or islam mein kahin nahi kaha gaya k shadi k baad aurat apnay baap k naam ki jaga shoher ka naam likh len. quran ka ref aap k lye mufti sb
اس حوالے سے سب سے واضح آیت سورۃ الأحزاب، آیت 5 (33:5) ہے:
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
ٱدْعُوهُمْلِآبَائِهِمْهُوَأَقْسَطُعِندَٱللّهِ ۚ فَإِن لّمْتَعْلَمُوٓا۟ ءَابَاءَهُمْفَإِخْوَٰنُكُمْفِى ٱلدِّينِ وَمَوَٰلِيكُمْۚ وَلَيْسَعَلَيْكُمْجُنَاحٌ فِيمَآ أَخْطَأْتُم بِهِۦ وَلَٰكِن مّا تَعَمّدَتْقُلُوبُكُمْۚ وَكَانَٱللّهُغَفُورًا رّحِيمًا
اردو ترجمہ:
“انہیں ان کے باپوں کے نام سے پکارو، یہ اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف کی بات ہے۔ پھر اگر تم ان کے باپوں کو نہ جانتے ہو تو وہ دین میں تمہارے بھائی اور تمہارے دوست ہیں۔ اور جو بات تم سے غلطی سے ہو جائے اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں، لیکن جو تمہارے دل جان بوجھ کر کریں (اس پر گرفت ہے)، اور اللہ بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔”
— سورۃ الأحزاب 33:5
اس آیت سے یہ اصول واضح ہوتا ہے کہ نسب کو باپ کی طرف منسوب کیا جائے۔ البتہ آیت میں خاص طور پر یہ نہیں کہا گیا کہ “شادی کے بعد عورت اپنے شوہر کا نام نہیں رکھ سکتی”؛ یہ نتیجہ آیت کے نسب اور شناخت کے اصول سے متعلق ہے۔
اگر آپ چاہیں تو میں اس آیت کی تفسیر ابن کثیر، تفسیر طبری اور صحیح احادیث کے حوالے بھی دے سکتا ہوں تاکہ آپ کے پاس مکمل مستند حوالہ ہو۔
2026-09-25 19:46:05
0
To see more videos from user @lifeguide44, please go to the Tikwm
homepage.