@ubaid.typist70: جب گھر کے بڑے ہی حق اور سچ کا ساتھ دینا چھوڑ دیں، تو پھر چھوٹوں سے انصاف کی امید رکھنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ 💔 گھر کے بڑے دراصل گھر کی بنیاد ہوتے ہیں۔ ان کا ایک فیصلہ کئی رشتوں کو جوڑ سکتا ہے اور ایک غلط فیصلہ برسوں کے بنے ہوئے تعلقات میں دراڑ ڈال سکتا ہے۔ اگر کوئی مسئلہ ہو تو بڑے کا کام یہ ہونا چاہیے کہ دونوں طرف کی بات سکون سے سنے، حقیقت کو سمجھے اور پھر انصاف کے ساتھ فیصلہ کرے۔ لیکن جب گھر میں شکایتیں لگانے، ایک کی بات دوسرے تک پہنچانے، کان بھرنے اور غلط فہمیوں کو بڑھانے کا سلسلہ شروع ہو جائے تو پھر گھر میں سکون کم اور فاصلے زیادہ ہونے لگتے ہیں۔ لوگ ایک دوسرے پر اعتماد کرنا چھوڑ دیتے ہیں، باتیں دل میں رکھنے لگتے ہیں اور آہستہ آہستہ وہ رشتے بھی کمزور ہو جاتے ہیں جنہیں مضبوط ہونا چاہیے تھا۔ ہر بات سن کر فوراً یقین کر لینا انصاف نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی خاموش رہ کر حقیقت جاننا ضروری ہوتا ہے، کیونکہ ہر شکایت سچ نہیں ہوتی اور ہر خاموش شخص قصوروار نہیں ہوتا۔ رشتوں کو بچانے کے لیے ضروری ہے کہ گھر کے بڑے کسی ایک کی طرف داری کرنے کے بجائے حق کا ساتھ دیں۔ اگر کوئی غلط ہے تو اسے سمجھائیں، اور اگر کوئی بے قصور ہے تو اس کے ساتھ کھڑے ہوں۔ کیونکہ انصاف صرف عدالتوں میں نہیں، گھروں میں بھی ضروری ہوتا ہے۔ یاد رکھیں، گھر باہر کے لوگوں سے نہیں ٹوٹتا، اکثر گھر اندر کی غلط فہمیوں، ناانصافی، ضد اور کان بھرنے والی باتوں سے کمزور ہوتے ہیں۔ اللہ ہر گھر میں محبت، اتفاق، انصاف اور سکون قائم رکھے، اور ہر اس زبان کو خاموش کرے جو اپنوں کے درمیان نفرت پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے۔ 🤲❤️ رشتے بچانے ہوں تو باتیں نہیں، حقیقت دیکھیں؛ اور گھر آباد رکھنے ہوں تو شکایت نہیں، انصاف کریں۔ 🥀 #ubaidtypist70 #foryourpage