@brown.eye051: کیونکہ باپ کے لیے ریٹائرمنٹ کی کوئی عمر نہیں ہوتی، جب تک بچوں کی ضروریات باقی ہوں، وہ اپنے آرام کو مؤخر کرتا رہتا ہے۔ اس کے بال سفید ہو جائیں، کمر جھک جائے، ہاتھوں میں پہلے جیسی طاقت نہ رہے، پھر بھی وہ یہ سوچ کر گھر سے نکلتا ہے کہ میرے بچوں کو کسی چیز کی کمی نہ ہو۔ کبھی کبھی باپ کی خاموشی کو رضامندی نہ سمجھا کرو، وہ صرف اس لیے خاموش ہوتا ہے کہ بچوں کی خواہشیں اس کی اپنی تھکن سے زیادہ اہم ہو جاتی ہیں۔ ایک وقت آتا ہے جب باپ کو تمہاری ضرورتیں پوری کرنے کے بجائے تمہیں اس کی ضرورتیں پوری کرنی چاہییں۔ جس عمر میں اس نے تمہیں سہارا دے کر چلنا سکھایا تھا، اسی عمر میں تمہارا فرض ہے کہ اس کے بڑھتے قدموں کو سہارا دو۔ باپ صرف کمانے والا شخص نہیں، وہ اپنی پوری زندگی بچوں کے بہتر کل کے نام کر دینے والا انسان ہے۔ #brown5eyes