@khizarsreflections: بیوروکریسی کا اصل کام پسِ منظر میں رہ کر نظام کو چلانا ہے سامنے آ کر تماشا بنانا نہیں۔ آج کل نئے افسران کا ایک بڑا حصہ اس اصول کو الٹ چکا ہے۔ وہ خدمت کے بجائے اپنی تصویر سنوارنے میں مصروف ہیں۔ سوشل میڈیا ان کے لیے عوامی رابطے کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ ذاتی تشہیر کا پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ کھلی عدالتیں لگا کر، ڈرامائی انداز میں معطل کرنے کے کلپس بنا کر، لاکھوں ویوز حاصل کیے جا رہے ہیں۔ لوگ انہیں مسیحا سمجھنے لگتے ہیں حالانکہ اصل میں یہ نظام کی ناکامی کا ثبوت ہے، کامیابی کا نہیں۔ یہاں ایک گہری بات چھپی ہے کہ طاقت جب خاموشی سے استعمال ہوتی ہے تو وہ نظام کو مضبوط کرتی ہے۔ جب وہ نمائش بن جاتی ہے تو صرف فرد کو بڑا کرتی ہے۔ جو افسر کیمرے کے سامنے معطل کرتا ہے، وہ درحقیقت اپنے وجود کو ثابت کر رہا ہوتا ہے، نہ کہ انصاف کو۔ یہ وہی پرانی انسانی کمزوری ہے جس میں آدمی کام کرنے کے بجائے دکھانا چاہتا ہے۔ وہ خدمت کے لبادے میں خود کو پیش کرتا ہے، اور آہستہ آہستہ خدمت پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ اگر مشینری ٹھیک کام کر رہی ہو تو کسی ایک افسر کو کیمرے کے سامنے عدالت لگانے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ مستحکم نظاموں میں کام خاموشی سے ہوتا ہے۔ یہاں خاموشی کو کمزوری سمجھا جانے لگا ہے اور شور کو کامیابی، اس لیے بیوروکریٹ مشین کا پرزہ رہنے کے بجائے خود ایک اداکار بن جاتا ہے۔ وردی پہننے کے بعد خود نمائی تقریباً صفر ہونی چاہیے کیونکہ وردی فرد کو مٹا کر ادارے کو زندہ رکھتی ہے۔ جو شخص اس حقیقت کو بھول جائے، وہ چاہے کتنے ہی ویوز حاصل کر لے، اصل میں نظام کو کمزور کر رہا ہوتا ہے۔ تماشا کبھی حکومت نہیں بن سکتا وہ صرف حکومت کا بھرم برقرار رکھتا ہے جب تک لوگ اسے حقیقت سمجھتے رہیں . . . . . . . . . . #khizarsreflections #foryoupage #viralreels #PakPolitics #exploremore