو کیا ہوا ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں سے سلام کرتے ہیں، گویا وہ سرکش گھوڑوں کی دمیں ہیں؟ تم میں سے کسی کے لیے کافی ہے کہ وہ اپنا ہاتھ اپنی ران پر رکھے اور کہے: السلام علیکم، السلام علیکم۔. 1185
2026-09-24 10:06:32
4
fazimughal077
faizanmughal5301 :
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم نماز ( کے اختتام پر سلام ) میں ہاتھ اٹھا رہے تھے ۔ آپ نے فرمایا :’’ انھیں کیا ہوا ہے کہ نماز میں ہاتھ اٹھا رہے ہیں گویا کہ وہ سرکش گھوڑوں کی دمیں ہیں ؟ نماز میں سکون اختیار کرو ۔‘‘ یہ عالم صاحب جس حدیث کی بات کر رہے ہے وہ یہ ہے سب کو پرھنا چاہیے۔ شکریہ
2026-09-24 09:48:08
1
crazycricket2806
crazycricket2806 :
mufti sahb the great❤️❤️❤️❤️
2026-09-24 12:41:03
0
tasawar127
Tasawar butt :
tery Dard ko samjy ham
2026-09-24 12:06:25
1
sohail.baloc8
Sohail Baloc :
یہ پہلا مولانا صاحب ہے جو پھر عبدالقادر جیلانی کی کتاب کنیت البین کتاب ماننے سے انکار کر رہا ہے
2026-09-24 11:58:42
1
hafiztahirpharmacist
Dr Muhammad Tahir (Rph) :
جَابِرِ بْنِ سَمْرَةَ، قَالَ: «خَرَجَعَلَيْنَا رَسُولُاللّهِ صَلّى اللّهُعَلَيْهِ وَسَلّمَ، وَنَحْنُرَافِعُو أَيْدِينَا فِي الصّلَاةِ، فَقَالَ: مَا بَالَهُمْرَافِعِي أَيْدِيهِمْفِي الصّلَاةِ، كَأَنْهَا أَدْنَابُخَيْلٍ شَمَسِ،اسْكُنُوا فِيالصّلَاة. حضرت جابر بن سمره رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم نماز میں اپنے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ نماز میں اپنے ہاتھ اس طرح اٹھاتے ہیں جیسے وہ سرکش بدکنے والے گھوڑوں کی دمیں ہوں؟ نماز میں سكون اختيار کرو۔
2026-09-24 10:06:42
1
jawadxengineer
Jᴀᴡᴀᴅ ✘ Eɴɢɪɴᴇᴇʀ 🔥 :
ma uch sharif sa hon jis city ki ya baat kar Raha ha lakin phir bhe hum rafuldain ka Sath parhta hain
2026-09-24 12:36:10
0
aqbhatti2
AQIB BHATTI :
2026-09-24 10:19:06
1
user647230877
Ajmal khan kanjoo :
2026-09-24 10:46:29
1
m.arshad719
M Arshad :
لو جی گل ای مک گئی جے
2026-09-24 12:19:46
0
ch.sufiyan.asghar6
Ch Sufiyan Asghar :
hayee dardan 😅😅
2026-09-24 12:39:01
0
shafqata25
نور زینب سٹیل ورکس بحریہ ٹاؤن :
کیا آپ کے غوث اعظم شیخ عبداللہ القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے کوئی کتاب لکھی ھے اس میں یہ واقعات ھے جو آپ لوگ لوگوں کو سناتے ھے۔۔۔ 12 سال ڈوبی کشتی ماں کے پیٹ میں قرآن مجید حفظ کیا مردوں کو زندہ کیا غوث کے دھوبی کا کیا نام تھا جس کا قبر میں حساب ھوا اور غوث صاحب کو پتہ چلا تو انہوں نے آگے بتایا۔۔۔ وغیرہ وغیرہ جو بھی کرامات یہ سناتے ھے کہیں تحریر ھے ان کی کتابوں میں
2026-09-24 10:00:39
0
abdul40374
abdul :
