@mininune: ครีมซองจาก รพ.ศัลยกรรมเกาหลี ใครจุดด่างดำเยอะแบบเรา ลองเลย!!!! #MEDIJEWELRY #MediJewelryThailand #CreamTheJewel #ดูแลรอยด่างดำ #ผิวกระจ่างใส

Mininune
Mininune
Open In TikTok:
Region: TH
Saturday 26 September 2026 10:50:07 GMT
24
3
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @mininune, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

> *إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ تَفَرَّغْ لِعِبَادَتِي أَمْلَأْ صَدْرَكَ غِنًى وَأَسُدَّ فَقْرَكَ* مکمل حدیث اس طرح ہے: *وَإِلَّا تَفْعَلْ مَلَأْتُ يَدَيْكَ شُغْلًا وَلَمْ أَسُدَّ فَقْرَكَ* - *جامع ترمذی: 2466* - کتاب صفة القیامة، باب التوکل - *سنن ابن ماجہ: 4107* - کتاب الزہد - *مسند احمد: 21690* - *مشکوة المصابیح: 5172* - یہ ترمذی اور ابن ماجہ کے حوالے سے ہی لکھا گیا ہے، اس لیے کتاب میں 5172 نمبر پر ہے - *راوی:* حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ - *درجہ:* *صحیح* - امام حاکم نے صحیح الاسناد کہا، امام ذہبی نے موافقت کی، علامہ البانی نے صحیح الترغیب *3166* میں اسے صحیح کہا ہے۔ یہ *حدیثِ قدسی* ہے، یعنی نبی کریم ﷺ اللہ کا فرمان نقل فرما رہے ہیں۔ *2. تفصیلی تشریح - تصویر میں جو کعبہ دکھایا گیا ہے، اس حدیث کا مقصد بھی یہی ہے:* اللہ تعالیٰ نہیں کہہ رہا کہ تم کاروبار چھوڑ کر جنگل میں بیٹھ جاؤ۔ *تَفَرَّغْ لِعِبَادَتِي* کا مطلب ہے: *دل کو فارغ کر لو:* آج ہم جسم سے مسجد میں ہوتے ہیں، نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں لیکن دل کاروبار میں، دل دکان میں۔ اللہ فرماتا ہے اے انسان! جب عبادت کرے تو دل کو ہر چیز سے فارغ کر کے صرف میرے لیے کر لے۔ نماز کو نماز کی طرح، ذکر کو دل سے کر۔ *اس کے دو انعام اللہ نے وعدہ کیے ہیں:* 1.  *أَمْلَأْ صَدْرَكَ غِنًى - میں تیرے دل کو مالداری (قناعت) سے بھر دوں گا:*     یہ بہت بڑی دولت ہے۔ آج لوگ کروڑ پتی ہیں لیکن دل فقیر ہے، اور بے چین ہے۔ قناعت یہ ہے کہ جو اللہ نے دیا اس پر دل خوش ہو جائے۔ جب دل عبادت میں لگتا ہے تو اللہ دنیا کی حرص نکال کر دل میں امیری بھر دیتا ہے۔ 2.  *وَأَسُدَّ فَقْرَكَ - اور تیری محتاجی ختم کر دوں گا:*     تیری ضروریات میں خود پوری کر دوں گا، تجھے لوگوں کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلانا پڑے گا۔ *اور اگر ایسا نہ کیا تو؟* حدیث کے دوسرے حصے میں فرمایا: *
> *إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ تَفَرَّغْ لِعِبَادَتِي أَمْلَأْ صَدْرَكَ غِنًى وَأَسُدَّ فَقْرَكَ* مکمل حدیث اس طرح ہے: *وَإِلَّا تَفْعَلْ مَلَأْتُ يَدَيْكَ شُغْلًا وَلَمْ أَسُدَّ فَقْرَكَ* - *جامع ترمذی: 2466* - کتاب صفة القیامة، باب التوکل - *سنن ابن ماجہ: 4107* - کتاب الزہد - *مسند احمد: 21690* - *مشکوة المصابیح: 5172* - یہ ترمذی اور ابن ماجہ کے حوالے سے ہی لکھا گیا ہے، اس لیے کتاب میں 5172 نمبر پر ہے - *راوی:* حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ - *درجہ:* *صحیح* - امام حاکم نے صحیح الاسناد کہا، امام ذہبی نے موافقت کی، علامہ البانی نے صحیح الترغیب *3166* میں اسے صحیح کہا ہے۔ یہ *حدیثِ قدسی* ہے، یعنی نبی کریم ﷺ اللہ کا فرمان نقل فرما رہے ہیں۔ *2. تفصیلی تشریح - تصویر میں جو کعبہ دکھایا گیا ہے، اس حدیث کا مقصد بھی یہی ہے:* اللہ تعالیٰ نہیں کہہ رہا کہ تم کاروبار چھوڑ کر جنگل میں بیٹھ جاؤ۔ *تَفَرَّغْ لِعِبَادَتِي* کا مطلب ہے: *دل کو فارغ کر لو:* آج ہم جسم سے مسجد میں ہوتے ہیں، نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں لیکن دل کاروبار میں، دل دکان میں۔ اللہ فرماتا ہے اے انسان! جب عبادت کرے تو دل کو ہر چیز سے فارغ کر کے صرف میرے لیے کر لے۔ نماز کو نماز کی طرح، ذکر کو دل سے کر۔ *اس کے دو انعام اللہ نے وعدہ کیے ہیں:* 1. *أَمْلَأْ صَدْرَكَ غِنًى - میں تیرے دل کو مالداری (قناعت) سے بھر دوں گا:* یہ بہت بڑی دولت ہے۔ آج لوگ کروڑ پتی ہیں لیکن دل فقیر ہے، اور بے چین ہے۔ قناعت یہ ہے کہ جو اللہ نے دیا اس پر دل خوش ہو جائے۔ جب دل عبادت میں لگتا ہے تو اللہ دنیا کی حرص نکال کر دل میں امیری بھر دیتا ہے۔ 2. *وَأَسُدَّ فَقْرَكَ - اور تیری محتاجی ختم کر دوں گا:* تیری ضروریات میں خود پوری کر دوں گا، تجھے لوگوں کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلانا پڑے گا۔ *اور اگر ایسا نہ کیا تو؟* حدیث کے دوسرے حصے میں فرمایا: *"اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرے ہاتھوں کو مصروفیات سے بھر دوں گا اور تیری محتاجی دور نہیں کروں گا"* یعنی تو صبح سے شام تک بھاگتا رہے گا، ایک کام ختم دوسرا شروع، لیکن نہ دل کو سکون ملے گا، نہ جیب بھری رہے گی۔ یہی آج ہمارے معاشرے کی حقیقت ہے جس کا آپ نے پچھلی تحریروں میں ذکر کیا تھا - *ہر شخص اخراجات پورے نہ ہونے کا شکوہ کرتا ہے۔* اس کا علاج اس حدیث میں ہے: دل کو اللہ کے لیے فارغ کرو، دنیا خود تمہارے پیچھے ذلیل ہو کر آئے گی۔

About