@mybeforelifee_: 𝖩𝗎𝗌𝗍 𝗍𝗁𝖾 𝗋𝗂𝗀𝗁𝗍 𝗉𝖾𝗋𝗌𝗈𝗇! #foryou #hawler_slemani_dhok_karkuk_hallabja #Love #russia #kurdish

ِ
ِ
Open In TikTok:
Region: IQ
Friday 25 September 2026 23:15:58 GMT
19010
2201
20
208

Music

Download

Comments

ruiii16_
ruiii16_ :
stulieee♥️
2026-09-25 23:19:41
3
deliiaaaaa._
deliiaaaaa._ :
Stulyyy
2026-09-26 01:32:09
2
k.7hh7
𝖷𝗈𝗓𝗀𝖺' :
Stuuu.❣️
2026-09-26 05:21:46
1
oliveaaaa._
🦢 :
Soulmateee❤️‍🔥
2026-09-26 10:08:08
2
zh.turkkmannn_
ᴢʜɪᴍᴀ :
loverii mn
2026-09-25 23:17:37
3
zh9nnii
𓍼 :
gulla min
2026-09-26 19:52:02
0
lyathx
່ :
2026-09-26 22:31:41
0
d.rwandzi.2
🐚 :
2026-09-26 05:51:51
1
ruiii16_
ruiii16_ :
trueeee
2026-09-25 23:19:21
2
k.7hh7
𝖷𝗈𝗓𝗀𝖺' :
Driiii mn.🙈
2026-09-26 05:21:54
2
deliiaaaaa._
deliiaaaaa._ :
Ouuu😭
2026-09-26 01:31:52
0
zh.turkkmannn_
ᴢʜɪᴍᴀ :
2026-09-25 23:18:42
0
oliveaaaa._
🦢 :
2026-09-26 10:07:55
0
deliiaaaaa._
deliiaaaaa._ :
2026-09-26 01:32:18
0
ruiii16_
ruiii16_ :
2026-09-25 23:19:49
1
k.7hh7
𝖷𝗈𝗓𝗀𝖺' :
2026-09-26 05:21:59
0
deliiaaaaa._
deliiaaaaa._ :
@TikTok @For You
2026-09-26 01:32:21
1
oliveaaaa._
🦢 :
@TikTok
2026-09-26 10:08:12
1
ruiii16_
ruiii16_ :
@TikTok
2026-09-25 23:19:35
0
zh.turkkmannn_
ᴢʜɪᴍᴀ :
@TikTok
2026-09-25 23:18:44
0
To see more videos from user @mybeforelifee_, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

