@azmatullahgadhi: اللہ تعالیٰ نے حضرت لوطؑ کی بیوی کا ذکر کئی مقامات پر فرمایا ہے۔ جب اللہ کا عذاب قومِ لوط پر نازل ہونے والا تھا تو حضرت لوطؑ کو حکم دیا گیا کہ اپنے گھر والوں کو لے کر نکل جائیں، لیکن ان کی بیوی ایمان نہ لانے کی وجہ سے پیچھے رہ جانے والوں میں شامل ہوگئی۔ سورۂ اعراف (7:83) فَأَنْجَيْنَاهُ وَأَهْلَهُ إِلَّا امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ اردو ترجمہ: "پھر ہم نے لوطؑ اور ان کے گھر والوں کو نجات دی، سوائے ان کی بیوی کے، وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے تھی۔" سورۂ التحریم (66:10) ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِينَ كَفَرُوا امْرَأَتَ نُوحٍ وَامْرَأَتَ لُوطٍ... اردو ترجمہ: "اللہ نے کافروں کے لیے نوحؑ کی بیوی اور لوطؑ کی بیوی کی مثال بیان فرمائی..." اس واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ نجات کا دارومدار ایمان اور نیک اعمال پر ہے۔ کسی نبی یا نیک شخصیت سے خاندانی تعلق انسان کو خود بخود نجات نہیں دلاتا، بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر ایمان اور عمل ضروری ہے۔