1185 نمبر حدیث کون سے باب میں بیان ہوئی ہے باب کا نام بھی بتا دیں مولوی جی
2026-09-24 10:09:52
0
kamrankhizar455
Kamran khizar :
2026-09-24 11:44:16
0
islam.ulhaq8
M Islam ul haq 10 :
ابن کثیرؒ نے صریحاً الغنیۃ کو عبد القادر جیلانیؒ کی تصنیف قرار دیا۔
2026-09-24 12:21:58
0
saramrajput123
راجپوت..🥀 :
آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا...😆
2026-09-24 10:50:58
0
mrsaadi2
Saadi Ansari🤫 :
حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نماز شروع کرتے وقت، رکوع میں جانے سے پہلے، رکوع سے سر اٹھاتے وقت، اور دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہوتے وقت اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے تھے، اور انہیں کندھوں کے برابر رکھتے تھے۔
2026-09-24 10:05:54
0
muhammad.rafaqat158
Muhammad RafaQat :
سوال چنا جواب گندم
2026-09-24 11:24:20
0
allah_is_my_trust
Shahid♥️♥️♥️ :
عبد القادر نام کا کوئی اور بندہ تھا جس نے یہ کتاب لکھی ہے ۔😂😂😂😂 وہ کیا جوک مارا ہے
2026-09-24 11:41:24
2
mcpssirsyedtown
Fawad Butt :
Chalo chado ay gal daso Malik bin Hawyris RA Bry ya Ghoos Pak?????
2026-09-24 10:11:02
0
m.iqbal9870
MUSLIM :
مشکل وقت میں مشرکینِ مکہ، فرعون اور آج کے بعض باطل عقائد رکھنے والوں کا معیار قرآن میں دیکھتے ہیں ذرا قرآن کی طرف پلٹ کر دیکھتے ہیں قرآن میں بیان کیے گئے مشرکینِ مکہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿فَإِذَا رَكِبُوا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللّهَمُخْلِصِينَلَهُالدِّينَ﴾ ﴿فَلَمّا نَجّاهُمْإِلَى الْبَرِّ إِذَا هُمْيُشْرِكُونَ﴾ (العنکبوت 29:65) جب وہ کشتی میں سوار ہوتے اور مصیبت میں گھر جاتے تو اللہ ہی کو خالص کرکے پکارتے تھے، پھر جب اللہ انہیں نجات دے دیتا تو دوبارہ شرک کرنے لگتے۔ اسی طرح سورۂ یونس میں فرمایا: ﴿وَإِذَا مَسّكُمُالضّرّفِي الْبَحْرِ ضَلّمَن تَدْعُونَإِلّا إِيّاهُ﴾ (یونس 10:22) جب سمندر میں تمہیں مصیبت پہنچتی ہے تو جنہیں تم پکارتے ہو وہ سب گم ہوجاتے ہیں، سوائے اللہ کے۔ اور فرعون، جو اپنی سرکشی میں حد سے گزر گیا تھا، جب ڈوبنے لگا تو اس نے کہا: ﴿آمَنتُأَنّهُلَا إِلَٰهَإِلّا الّذِي آمَنَتْبِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ﴾ (یونس 10:90) یعنی اس آخری لمحے میں بھی اس نے اللہ ہی کو معبود ماننے کا اقرار کیا۔ اب ذرا آج کے بعض عقائد پر قرآن کا یہ معیار رکھ کر غور کریں۔ اگر کوئی شخص مشکل، مصیبت اور بےبسی کے وقت بھی اللہ کو چھوڑ کر کسی غیر اللہ کو فریاد کے لیے پکارتا ہے: "یا غوث مدد!" "یا علی مدد!" "یا رسول مدد!" تو سوال یہ نہیں کہ وہ شخص اپنے آپ کو کیا کہتا ہے۔ بلکہ اصل سوال یہ ہے: کہ قرآن اس بندے کے بارے میں کیا کہتا ہے؟ مشرکینِ مکہ مصیبت میں اللہ کو خالص کرکے پکارتے تھے۔ فرعون ڈوبتے وقت اللہ کے سوا کسی دوسرے معبود کا اقرار نہیں کر رہا تھا۔ تو پھر ہمیں اپنے عقیدے کے بارے میں قرآن سے سوال کرنا چاہیے: کیا شدید مصیبت میں بھی اللہ کے ساتھ  غالب  کو پکارنا قرآن کے اس معیار کے مطابق ہے؟ اور اگر کوئی کہے: "ہم اس کو خدا نہیں سمجھتے، صرف مدد کے لیے پکارتے ہیں۔" تو پھر قرآن سے اگلا سوال ہوگا: جسے خدا نہیں مانتے، اسے ایسی فریاد کے لیے کیوں پکارتے ہیں جو اللہ ہی سے مانگنی چاہیے؟ قرآن ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ امن  و مصیبت میں انسان کا آخری سہارا  اللہ ہو: ﴿فَإِيّاهُتَدْعُونَ﴾ "پس تم اسی کو پکارتے ہو۔" (الأنعام 6:40) لہٰذا بحث ناموں کی نہیں، پکار کے رخ کی ہے۔ خالق کو مخلوق سے الگ کرو۔ باطل معبود کو مددگار مخلوق سے الگ کرو۔ اور اپنے عقیدے کو قرآن کے پیمانے پر پرکھو۔ نام اور دعویٰ معیار نہیں  بلکہ قرآن معیار ہے۔
2026-09-24 11:52:18
0
usman78601
U$M@π°H@!D€®🇶🇦❤️🇵🇰 :
نیا رنگ نمبر مارکیٹ میں لانچ ہوگیا ہے
2026-09-24 12:45:34
1
ubaidurm7
Ubaid Ur Rehman Maalik :
تمہیں اب ھی مشکوک لگی ھے ؟؟ [Laugh approved]
2026-09-24 12:22:16
0
henry29c
Henry29c 🙂 :
1 hi hal ha in wo yea ha Pahli bat to yea ha
2026-09-24 09:59:08
0
To see more videos from user @shahidwriter.123, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

يعد برج المملكة في مدينة الرياض يُعد واحدًا من أشهر المعالم المعمارية في المملكة العربية السعودية، وأحد الرموز التي تعكس التطور العمراني الحديث في العاصمة. يقع البرج على طريق الملك فهد، وافتُتح عام 2002م، ويبلغ ارتفاعه نحو 300 متر ويتكون من 99 طابقًا. يتميز بتصميمه الفريد الذي ينتهي بفتحة كبيرة في أعلى البرج، وأصبح هذا التصميم علامة مميزات يمكن التعرف عليها بسهولة ضمن أفق مدينة الرياض. كما يحتوي الجزء العلوي على جسر المشاهدة المصنوع من الفولاذ والزجاج، والذي يوفر إطلالة بانورامية واسعة على العاصمة من ارتفاع يقارب 300 متر، ويُعد من أشهر التجارب التي يقصدها الزوار في المبنى. لا يقتصر برج المملكة على كونه معلمًا معماريًا، بل يضم مجموعة متنوعة من المرافق، منها المكاتب الإدارية والشقق السكنية الفاخرة والمطاعم والمقاهي ومرافق المناسبات، بالإضافة إلى فندق فورسيزونز الرياض ومركز المملكة التجاري الذي يضم العديد من المتاجر والعلامات التجارية. وقد ساهم هذا التنوع في جعل المبنى وجهة تجمع بين العمل والسكن والتسوق والترفيه والإقامة الفندقية في مكان واحد. ومنذ افتتاحه أصبح برج المملكة جزءًا من هوية الرياض الحديثة، وارتبط اسمه بالتطور العمراني الذي شهدته العاصمة خلال العقود الماضية. وعلى الرغم من ظهور العديد من المباني وناطحات