@ashraf_bek_26_2: 🇹🇷🎥🇹🇩 #مسلسلات_تركية #الحفرة #edit #شعب_الصيني_ماله_حل😂😂 #fyp

🇹🇷 𝐀𝐬𝐡𝐫𝐚𝐟 | اشرف 🇹🇩
🇹🇷 𝐀𝐬𝐡𝐫𝐚𝐟 | اشرف 🇹🇩
Open In TikTok:
Region: LY
Thursday 24 September 2026 17:12:12 GMT
32247
4327
451
110

Music

Download

Comments

attileb2000
التليب ابو المهدي رقيق :
مستمتع منك ياخي
2026-09-24 19:17:44
5
mhtmisassala
نجمة الصباح :
عجبني 😂
2026-09-25 07:29:18
7
aliibnmoussa
wal moussay 👑 :
افتح التنزيل 😅😂😂😂
2026-10-10 15:10:04
2
user9602504761278
أبوحنيفه 🦅🦅 :
النقط الأخيره 😂
2026-09-24 18:40:12
6
rahaf39634
Rahaf 🇷🇴🇷🇴 تشادية :
🤣🤣🤣اخر شي
2026-09-25 14:51:56
3
user653875868143
زهراء محمد :
وربي كأنك واحد منهم 🥰🥰
2026-09-30 21:41:40
1
user96139130161992
أزهري :
الجردون 😂
2026-09-30 19:10:55
2
razekh12
Abdel_Tchad 🇹🇩 :
انا كله مفكر كي 😂😂😂😂
2026-10-08 13:31:44
1
user7954165597375
صالح ترڨي :
والله يااخي لايعجبني إستمر ربي يحفظك
2026-09-24 19:06:03
1
mjgkh4
ابواليمامة الصحراوي 💔💔💔 :
ربنا يحفظك محتويات جميلة 🌹🌹🌹🌹🌹🌹
2026-09-27 02:35:34
1
user6522688181133
حفيد جنيد القحطاني :
سعد أقلو ما هيك بدي المستندات🤣
2026-09-28 08:08:13
1
hikma8880
HiKMA :
2026-09-25 05:52:06
2
dahmanamor
ᎴᏗᏂᎷᏗᏁ ᏗᎷᎧᏒ :
2026-10-01 07:22:04
1
user74425297047050
سيف حسن :
استمر يااخي ربنا يحفظك
2026-09-24 20:19:18
1
abduuremo
Abdullah Ramadan 1 :
منور
2026-09-25 13:32:04
1
user65682657872037
أميرة في حياتي :
2026-09-30 20:16:44
1
userbieyrgy0mp
مطاط🥷 :
🤣
2026-09-25 00:13:24
2
habibaidriss16
habiba. idriss :
2026-09-24 18:55:39
1
user5308530331810
عالي إشبلو :
😂😂😂😂😂واصل
2026-09-28 20:18:26
1
user20430709740364
ابنت عراضة البحيرة 🥰 :
مشاء الله حتى التشدين تفنانو
2026-10-05 10:50:17
1
user70354554412147
منير ادم عبدو :
انت معلم🤗ي سيد اغلو😂
2026-09-25 19:45:25
1
user7752464619819
user7752464619819انا :
والله انا احب سعد اغلو كتير 😂وانت تشبه شوي
2026-10-07 05:27:16
1
hag7917
d____20. ÃĹhag ♕ آلَحًآجّ :
الجردون
2026-09-25 08:49:21
1
wadi.ziab7
wadi ziab :
courage
2026-09-24 20:15:59
1
user45024063729
ادم جبرين 💪💪💪✌✌✌ :
كمل يابضل[دموع الفرح][دموع الفرح][دموع الفرح]
2026-09-25 15:50:00
1
To see more videos from user @ashraf_bek_26_2, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

جنگ صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتی، اس کے اثرات بازاروں، سیاست کے ایوانوں اور انسانی ضمیر تک پھیل جاتے ہیں۔ جہاں ایک طرف سپاہی اپنی جانیں قربان کرتے ہیں، خاندان اجڑتے ہیں اور عام لوگ خوف، بھوک اور بے یقینی کا شکار ہوتے ہیں، وہیں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو جنگ کی تباہی میں اپنا فائدہ تلاش کرتے ہیں۔ یہی لوگ جنگی منافع خور کہلاتے ہیں۔ جنگی منافع خوروں کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی جنگ کی تاریخ۔ کبھی ہتھیار بیچنے والے، کبھی ضروری اشیاء ذخیرہ کر کے قیمتیں بڑھانے والے، کبھی خوف اور نفرت کو ہوا دے کر سیاسی فائدہ اٹھانے والے — سب کسی نہ کسی شکل میں جنگ کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ان کے لیے جنگ ایک انسانی المیہ نہیں بلکہ ایک کاروباری موقع بن جاتی ہے۔ سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ جنگی منافع خوری صرف دولت کمانے تک محدود نہیں رہتی، بلکہ یہ معاشروں کے زخموں کو گہرا کرتی ہے۔ جب کسی خطے میں امن کے بجائے مسلسل کشیدگی سے فائدہ اٹھانے والے طاقتور ہو جائیں تو امن کی کوششیں کمزور پڑ جاتی ہیں، کیونکہ کچھ مفادات جنگ کے خاتمے سے متاثر ہوتے ہیں۔ جنگ کا اصل بوجھ ہمیشہ عام انسان اٹھاتے ہیں۔ ایک ماں اپنے بیٹے کا انتظار کرتی ہے، ایک بچہ اپنے گھر کے کھنڈر دیکھتا ہے، ایک مزدور روزگار سے محروم ہوتا ہے؛ مگر جنگی منافع خور اپنی تجوریوں میں اضافہ گنتے ہیں۔ یہی تضاد انسانیت کے لیے سب سے بڑا سوال ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ طاقتور ریاستیں اور ادارے بھی اگر احتساب سے آزاد ہو جائیں تو جنگ کو ایک مستقل کاروبار بنا سکتے ہیں۔ اسی لیے شفافیت، عالمی قوانین، اخلاقی سیاست اور عوامی شعور ضروری ہیں تاکہ جنگ کے نام پر ہونے والی منافع خوری کو روکا جا سکے۔ امن صرف جنگ کا خاتمہ نہیں، بلکہ ان قوتوں کو کمزور کرنا بھی ہے جو جنگ سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔ کیونکہ جب تک جنگ کسی کے لیے منافع کا ذریعہ رہے گی، دنیا میں امن کی راہ ہمیشہ مشکل رہے گی۔ جنگ میں سب کچھ ہارنے والے بہت ہوتے ہیں، مگر افسوس کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو دوسروں کے نقصان میں اپنا فائدہ تلاش کر لیتے ہیں۔ یہی جنگی منافع خور تاریخ کے خاموش مگر خطرناک کردار ہیں۔ #kafka #فرانز #کافکا #franz #esque
جنگ صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتی، اس کے اثرات بازاروں، سیاست کے ایوانوں اور انسانی ضمیر تک پھیل جاتے ہیں۔ جہاں ایک طرف سپاہی اپنی جانیں قربان کرتے ہیں، خاندان اجڑتے ہیں اور عام لوگ خوف، بھوک اور بے یقینی کا شکار ہوتے ہیں، وہیں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو جنگ کی تباہی میں اپنا فائدہ تلاش کرتے ہیں۔ یہی لوگ جنگی منافع خور کہلاتے ہیں۔ جنگی منافع خوروں کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی جنگ کی تاریخ۔ کبھی ہتھیار بیچنے والے، کبھی ضروری اشیاء ذخیرہ کر کے قیمتیں بڑھانے والے، کبھی خوف اور نفرت کو ہوا دے کر سیاسی فائدہ اٹھانے والے — سب کسی نہ کسی شکل میں جنگ کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ان کے لیے جنگ ایک انسانی المیہ نہیں بلکہ ایک کاروباری موقع بن جاتی ہے۔ سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ جنگی منافع خوری صرف دولت کمانے تک محدود نہیں رہتی، بلکہ یہ معاشروں کے زخموں کو گہرا کرتی ہے۔ جب کسی خطے میں امن کے بجائے مسلسل کشیدگی سے فائدہ اٹھانے والے طاقتور ہو جائیں تو امن کی کوششیں کمزور پڑ جاتی ہیں، کیونکہ کچھ مفادات جنگ کے خاتمے سے متاثر ہوتے ہیں۔ جنگ کا اصل بوجھ ہمیشہ عام انسان اٹھاتے ہیں۔ ایک ماں اپنے بیٹے کا انتظار کرتی ہے، ایک بچہ اپنے گھر کے کھنڈر دیکھتا ہے، ایک مزدور روزگار سے محروم ہوتا ہے؛ مگر جنگی منافع خور اپنی تجوریوں میں اضافہ گنتے ہیں۔ یہی تضاد انسانیت کے لیے سب سے بڑا سوال ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ طاقتور ریاستیں اور ادارے بھی اگر احتساب سے آزاد ہو جائیں تو جنگ کو ایک مستقل کاروبار بنا سکتے ہیں۔ اسی لیے شفافیت، عالمی قوانین، اخلاقی سیاست اور عوامی شعور ضروری ہیں تاکہ جنگ کے نام پر ہونے والی منافع خوری کو روکا جا سکے۔ امن صرف جنگ کا خاتمہ نہیں، بلکہ ان قوتوں کو کمزور کرنا بھی ہے جو جنگ سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔ کیونکہ جب تک جنگ کسی کے لیے منافع کا ذریعہ رہے گی، دنیا میں امن کی راہ ہمیشہ مشکل رہے گی۔ جنگ میں سب کچھ ہارنے والے بہت ہوتے ہیں، مگر افسوس کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو دوسروں کے نقصان میں اپنا فائدہ تلاش کر لیتے ہیں۔ یہی جنگی منافع خور تاریخ کے خاموش مگر خطرناک کردار ہیں۔ #kafka #فرانز #کافکا #franz #esque

About