@tony626ynot: #life #richardcabral #fypシ #losangeles #626

Ynot
Ynot
Open In TikTok:
Region: US
Friday 25 September 2026 19:59:29 GMT
17210
1104
31
150

Music

Download

Comments

renehernandez4180
renehernandez4180 :
how do you remember that at 2 dawg ,
2026-09-25 21:24:41
6
powerofattorney1
powerofattorney1 :
AINT NOBODY COMING..
2026-10-13 23:43:45
0
rachaelsmith758
rachaelsmith758 :
I’m so broken hearted🥺
2026-10-14 01:22:10
0
cisco.kid.760
Cisco kid 760 :
My life was similar 🙏🙏
2026-09-26 19:54:02
4
cheengoan
CheenGoan :
I have family members who were given lots of love by both parents and they still ended up in the streets. So it depends on you homie. Palabra
2026-10-13 19:27:46
1
562_allday
562_allday :
He speaks truth and the says things that we could all relate to Some more than others
2026-10-08 01:26:33
1
moeshiestyda001
moeshiestyda001 :
“Nobody comes bro” , thassss why we coming 😤😤😤
2026-10-11 20:30:57
2
robrob3966
robrob :
You can hear it in his voice is demeanor. He’s been through it, but that motherfucker turned his life around respectfully 🍻
2026-09-25 21:09:50
8
im_just_joshin_ya88
Joshua Dean Sumrall :
Am I the only person that had a half ass normal childhood
2026-10-07 23:00:16
1
jakeangie12
jakeangie12 :
Left on my grandmas door steps
2026-10-10 05:11:24
1
crossbows1215
d3vilsfault :
I feel this guy, I did exactly this. I walked off 24yrs, in hopes to see my mom. 9month before I go through the gate she passes. why was I sad?? because I loved her. I was homeless for 2 years. back into old things. then 1 day I woke up under the bridge. stepped out and walking down the street. I seen this lady, she was staring at me. it was different, today, I own my house, went back to college. 2 cars in the driveway, 4pets and 1 on the way. we at times only required love. it changed my life 4 ever. I hope my mom sees me today
2026-10-01 15:52:08
4
steve.casciano
Steve Casciano :
God Comes Homie/ Eventually
2026-09-29 18:22:43
2
kev16383737
kev16383737 :
Happened to me I used to defend my mom when she will get beat and instead of appreciating me I will get grounded and told why I’m in her business .
2026-10-10 04:50:56
1
user3228468430017
user3228468430017 :
it is little green I went to jail with you you were in a cell right next to mine v God bless u your friend. 💯😎
2026-10-05 00:25:03
2
arizona2made777
Arizona Creator :
Truth
2026-10-08 11:34:58
1
honestyizkey9
Bue True :
there's only ways to get love but first you've got to love yourself even when no one else does
2026-09-27 00:04:08
1
mekkocalcagno
mekkocalcagno :
💯 real 😎✌🏽
2026-10-10 13:13:56
1
rise3121
RISE :
Nobody is coming to help me
2026-09-27 16:17:32
1
natcota13
That Gammy :
Sad
2026-09-25 20:18:28
1
user7607558568
user7607558568 :
I think that's bullshit Ill show up my brother wtf
2026-10-06 09:18:52
1
aflores626
Adrian Flores :
#uck love
2026-10-04 04:15:01
1
ryebread7105
ryebread710 :
Remember when I knew inhad to turn myself in at 16. Once I hit 18 the help goes away. Told the cop I had warrants and pretty much forced him to take me downtown. Shit blew his mind. #homeawayfromhome
2026-09-28 04:27:39
1
josepaz1973
Jose Paz10516 :
Bo you are a fucking hero life is hard but we have to make it no matter what, im so fucking proud of you.
2026-10-04 07:09:24
1
omarsilverajr
Omar Silvera Jr :
Nobody coming bro
2026-10-14 03:09:57
0
go1369
go1369 :
🥹🥹
2026-09-26 02:27:10
1
To see more videos from user @tony626ynot, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

