@immuhammadsohailafridi: ہمارا سیاسی مقابلہ ہے، ہم سیاسی لوگ ہیں۔ ہمارے لیڈر اور قائد جناب عمران خان صاحب نے ہمیشہ ہمیں پُرامن رہنے کی ہدایت کی ہے۔ 126 دن کے دھرنے میں ہم نے ایک کملہ تک نہیں توڑا، ہم پُرامن لوگ ہیں۔ اگر کوئی یہ سوچتا ہے کہ ان کے بدزبان لوگوں کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں میں انتشار آئے گا یا پاکستان تحریک انصاف کوئی ایسا بیان دے گی جسے اچھال اچھال کر ہمارے خلاف پھر 9 مئی جیسا فالس فلیگ آپریشن کیا جائے گا، تو یہ ان کا وہم ہے۔ ہم نے پُرامن جدوجہد پہلے بھی کی تھی، اب بھی کر رہے ہیں اور اس کے بعد بھی کریں گے۔ ان شاء اللہ 4 اکتوبر کا لانگ مارچ پُرامن ہوگا اور ہم ضرور کریں گے۔ لیکن میں پھر کہہ رہا ہوں کہ یہ جو نسل تیار کی گئی ہے، جو کسی کے ایجنڈے پر ہے، جو مسلسل خیبر پختونخوا کو پاکستان سے الگ کرنے کی سازش کر رہی ہے، میں آپ کو لکھ کر دیتا ہوں کہ یہ پاکستان توڑنے کی سازش کر رہے ہیں، اس پر دھیان دیں۔ کیونکہ ان لوگوں کی کوئی حیثیت ہی نہیں، یہ اپنے یونین کونسل کا الیکشن بھی نہیں جیت سکتے۔ یہ جس صوبے پر قابض ہیں، وہاں کے دارالحکومت لاہور کے الیکشن یہ ہار چکے ہیں۔ یہ عوامی مینڈیٹ سے نہیں آئے، ان کو پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان پر مسلط کیا ہے۔ تو یہ جو بھی بیان دیں گے، وہ آپ کا بیانیہ ہوگا، یہ جو بھی کریں گے، اس کے ذمہ دار آپ ہوں گے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی