@sozedil7: نسیمِ صبح گلشن میں گلوں سے کھیلتی ہو گی کسی کی آخری ہچکی کسی کی دل لگی ہو گی تجھے دانستہ محفل میں جو دیکھا ہو تو مجرم ہوں نظر آخر نظر ہے بے ارادہ اٹھ گئی ہو گی مزہ آ جائے گا محشر میں کچھ سننے سنانے کا زباں ہوگی ہماری اور کہانی آپ کی ہو گی یہی عالم رہا پردہ نشینی کا تو ظاہر ہے خدائی آپ سے ہوگی نہ ہم سے بندگی ہو گی تعجب کیا لگی جو آگ اے سیمابؔ سینے میں ہزاروں دل میں انگارے بھرے تھے لگ گئی ہو گی سیمابؔ اکبر آبادی