@merabchik963:

A man from nowhere 963
A man from nowhere 963
Open In TikTok:
Region: GE
Saturday 26 September 2026 05:45:11 GMT
294
23
4
0

Music

Download

Comments

user16100686190455
viktoriya :
Как активировать мозг? Техники...?🤔
2026-09-26 15:20:34
0
user77254481910002
Eduard :
это правда
2026-09-26 11:29:31
0
user5828826814475
Мідний :
[Палець угору]
2026-09-26 10:41:12
0
user1354837129619
Оксана :
🥰🥰🥰
2026-09-26 16:57:19
0
To see more videos from user @merabchik963, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

یاد بن گیا وہ… شہریار اور عینا کی محبت کی مثال پورے کالج میں دی جاتی تھی۔ دونوں ایک دوسرے کے بغیر ایک پل نہیں رہ سکتے تھے، لیکن عینا کا مزاج تھوڑا ضدی اور مغرور تھا۔ وہ ہمیشہ چاہتی تھی کہ شہریار ہی پہلے منائے، وہی ہر بار جھکے اور ہر غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے ہاتھ جوڑے۔ شہریار اس کی اس ضد سے اچھی طرح واقف تھا اور مسکرا کر کہتا،
یاد بن گیا وہ… شہریار اور عینا کی محبت کی مثال پورے کالج میں دی جاتی تھی۔ دونوں ایک دوسرے کے بغیر ایک پل نہیں رہ سکتے تھے، لیکن عینا کا مزاج تھوڑا ضدی اور مغرور تھا۔ وہ ہمیشہ چاہتی تھی کہ شہریار ہی پہلے منائے، وہی ہر بار جھکے اور ہر غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے ہاتھ جوڑے۔ شہریار اس کی اس ضد سے اچھی طرح واقف تھا اور مسکرا کر کہتا، "عینا! پیار میں ضد نہیں چلتی، محبت میں جھک جانا ہار نہیں ہوتی۔ کسی دن تمہاری یہ ضد بہت مہنگی پڑے گی۔" عینا ہنس کر بات ٹال دیتی، "تم جا ہی کہاں سکتے ہو شہریار؟ تم تو میری عادت بن چکے ہو۔" پھر وہ شام آئی... ایک معمولی سی بات پر عینا شہریار سے ناراض ہو گئی۔ غلطی عینا کی تھی، لیکن اس نے اپنی روایتی ضد قائم رکھی اور شہریار کا فون کاٹ دیا۔ شہریار نے بار بار کالز کیں، میسجز کیے: "عینا، پلیز فون اٹھاؤ... مجھے تم سے بات کرنی ہے۔ اگر آج ہم نہ سنبھلے تو شاید کبھی موقع نہ ملے۔" لیکن عینا نے اپنے دل کو سخت کر لیا اور سوچا: 'ہر بار کی طرح اس بار بھی یہ خود میرے گھر کے باہر آئے گا، تڑپے گا، تبھی مناؤں گی۔' شہریار نے آخری میسج بھیجا: "ٹوٹ جائے گی تمہاری ضد کی عادت اس دن... جب پتہ چلے گا کہ یاد کرنے والا اب خود ایک یاد بن گیا ہے۔" عینا نے میسج پڑھ کر بھی جواب نہ دیا اور فون سائیڈ پر رکھ کر سو گئی۔ اگلی صبح... صبح کے آٹھ بج رہے تھے۔ عینا کا فون مسلسل بج رہا تھا۔ اس نے غصے میں فون اٹھایا، سوچا شہریار ہوگا، لیکن دوسری طرف شہریار کی والدہ کی روتی ہوئی آواز تھی: "عینا... شہریار... شہریار تمہیں چھوڑ کر چلا گیا۔" عینا کا دل دھک سے رہ گیا۔ وہ بدحواس حالت میں اسپتال بھاگی۔ وہم و گمان میں بھی یہی تھا کہ شہریار کوئی ڈرامہ کر رہا ہوگا تاکہ عینا کی ضد ٹوٹے۔ لیکن جب وہ اسپتال کے اس ٹھنڈے کمرے میں پہنچی، تو سامنے شہریار سفید چادر میں لپٹا بے حس و حرکت لیٹا تھا۔ اس کے منہ پر آکسیجن ماسک ہٹا دیا گیا تھا اور چہرے پر ایک سکون بخش لیکن دردناک خاموشی تھی۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ رات عینا کے پاس سے نکلنے کے بعد شہریار شدید ذہنی تناؤ میں گاڑی چلا رہا تھا اور ایک دردناک حادثے کا شکار ہو گیا۔ آخری وقت تک اس کے لبوں پر صرف ایک ہی نام تھا... "عینا..." عینا کا پورا وجود کانپ اٹھا۔ وہ شہریار کے بے جان جسم سے لپٹ گئی، اس کے چہرے کو چومنے لگی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی: "شہریار! اٹھو نا... دیکھو میں آ گئی ہوں۔ میں اپنی ساری ضد چھوڑتی ہوں! تم جو کہو گے میں مانوں گی، میں کبھی تم سے ناراض نہیں ہوں گی۔ پلیز ایک بار آنکھیں کھولو!" لیکن وہاں صرف ایک گہری خاموشی تھی... وہ خاموشی جو اب زندگی بھر عینا کا مقدر بن چکی تھی۔ آج عینا کی وہ ضد ہمیشہ کے لیے ٹوٹ چکی تھی... لیکن اس ضد کو توڑنے والا اب اس کی دنیا میں نہیں، بلکہ صرف اس کی یادوں میں باقی رہ گیا تھا۔ #foryou #growmyaccount #foryoupage #permanent_lock🔐 #شہزادی_شہزادہ👸

About