@ami_valor: #unboxing #cdkatun #joinlive

Ami_valor
Ami_valor
Open In TikTok:
Region: ID
Saturday 26 September 2026 06:45:00 GMT
482
4
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @ami_valor, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

گھر کے بڑے لڑتے وقت یہ کیوں نہیں سوچتے کہ اُن کی آوازیں صرف دیواروں سے ٹکرا کر واپس نہیں آتیں… وہ بچوں کے دلوں میں اتر جاتی ہیں۔ بڑے تو کچھ دیر بعد صلح کر لیتے ہیں، ایک دوسرے کو منا لیتے ہیں، شاید بھول بھی جاتے ہیں کہ غصے میں کیا کچھ کہہ گئے تھے… لیکن بچے؟ وہ کہاں بھول پاتے ہیں؟ وہ ڈرتے ہوئے چہرے، وہ بلند آوازیں، وہ ایک دوسرے پر لگائے گئے الزام، وہ روتی ہوئی ماں یا غصے میں بھرے ہوئے باپ کا منظر… سب کچھ اُن کے ذہن میں نقش ہو جاتا ہے۔ بچہ بظاہر اگلے دن پھر مسکرا رہا ہوتا ہے، کھیل رہا ہوتا ہے، اسکول جا رہا ہوتا ہے… مگر اُس کے اندر کچھ خاموشی سے ٹوٹ چکا ہوتا ہے۔ پھر وہ سیکھتا ہے کہ گھر میں سکون قائم رکھنے کے لیے خاموش رہنا ہے۔ اپنی خواہشیں دبا دینی ہیں۔ بات بڑھنے سے پہلے پیچھے ہٹ جانا ہے۔ کسی کو ناراض نہیں کرنا۔ ہر تعلق کو بچانے کے لیے خود کو سمجھوتے پر مجبور کرنا ہے۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ کچھ بچے بڑے ہو کر محبت سے زیادہ سمجھوتا کرنا جانتے ہیں۔ وہ محبت میں بھی ڈرتے ہیں، اپنی بات کہتے ہوئے جھجکتے ہیں، اختلاف کو جدائی سمجھنے لگتے ہیں، اور اونچی آواز سنتے ہی اندر سے سہَم جاتے ہیں۔ گھر کی لڑائی صرف اُس وقت تک نہیں رہتی جب تک آوازیں آ رہی ہوتی ہیں… کبھی کبھی اُس کے اثرات بچے کے اندر برسوں بولتے رہتے ہیں۔ خاموشی بعض اوقات چیخوں سے بھی زیادہ بولتی ہے، کیونکہ بچہ بہت کچھ کہہ نہیں پاتا… بس اپنے اندر محفوظ کرتا رہتا ہے۔ اس لیے اگر گھر میں اختلاف ہو بھی جائے تو بچوں کے سامنے ایک دوسرے کو توڑنے کے بجائے، اپنے غصے کو روکنے کی کوشش کریں۔ کیونکہ بڑے اپنی لڑائی ختم کر سکتے ہیں، مگر بچے اُن لڑائیوں کے اثرات سے ساری عمر لڑتے رہ سکتے ہیں۔ بچوں کو صرف گھر نہیں چاہیے… انہیں ایسا گھر چاہیے جہاں محبت دیکھ کر وہ محبت سیکھیں، اور سکون دیکھ کر سکون۔ 🤍 #بچے #گھر #والدین #رشتے #حقیقت
گھر کے بڑے لڑتے وقت یہ کیوں نہیں سوچتے کہ اُن کی آوازیں صرف دیواروں سے ٹکرا کر واپس نہیں آتیں… وہ بچوں کے دلوں میں اتر جاتی ہیں۔ بڑے تو کچھ دیر بعد صلح کر لیتے ہیں، ایک دوسرے کو منا لیتے ہیں، شاید بھول بھی جاتے ہیں کہ غصے میں کیا کچھ کہہ گئے تھے… لیکن بچے؟ وہ کہاں بھول پاتے ہیں؟ وہ ڈرتے ہوئے چہرے، وہ بلند آوازیں، وہ ایک دوسرے پر لگائے گئے الزام، وہ روتی ہوئی ماں یا غصے میں بھرے ہوئے باپ کا منظر… سب کچھ اُن کے ذہن میں نقش ہو جاتا ہے۔ بچہ بظاہر اگلے دن پھر مسکرا رہا ہوتا ہے، کھیل رہا ہوتا ہے، اسکول جا رہا ہوتا ہے… مگر اُس کے اندر کچھ خاموشی سے ٹوٹ چکا ہوتا ہے۔ پھر وہ سیکھتا ہے کہ گھر میں سکون قائم رکھنے کے لیے خاموش رہنا ہے۔ اپنی خواہشیں دبا دینی ہیں۔ بات بڑھنے سے پہلے پیچھے ہٹ جانا ہے۔ کسی کو ناراض نہیں کرنا۔ ہر تعلق کو بچانے کے لیے خود کو سمجھوتے پر مجبور کرنا ہے۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ کچھ بچے بڑے ہو کر محبت سے زیادہ سمجھوتا کرنا جانتے ہیں۔ وہ محبت میں بھی ڈرتے ہیں، اپنی بات کہتے ہوئے جھجکتے ہیں، اختلاف کو جدائی سمجھنے لگتے ہیں، اور اونچی آواز سنتے ہی اندر سے سہَم جاتے ہیں۔ گھر کی لڑائی صرف اُس وقت تک نہیں رہتی جب تک آوازیں آ رہی ہوتی ہیں… کبھی کبھی اُس کے اثرات بچے کے اندر برسوں بولتے رہتے ہیں۔ خاموشی بعض اوقات چیخوں سے بھی زیادہ بولتی ہے، کیونکہ بچہ بہت کچھ کہہ نہیں پاتا… بس اپنے اندر محفوظ کرتا رہتا ہے۔ اس لیے اگر گھر میں اختلاف ہو بھی جائے تو بچوں کے سامنے ایک دوسرے کو توڑنے کے بجائے، اپنے غصے کو روکنے کی کوشش کریں۔ کیونکہ بڑے اپنی لڑائی ختم کر سکتے ہیں، مگر بچے اُن لڑائیوں کے اثرات سے ساری عمر لڑتے رہ سکتے ہیں۔ بچوں کو صرف گھر نہیں چاہیے… انہیں ایسا گھر چاہیے جہاں محبت دیکھ کر وہ محبت سیکھیں، اور سکون دیکھ کر سکون۔ 🤍 #بچے #گھر #والدین #رشتے #حقیقت

About