السحاب الجديدة، لا يزال البرج يحتفظ بمكانته بسبب تصميمه المميز وموقعه الحيوي وشهرته الواسعة. ويُعد جسر المشاهدة والفتحة الموجودة في أعلى المبنى من أبرز عناصره، كما أصبح البرج مكانًا شهيرًا للتصوير والاستمتاع بإطلالة المدينة، خصوصًا وقت الغروب وفي المساء عندما تظهر أضواء الرياض من الأعلى. وبفضل موقعه وتصميمه ومرافقه المتنوعة، أصبح برج المملكة واحدًا من أبرز المعالم التي تمثل مدينة الرياض، وجزءًا مهمًا من صورتها العمرانية الحديثة. فهو يجمع بين الهندسة المعمارية المميزة والاستخدامات التجارية والسكنية والفندقية والترفيهية، ويظل حتى اليوم من أشهر الرموز التي يعرف بها سكان العاصمة وزوارها المملكة العربية السعودية #
يعد برج المملكة في مدينة الرياض يُعد واحدًا من أشهر المعالم المعمارية في المملكة العربية السعودية، وأحد الرموز التي تعكس التطور العمراني الحديث في العاصمة. يقع البرج على طريق الملك فهد، وافتُتح عام 2002م، ويبلغ ارتفاعه نحو 300 متر ويتكون من 99 طابقًا. يتميز بتصميمه الفريد الذي ينتهي بفتحة كبيرة في أعلى البرج، وأصبح هذا التصميم علامة مميزات يمكن التعرف عليها بسهولة ضمن أفق مدينة الرياض. كما يحتوي الجزء العلوي على جسر المشاهدة المصنوع من الفولاذ والزجاج، والذي يوفر إطلالة بانورامية واسعة على العاصمة من ارتفاع يقارب 300 متر، ويُعد من أشهر التجارب التي يقصدها الزوار في المبنى. لا يقتصر برج المملكة على كونه معلمًا معماريًا، بل يضم مجموعة متنوعة من المرافق، منها المكاتب الإدارية والشقق السكنية الفاخرة والمطاعم والمقاهي ومرافق المناسبات، بالإضافة إلى فندق فورسيزونز الرياض ومركز المملكة التجاري الذي يضم العديد من المتاجر والعلامات التجارية. وقد ساهم هذا التنوع في جعل المبنى وجهة تجمع بين العمل والسكن والتسوق والترفيه والإقامة الفندقية في مكان واحد. ومنذ افتتاحه أصبح برج المملكة جزءًا من هوية الرياض الحديثة، وارتبط اسمه بالتطور العمراني الذي شهدته العاصمة خلال العقود الماضية. وعلى الرغم من ظهور العديد من المباني وناطحات السحاب الجديدة، لا يزال البرج يحتفظ بمكانته بسبب تصميمه المميز وموقعه الحيوي وشهرته الواسعة. ويُعد جسر المشاهدة والفتحة الموجودة في أعلى المبنى من أبرز عناصره، كما أصبح البرج مكانًا شهيرًا للتصوير والاستمتاع بإطلالة المدينة، خصوصًا وقت الغروب وفي المساء عندما تظهر أضواء الرياض من الأعلى. وبفضل موقعه وتصميمه ومرافقه المتنوعة، أصبح برج المملكة واحدًا من أبرز المعالم التي تمثل مدينة الرياض، وجزءًا مهمًا من صورتها العمرانية الحديثة. فهو يجمع بين الهندسة المعمارية المميزة والاستخدامات التجارية والسكنية والفندقية والترفيهية، ويظل حتى اليوم من أشهر الرموز التي يعرف بها سكان العاصمة وزوارها المملكة العربية السعودية #

About