@inzimamullhaq160: ایک دن اس کا بوڑھا اور دانشمند استاد اس کے دفتر آیا۔ بات چیت کے دوران جب اس صنعت کار نے تکبر کے انداز میں کہا: "استادِ محترم! اگر میں اس کرسی پر نہ رہوں تو یہ پورا کاروبار ایک دن میں ٹھپ ہو جائے گا، کیونکہ یہاں کا ہر بڑا فیصلہ میری عقل و قابلیت ہی پر قائم ہے۔" استاد مسکرایا اور اسے ساتھ لے کر شہر کے پرانے قبرستان چلا گیا۔ قبرستان کے وسط میں کھڑے ہو کر استاد نے ایک بڑے سے کتبے کی طرف اشارہ کیا اور کہا: "اس کتبے کے نیچے جو شخص مدفون ہے، وہ اپنے وقت کا سب سے بڑا صنعت کار تھا اور یہی سوچتا تھا کہ اس کے بغیر دنیا کا پہیہ رک جائے گا۔ مگر دیکھو! اس کے جانے کے بعد بھی دنیا ویسے ہی چل رہی ہے، بازار ویسے ہی سجے ہیں اور اس کا کاروبار آج بھی جاری ہے۔اگر تمہیں اپنی قابلیت اور عقل پر غرور ہونے لگے، تو ایک بار قبرستان کا چکر لگا آؤ—وہاں تمہارے سے زیادہ عقل مند مٹی کے نیچے سو رہے ہیں۔" مثال کا حاصلِ کلام یہ واقعہ اور جملہ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ انسان کو حاصل کامیابی، علم یا عقل عارضی نعمتیں ہیں۔ جب انسان یہ سمجھنے لگے کہ دنیا صرف اس کے علم یا فیصلے پر چل رہی ہے، تو قبرستان کی خاموشی اسے یاد دلاتی ہے کہ اس سے بڑے مفکر، سائنسدان اور تدبیر کار مٹی میں مل چکے ہیں اور دنیا کا نظام پھر بھی روانی سے جاری ہے۔#foryou #pyp #deeplines #fanidunya🥀💔 #writting