@general.knowledge453: *ہمیں گرانے والے بہت تھے زمانے میں، مگر ہماری ہمت نے ہر بار ہمیں اٹھا دیا* یہ دنیا تماشائی ہے، یہاں گرے ہوئے کو اٹھانے والے کم اور گرتے ہوئے کو دیکھ کر ہنسنے والے زیادہ ہوتے ہیں۔ ہماری زندگی میں بھی ایسا ہی ہوا۔ ہمیں گرانے والوں کی کوئی کمی نہیں تھی۔ کسی نے سازش سے گرانا چاہا، کسی نے حسد سے، کسی نے ہماری خوشی چھین کر، کسی نے ہمارے اپنے بن کر پیٹھ میں چھرا گھونپ کر۔ ہر کسی نے اپنی پوری کوشش کی کہ ہم گر جائیں، ہم ٹوٹ جائیں، ہم ہار مان لیں اور کبھی دوبارہ کھڑے نہ ہو سکیں۔ وہ بھول گئے تھے کہ انسان کو حالات نہیں، اس کی ہمت گرتی اور اٹھاتی ہے۔ اور ہماری ہمت لوہے سے بھی زیادہ مضبوط تھی۔ ہم گرے ضرور، کئی بار گرے، لیکن ہر بار گر کر پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر اٹھے۔ ہر زخم نے ہمیں کمزور نہیں، بلکہ اور بہادر بنا دیا۔ جن لوگوں نے ہمیں گرانا چاہا تھا، آج وہی لوگ حیران کھڑے دیکھ رہے ہیں کہ یہ کیسے ہر بار گر کر بھی دوبارہ کھڑا ہو جاتا ہے۔ یاد رکھو، تمہیں گرانے والے ہزار ہوں گے، لیکن تمہیں اٹھانے کے لیے تمہاری ایک ہمت ہی کافی ہے۔ اگر ہمت زندہ ہے تو دنیا کی کوئی طاقت تمہیں گرا نہیں سکتی۔