@ssibraxximli: mala mulke guven yoxdu)

￴
￴
Open In TikTok:
Region: AZ
Friday 25 September 2026 18:51:24 GMT
252
29
2
2

Music

Download

Comments

23.yus1kha
⏳ :
❤️
2026-09-25 19:18:41
0
To see more videos from user @ssibraxximli, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

#onthisday #وہ بھی کیا خوبصورت دور تھا۔۔۔ اور آج کا یہ افسوس ناک زمانہ ایک وقت تھا جب پاکستان میں صرف پی ٹی وی کا ایک ہی چینل ہوا کرتا تھا۔ نشریات کا آغاز ہوتا تو اللہ تعالیٰ کے پاک کلام کی دلنشیں تلاوت فضا میں نور بکھیر دیتی تھی۔ وہ پرسکون آواز، قرآنِ پاک کی آیات، اور پھر حمد و نعت کی روح پرور صدائیں۔۔۔ دل خودبخود ادب و احترام سے جھک جاتے تھے۔ گھروں میں ایک عجیب سا سکون اترتا تھا، آنکھوں کو حیا اور دلوں کو ایمان کی تازگی محسوس ہوتی تھی۔ وسائل کم تھے، چینل ایک تھا، مگر اقدار کتنی بلند تھیں! پھر وقت بدلا، زمانہ ترقی کرتا گیا، چینلوں کی بھرمار ہوگئی، آوازیں بڑھ گئیں، رنگ و نور کے میلے سج گئے، مگر افسوس کہ کہیں نہ کہیں ہمارے دلوں کا سکون کھو گیا۔ کبھی نعت وہ مقدس ذریعہ ہوا کرتی تھی جس کے ذریعے حضور نبی کریم ﷺ سے محبت کا اظہار کیا جاتا تھا۔ نعت سنتے ہوئے دل عقیدت سے بھر جاتے، آنکھیں نم ہوجاتیں اور روح کو ایک عجیب سی طمانیت نصیب ہوتی تھی۔ مگر آج دل دکھتا ہے کہ بعض جگہوں پر نعت جیسی مقدس صنف کو بھی شہرت، نمائش، مقابلے بازی اور کاروبار کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے۔ کہیں اندازِ پیشکش پر سوال اٹھتے ہیں، کہیں ادب و احترام پسِ پشت چلا جاتا ہے، اور کہیں محبتِ رسول ﷺ کے نام پر ایسی نمائش دکھائی دیتی ہے کہ روح شرمندہ سی ہوجاتی ہے۔ نعت تو وہ عبادتِ محبت ہے جس میں آواز سے زیادہ اخلاص، شہرت سے زیادہ عقیدت اور دکھاوے سے زیادہ ادب ہونا چاہیے۔ بات یہ نہیں کہ آج سب کچھ برا ہے یا گزرے ہوئے زمانے میں کوئی خامی نہ تھی۔ بات صرف اتنی ہے کہ ہم نے ترقی کی دوڑ میں بہت کچھ حاصل کیا، لیکن کیا ہم نے اپنی روحانی اقدار کو بھی اسی محبت سے سنبھال کر رکھا؟ کیا ہماری نئی نسل کو وہ ماحول مل رہا ہے جس میں قرآن کی تلاوت سن کر دل نرم ہوں، نعت سن کر آنکھیں بھیگ جائیں اور درودِ پاک پڑھ کر روح کو سکون ملے؟ کبھی ایک ہی چینل تھا، مگر دلوں کو جوڑنے کا سلیقہ تھا۔ آج سیکڑوں چینل ہیں، مگر دلوں میں سکون تلاش کرنا پڑتا ہے۔ پہلے نشریات کا آغاز اللہ کے کلام سے ہوتا تھا، آج دن بھر آوازیں سنائی دیتی ہیں، لیکن روح کی پیاس باقی رہتی ہے۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ ہم نے نعت کی آواز کو تو بلند کر دیا، مگر بعض جگہوں پر اس کے ادب کی آواز مدھم پڑ گئی ہے۔ اللہ کرے کہ ہم پھر سے اس اصل روح کی طرف لوٹ آئیں، جہاں قرآن کی تلاوت محض نشریات کا حصہ نہیں بلکہ زندگی کا نور ہو، جہاں نعت محض ایک فن نہیں بلکہ محبتِ رسول ﷺ کا پاکیزہ اظہار ہو، اور جہاں شہرت سے بڑھ کر اخلاص، دکھاوے سے بڑھ کر ادب اور دنیاوی فائدے سے بڑھ کر دین کی حرمت عزیز ہو۔ کاش! وہ دور پھر لوٹ آئے، جب دن کا آغاز اللہ کے کلام سے ہوتا تھا، گھروں میں سکون اترتا تھا اور دلوں کو یہ احساس رہتا تھا کہ ہم ابھی اپنی اصل سے جڑے ہوئے ہیں۔ یا اللہ! ہمارے دلوں میں قرآن کی محبت، نبی کریم ﷺ کی سچی محبت اور دین کے ادب و احترام کو ہمیشہ زندہ رکھ۔ آمین یا رب العالمین۔ 🤲🏻