پختونخوا میں 11 اکتوبر 2026 کو ایمرجنسی کے نفاذ پر نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کا بیان  وفاقی حکومت کی جانب سے 11 اکتوبر 2026 کو پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ—جس کے نتیجے میں صوبائی حکومت کا خاتمہ، گورنر راج کا نفاذ اور وفاق کی جانب سے صوبے کے بارہ اضلاع کی غیر قانونی علیحدگی عمل میں آئی—ملک میں وفاقی جمہوریت اور پختونخوا کے عوام کے بنیادی حقوق پر ایک کھلم کھلا حملہ ہے۔ ملک میں پنجاب کے غلبے والے نظام کے اس اقدام نے پختونخوا کو بیسویں صدی کے اوائل کے نوآبادیاتی دور میں واپس دھکیل دیا ہے، جب اس وقت کے برطانوی وائسرائے لارڈ کرزن نے نام نہاد 'گریٹ گیم' کے تحت اضلاع کے درمیان نوآبادیاتی لکیریں کھینچ کر صوبے کے عوام کو تقسیم کر دیا تھا۔ صوبے سے 12 اضلاع کی علیحدگی کے حوالے سے وزیر داخلہ کا انکار بے معنی اور کھوکھلا معلوم ہوتا ہے، کیونکہ اسلام آباد نے پختونخوا کے ان 12 اضلاع میں 'ایریا ڈیولپمنٹ سیکریٹریٹ' کے نام سے ایک بالکل مختلف انتظامی نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے جو سابقہ فاٹا میں نافذ 'ایف سی آر' سے ملتا جلتا ہے۔ درحقیقت یہ اقدام صوبے کے قیمتی معدنی وسائل پر قبضے اور افغانستان و وسطی ایشیا میں نئی مہم جوئی کے لیے 'نو گو ایریا' اور 'بلیک ہول' کی بحالی کی خاطر سابقہ وفاقی زیرِ انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) کو وسیع تر شکل میں دوبارہ زندہ کرنے کی جانب پہلا قدم ہے۔ سوال یہ ہے کہ آئینی ترمیم کے ذریعے ہونے والے فاٹا کے انضمام کو کسی انتظامی حکم (ایگزیکٹو آرڈر) کے ذریعے کیسے کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے؟ یہ عمل درحقیقت آئین کے ایک حصے کو معطل کرنے کے مترادف ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ اقدام پختونخوا میں سابقہ فاٹا کے انضمام کو ختم کرنے کے حوالے سے ٹی ٹی پی کے مطالبے کو جزوی طور پر تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔ این ڈی ایم صوبائی حکومت کی نااہلی اور صوبے کے عوام کو گڈ گورننس، سماجی و اقتصادی ترقی اور بنیادی حقوق کی فراہمی میں اس کی ناکامیوں پر مسلسل تنقید کرتی رہی ہے۔ ہم نے خاص طور پر پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے سکیورٹی اسٹیٹ کے ایما پر اگست 2019 سے صوبے پر 'ایکشن ان ایڈ آف سول پاور ریگولیشن' (جسے پشاور ہائی کورٹ نے آئین سے متصادم قرار دیا تھا) کے غیر قانونی نفاذ پر کڑی تنقید کی ہے۔ مذکورہ ضابطے نے پختونخوا کو ایک 'پاکستانی گوانتانامو بے' میں تبدیل کر دیا ہے، جسے ہر قسم کے آئینی اور قانونی نظام سے باہر دھکیل دیا گیا ہے۔ جہاں تک صوبے میں دہشت گردی کے دوبارہ سر اٹھانے کا تعلق ہے، تو یہ
پختونخوا میں 11 اکتوبر 2026 کو ایمرجنسی کے نفاذ پر نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کا بیان وفاقی حکومت کی جانب سے 11 اکتوبر 2026 کو پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ—جس کے نتیجے میں صوبائی حکومت کا خاتمہ، گورنر راج کا نفاذ اور وفاق کی جانب سے صوبے کے بارہ اضلاع کی غیر قانونی علیحدگی عمل میں آئی—ملک میں وفاقی جمہوریت اور پختونخوا کے عوام کے بنیادی حقوق پر ایک کھلم کھلا حملہ ہے۔ ملک میں پنجاب کے غلبے والے نظام کے اس اقدام نے پختونخوا کو بیسویں صدی کے اوائل کے نوآبادیاتی دور میں واپس دھکیل دیا ہے، جب اس وقت کے برطانوی وائسرائے لارڈ کرزن نے نام نہاد 'گریٹ گیم' کے تحت اضلاع کے درمیان نوآبادیاتی لکیریں کھینچ کر صوبے کے عوام کو تقسیم کر دیا تھا۔ صوبے سے 12 اضلاع کی علیحدگی کے حوالے سے وزیر داخلہ کا انکار بے معنی اور کھوکھلا معلوم ہوتا ہے، کیونکہ اسلام آباد نے پختونخوا کے ان 12 اضلاع میں 'ایریا ڈیولپمنٹ سیکریٹریٹ' کے نام سے ایک بالکل مختلف انتظامی نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے جو سابقہ فاٹا میں نافذ 'ایف سی آر' سے ملتا جلتا ہے۔ درحقیقت یہ اقدام صوبے کے قیمتی معدنی وسائل پر قبضے اور افغانستان و وسطی ایشیا میں نئی مہم جوئی کے لیے 'نو گو ایریا' اور 'بلیک ہول' کی بحالی کی خاطر سابقہ وفاقی زیرِ انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) کو وسیع تر شکل میں دوبارہ زندہ کرنے کی جانب پہلا قدم ہے۔ سوال یہ ہے کہ آئینی ترمیم کے ذریعے ہونے والے فاٹا کے انضمام کو کسی انتظامی حکم (ایگزیکٹو آرڈر) کے ذریعے کیسے کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے؟ یہ عمل درحقیقت آئین کے ایک حصے کو معطل کرنے کے مترادف ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ اقدام پختونخوا میں سابقہ فاٹا کے انضمام کو ختم کرنے کے حوالے سے ٹی ٹی پی کے مطالبے کو جزوی طور پر تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔ این ڈی ایم صوبائی حکومت کی نااہلی اور صوبے کے عوام کو گڈ گورننس، سماجی و اقتصادی ترقی اور بنیادی حقوق کی فراہمی میں اس کی ناکامیوں پر مسلسل تنقید کرتی رہی ہے۔ ہم نے خاص طور پر پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے سکیورٹی اسٹیٹ کے ایما پر اگست 2019 سے صوبے پر 'ایکشن ان ایڈ آف سول پاور ریگولیشن' (جسے پشاور ہائی کورٹ نے آئین سے متصادم قرار دیا تھا) کے غیر قانونی نفاذ پر کڑی تنقید کی ہے۔ مذکورہ ضابطے نے پختونخوا کو ایک 'پاکستانی گوانتانامو بے' میں تبدیل کر دیا ہے، جسے ہر قسم کے آئینی اور قانونی نظام سے باہر دھکیل دیا گیا ہے۔ جہاں تک صوبے میں دہشت گردی کے دوبارہ سر اٹھانے کا تعلق ہے، تو یہ "فرنٹ لائن اسٹیٹ" کی ناکام سکیورٹی پالیسیوں، بالخصوص اس کی خودکشی پر مبنی افغان پالیسی کا نتیجہ ہے۔ پختونخوا کے عوام اس خود کشی پر مبنی پالیسی کے تہرے اثر یعنی بڑے پیمانے پر موت ، تباہی اور نقل مکانی جیسے سنگین مسائل کا شکار رہے ہیں۔ دہشت گردی کے سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی اسٹیٹ کو پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کے بجائے اپنی ناکام سکیورٹی پالیسی کو تبدیل کرنا ہوگا۔ حکمران سیاسی جماعتیں پختونخوا کے عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھنے کی ذمہ داری سے خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتیں۔ نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ، گورنر راج کے اطلاق اور بارہ اضلاع کو پختونخوا کے قانون سازی اور انتظامی دائرہ اختیار سے الگ کرنے کے اقدام کو مسترد کرتی ہے۔ ہم جمہوریت اور انسانی حقوق کی حمایت کرنے والی تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ جمہوریت اور انسانی حقوق پر غاصبوں اور جمہوریت مخالف قوتوں کے اس حملے کے خلاف مزاحمت کے لیے متحد ہوں۔ #MohsinDawar #ndm #mohsindawarspeakstruth

About