@farrukh.abdullah1: #PLD 2026 SC 333 کی روشنی میں یہ قانونی اصل بالکل واضح اور قطعی ہے: اگر کسی درخواست میں قابلِ دست اندازی پولیس جرم (Cognizable Offence) کا انکشاف ہوتا ہو، تو ایس ایچ او (SHO) یہ بہانہ بنا کر ایف آئی آر (FIR) درج کرنے سے انکار نہیں کر سکتا کہ معاملہ دیوانی یا زمین کے تنازع (Civil/Land Dispute) کا ہے۔ اس فیصلے کی اہم ترین قانونی نکات اور تشریح: ضابطہ فوجداری کی دفعہ 154 (Section 154 CrPC) کا لازمی عمل: قانون کے تحت جب بھی پولیس کو کسی قابلِ دست اندازی جرم (مثلاً: زبردستی قبضہ، حملہ، دھمکیاں، توڑ پھوڑ، یا خرد برد) کی اطلاع ملتی ہے، تو ایس ایچ او پر لازمی (Mandatory) ہے کہ وہ فوری طور پر ایف آئی آر درج کرے۔ دیوانی تنازع کا بہانہ غیر قانونی: اکثر پولیس اہلکار زمین، جائیداد یا مالی لین دین کے معاملات کو "سول نیچر" (Civil Nature) قرار دے کر کارروائی سے گریز کرتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے نے واضح کر دیا ہے کہ اگر دیوانی تنازع کے ساتھ ساتھ کوئی فوجداری جرم بھی سرزد ہوا ہے، تو پولیس اپنی ذمہ داری سے بھاگ نہیں سکتی۔ ایس ایچ او کا اختیار اور حد: ایس ایچ او کو ایف آئی آر درج کرنے سے پہلے یہ طے کرنے کا اختیار نہیں ہے کہ معاملہ سچا ہے یا جھوٹا، اور نہ ہی وہ ابتدائی طور پر اس کو سول معاملہ کہہ کر درخواست داخلِ دفتر کر سکتا ہے۔ مقدمہ درج کرنا پولیس کا قانونی فرض ہے، اور سچ یا جھوٹ کا تعین بعد میں تفتیش (Investigation) کے دوران ہوتا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ کا دوٹوک پیغام: یہ فیصلہ شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور پولیس گردی یا غفلت کے خاتمے کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس سے سائلین کو یہ طاقت ملتی ہے کہ وہ زمین کے قبضے یا تنازعات کے دوران ہونے والے جرائم پر پولیس کو قانونی طور پر ایف آئی آر کا پابند بنا سکیں۔ اگر ایس ایچ او پھر بھی ایف آئی آر درج نہ کرے تو قانونی راستہ: 1. ایس ایس پی / ڈی پی او (DPO/SSP) کو درخواست: متعلقہ ایس ایچ او کی شکایت اور ایف آئی آر کے لیے ڈی پی او یا ایس ایس پی کو زیر دفعہ 154(3) CrPC تحریری درخواست دیں۔ 2. جسٹس آف پیس (Justice of Peace - 22-A/22-B CrPC): اگر پھر بھی کارروائی نہ ہو، تو سیشن کورٹ میں 22-A / 22-B CrPC کے تحت ایگزیکٹو درخواست دائر کریں، جہاں سے عدالت ایس ایچ او کو ایف آئی آر درج کرنے کا حکم جاری کرتی ہے۔