#onthisday #وہ بھی کیا خوبصورت دور تھا۔۔۔ اور آج کا یہ افسوس ناک زمانہ ایک وقت تھا جب پاکستان میں صرف پی ٹی وی کا ایک ہی چینل ہوا کرتا تھا۔ نشریات کا آغاز ہوتا تو اللہ تعالیٰ کے پاک کلام کی دلنشیں تلاوت فضا میں نور بکھیر دیتی تھی۔ وہ پرسکون آواز، قرآنِ پاک کی آیات، اور پھر حمد و نعت کی روح پرور صدائیں۔۔۔ دل خودبخود ادب و احترام سے جھک جاتے تھے۔ گھروں میں ایک عجیب سا سکون اترتا تھا، آنکھوں کو حیا اور دلوں کو ایمان کی تازگی محسوس ہوتی تھی۔ وسائل کم تھے، چینل ایک تھا، مگر اقدار کتنی بلند تھیں! پھر وقت بدلا، زمانہ ترقی کرتا گیا، چینلوں کی بھرمار ہوگئی، آوازیں بڑھ گئیں، رنگ و نور کے میلے سج گئے، مگر افسوس کہ کہیں نہ کہیں ہمارے دلوں کا سکون کھو گیا۔ کبھی نعت وہ مقدس ذریعہ ہوا کرتی تھی جس کے ذریعے حضور نبی کریم ﷺ سے محبت کا اظہار کیا جاتا تھا۔ نعت سنتے ہوئے دل عقیدت سے بھر جاتے، آنکھیں نم ہوجاتیں اور روح کو ایک عجیب سی طمانیت نصیب ہوتی تھی۔ مگر آج دل دکھتا ہے کہ بعض جگہوں پر نعت جیسی مقدس صنف کو بھی شہرت، نمائش، مقابلے بازی اور کاروبار کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے۔ کہیں اندازِ پیشکش پر سوال اٹھتے ہیں، کہیں ادب و احترام پسِ پشت چلا جاتا ہے، اور کہیں محبتِ رسول ﷺ کے نام پر ایسی نمائش دکھائی دیتی ہے کہ روح شرمندہ سی ہوجاتی ہے۔ نعت تو وہ عبادتِ محبت ہے جس میں آواز سے زیادہ اخلاص، شہرت سے زیادہ عقیدت اور دکھاوے سے زیادہ ادب ہونا چاہیے۔ بات یہ نہیں کہ آج سب کچھ برا ہے یا گزرے ہوئے زمانے میں کوئی خامی نہ تھی۔ بات صرف اتنی ہے کہ ہم نے ترقی کی دوڑ میں بہت کچھ حاصل کیا، لیکن کیا ہم نے اپنی روحانی اقدار کو بھی اسی محبت سے سنبھال کر رکھا؟ کیا ہماری نئی نسل کو وہ ماحول مل رہا ہے جس میں قرآن کی تلاوت سن کر دل نرم ہوں، نعت سن کر آنکھیں بھیگ جائیں اور درودِ پاک پڑھ کر روح کو سکون ملے؟ کبھی ایک ہی چینل تھا، مگر دلوں کو جوڑنے کا سلیقہ تھا۔ آج سیکڑوں چینل ہیں، مگر دلوں میں سکون تلاش کرنا پڑتا ہے۔ پہلے نشریات کا آغاز اللہ کے کلام سے ہوتا تھا، آج دن بھر آوازیں سنائی دیتی ہیں، لیکن روح کی پیاس باقی رہتی ہے۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ ہم نے نعت کی آواز کو تو بلند کر دیا، مگر بعض جگہوں پر اس کے ادب کی آواز مدھم پڑ گئی ہے۔ اللہ کرے کہ ہم پھر سے اس اصل روح کی طرف لوٹ آئیں، جہاں قرآن کی تلاوت محض نشریات کا حصہ نہیں بلکہ زندگی کا نور ہو، جہاں نعت محض ایک فن نہیں بلکہ محبتِ رسول ﷺ کا پاکیزہ اظہار ہو، اور جہاں شہرت سے بڑھ کر اخلاص، دکھاوے سے بڑھ کر ادب اور دنیاوی فائدے سے بڑھ کر دین کی حرمت عزیز ہو۔ کاش! وہ دور پھر لوٹ آئے، جب دن کا آغاز اللہ کے کلام سے ہوتا تھا، گھروں میں سکون اترتا تھا اور دلوں کو یہ احساس رہتا تھا کہ ہم ابھی اپنی اصل سے جڑے ہوئے ہیں۔ یا اللہ! ہمارے دلوں میں قرآن کی محبت، نبی کریم ﷺ کی سچی محبت اور دین کے ادب و احترام کو ہمیشہ زندہ رکھ۔ آمین یا رب العالمین۔ 🤲🏻

About