#اپنوں کو چھوڑ کر پردیس جانا اپنوں کو چھوڑ کر پردیس جانا کبھی آسان نہیں ہوتا۔ انسان جب اپنے گھر، ماں باپ، بیوی بچوں اور اپنوں کو چھوڑ کر ایک اجنبی دیس کی طرف روانہ ہوتا ہے تو بظاہر وہ بہتر مستقبل کی تلاش میں سفر کر رہا ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں اس کے دل کا ایک حصہ وہیں اپنے گھر کی دہلیز پر رہ جاتا ہے۔ سب سے زیادہ مشکل اس شخص کے لیے ہوتی ہے جس کے گھر میں جوان بیوی، بوڑھے ماں باپ اور معصوم بچے اس کی راہ دیکھ رہے ہوں۔ رخصت ہوتے وقت ماں کی آنکھوں میں چھپی نمی، باپ کے خاموش چہرے پر چھپی فکر، بیوی کی آنکھوں میں جدائی کا درد اور بچوں کی معصوم آوازیں انسان کے دل کو چیر دیتی ہیں۔ ایسے لمحے میں کلیجہ منہ کو آتا ہے اور قدم آگے بڑھانا بھی مشکل محسوس ہوتا ہے۔ پردیس جانے والا شخص اپنے گھر والوں سے دور رہ کر دن رات محنت کرتا ہے۔ اسے نہ بچوں کی شرارتیں دیکھنے کو ملتی ہیں، نہ ماں کے ہاتھ کا کھانا نصیب ہوتا ہے، نہ باپ کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنے کا موقع ملتا ہے اور نہ ہی بیوی کے ساتھ زندگی کے چھوٹے چھوٹے خوشگوار لمحے گزارنے کا سکون۔ تہوار آتے ہیں، خوشیاں آتی ہیں، مگر اپنوں کے بغیر ہر خوشی ادھوری محسوس ہوتی ہے۔ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ پردیس میں رہنے والا شخص بہت خوشحال اور آرام دہ زندگی گزار رہا ہوگا، لیکن وہ یہ نہیں دیکھتے کہ اس خوشحالی کے پیچھے کتنی تنہائیاں، کتنی قربانیاں اور کتنی ادھوری خوشیاں چھپی ہوتی ہیں۔ کبھی رات کے سناٹے میں بچوں کی یاد آتی ہے، کبھی ماں کی آواز کانوں میں گونجتی ہے اور کبھی بیوی کا چہرہ آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے۔ تب انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ دنیا کی کوئی دولت اپنے لوگوں کی محبت کا نعم البدل نہیں۔ پردیس کی کمائی شاید گھر کے حالات بدل دے، بچوں کا مستقبل سنوار دے اور والدین کی ضروریات پوری کر دے، مگر اپنوں سے دوری کا درد کم نہیں کر سکتی۔ یہ جدائی انسان کو اندر سے مضبوط بھی بناتی ہے اور خاموش بھی۔ وہ اپنے آنسو چھپا کر مسکراتا ہے تاکہ گھر والے پریشان نہ ہوں، مگر اس کے دل میں ہر لمحہ اپنے گھر کی یاد بسی رہتی ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ پردیس صرف فاصلے کا نام نہیں، بلکہ یہ قربانی کا دوسرا نام ہے۔ جو شخص اپنے اپنوں سے دور جا کر ان کے بہتر مستقبل کے لیے محنت کرتا ہے، وہ اپنی خواہشوں، آرام اور خوشیوں کا ایک بڑا حصہ قربان کرتا ہے۔ اللہ ہر اس شخص کی محنت قبول فرمائے جو اپنے گھر والوں کے بہتر مستقبل کے لیے پردیس کی تنہائی برداشت کر رہا ہے، اور اسے جلد وہ دن دکھائے جب وہ اپنے ماں باپ، بیوی اور بچوں کے درمیان بیٹھ کر کہہ سکے: “بس بہت دور رہ لیے، اب اپنے لوگوں کے ساتھ ہی زندگی گزارنی ہے۔”
#اپنوں کو چھوڑ کر پردیس جانا اپنوں کو چھوڑ کر پردیس جانا کبھی آسان نہیں ہوتا۔ انسان جب اپنے گھر، ماں باپ، بیوی بچوں اور اپنوں کو چھوڑ کر ایک اجنبی دیس کی طرف روانہ ہوتا ہے تو بظاہر وہ بہتر مستقبل کی تلاش میں سفر کر رہا ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں اس کے دل کا ایک حصہ وہیں اپنے گھر کی دہلیز پر رہ جاتا ہے۔ سب سے زیادہ مشکل اس شخص کے لیے ہوتی ہے جس کے گھر میں جوان بیوی، بوڑھے ماں باپ اور معصوم بچے اس کی راہ دیکھ رہے ہوں۔ رخصت ہوتے وقت ماں کی آنکھوں میں چھپی نمی، باپ کے خاموش چہرے پر چھپی فکر، بیوی کی آنکھوں میں جدائی کا درد اور بچوں کی معصوم آوازیں انسان کے دل کو چیر دیتی ہیں۔ ایسے لمحے میں کلیجہ منہ کو آتا ہے اور قدم آگے بڑھانا بھی مشکل محسوس ہوتا ہے۔ پردیس جانے والا شخص اپنے گھر والوں سے دور رہ کر دن رات محنت کرتا ہے۔ اسے نہ بچوں کی شرارتیں دیکھنے کو ملتی ہیں، نہ ماں کے ہاتھ کا کھانا نصیب ہوتا ہے، نہ باپ کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنے کا موقع ملتا ہے اور نہ ہی بیوی کے ساتھ زندگی کے چھوٹے چھوٹے خوشگوار لمحے گزارنے کا سکون۔ تہوار آتے ہیں، خوشیاں آتی ہیں، مگر اپنوں کے بغیر ہر خوشی ادھوری محسوس ہوتی ہے۔ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ پردیس میں رہنے والا شخص بہت خوشحال اور آرام دہ زندگی گزار رہا ہوگا، لیکن وہ یہ نہیں دیکھتے کہ اس خوشحالی کے پیچھے کتنی تنہائیاں، کتنی قربانیاں اور کتنی ادھوری خوشیاں چھپی ہوتی ہیں۔ کبھی رات کے سناٹے میں بچوں کی یاد آتی ہے، کبھی ماں کی آواز کانوں میں گونجتی ہے اور کبھی بیوی کا چہرہ آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے۔ تب انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ دنیا کی کوئی دولت اپنے لوگوں کی محبت کا نعم البدل نہیں۔ پردیس کی کمائی شاید گھر کے حالات بدل دے، بچوں کا مستقبل سنوار دے اور والدین کی ضروریات پوری کر دے، مگر اپنوں سے دوری کا درد کم نہیں کر سکتی۔ یہ جدائی انسان کو اندر سے مضبوط بھی بناتی ہے اور خاموش بھی۔ وہ اپنے آنسو چھپا کر مسکراتا ہے تاکہ گھر والے پریشان نہ ہوں، مگر اس کے دل میں ہر لمحہ اپنے گھر کی یاد بسی رہتی ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ پردیس صرف فاصلے کا نام نہیں، بلکہ یہ قربانی کا دوسرا نام ہے۔ جو شخص اپنے اپنوں سے دور جا کر ان کے بہتر مستقبل کے لیے محنت کرتا ہے، وہ اپنی خواہشوں، آرام اور خوشیوں کا ایک بڑا حصہ قربان کرتا ہے۔ اللہ ہر اس شخص کی محنت قبول فرمائے جو اپنے گھر والوں کے بہتر مستقبل کے لیے پردیس کی تنہائی برداشت کر رہا ہے، اور اسے جلد وہ دن دکھائے جب وہ اپنے ماں باپ، بیوی اور بچوں کے درمیان بیٹھ کر کہہ سکے: “بس بہت دور رہ لیے، اب اپنے لوگوں کے ساتھ ہی زندگی گزارنی ہے۔”

About