@oreshick: TWITCH:MELLSTROY #меллстрой #мем #мемы #бурмалда #fyp

Oreshick
Oreshick
Open In TikTok:
Region: UA
Saturday 26 September 2026 18:09:39 GMT
67289
11951
109
6691

Music

Download

Comments

w1ntex67_
w1ntex67_ :
А он реально говорил что хочеться движухи?
2026-09-26 23:16:37
66
hammamnost_men
hammam :
Я на протяжении всего видео
2026-09-27 08:07:50
28
user_115640
☢️🔦🚷Челябинский_URBEX☢️🔦🚷2 :
2026-09-27 05:56:48
14
retroooo29
я бульба :
а почему Навальный превратился в мелстроя
2026-09-27 02:11:36
281
boss_1140kaloleibus
Босс 1140 калолейбуса :
А это какой именно клон был?
2026-09-26 18:13:40
1081
doomguy839
хееенк :
после смерти ада и рая нет
2026-09-26 18:27:58
327
user8178608018824
ананас :
2026-09-27 02:22:49
21
ivan42417
Ivan :
Меми с меллстроем дошли, и до политики
2026-09-27 07:07:29
7
kartel3085
ладим ладимыч :
почему не залетело
2026-09-26 20:17:30
29
user8583688767827
𝑠𝑎𝑛𝑠 :
2026-09-26 20:20:04
23
mroreshick
Чекушонок :
2026-09-26 18:17:00
12
pidorcheek4
Ivanmamchich :
а че путин радиоктивный?
2026-09-27 08:00:25
0
hmzz39_official
hmzz39 :
2026-09-26 18:17:05
71
danekiswhite
БУРМАЛЗАЯЦ :
Буквально следующие видео
2026-09-27 00:28:02
3
.a4morall
Тгк:A4mor4ll :
это типо 3 вселенные нарезчиков встретились в одной?Мнлстрц,Путин,Навальный
2026-09-27 08:22:35
1
burmaldarik7
burmaldarik :
за это не выплатят
2026-09-27 05:43:02
0
mc_fly779
Повелитель Вселенной :
скоро это будет популярным
2026-09-27 05:47:46
1
nisik933
Nisik933 :
2026-09-26 23:02:15
3
s1pota2
s1pota :
Виталий пропал
2026-09-26 20:42:31
1
user7172541537842
Nolahiv711 :
Зачётный видос, ставлю лосяру👍
2026-09-26 20:22:16
1
pelme626
dark :
@qeertxawayss он дарит подарки
2026-09-26 21:21:43
1
mihowka.ww6752
𝕸𝖎𝖍𝖔𝖓𝖐𝖆_𝖜𝖜 :
2026-09-27 08:50:36
0
pavel.cat3
pavel cat :
2026-09-27 08:23:51
0
oqdyc231
:3 :
2026-09-27 08:29:40
0
potyshnolenskiy_tramp
ItsJohn :
1
2026-09-26 18:14:35
0
To see more videos from user @oreshick, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

سسکیاں لیتا ہے وجود میرا نوچ کر کھا گئیں یادیں تیری رات کا کوئی خاص وقت نہیں ہوتا جب یہ شروع ہوتا ہے۔ کبھی آنکھ بند کرتے ہی، کبھی کسی معمولی سی آواز پر، کبھی کسی خوشبو کے گزرنے سے، اور کبھی بالکل بےسبب۔ بس ایک لمحہ کافی ہوتا ہے۔ اور پھر یادیں آتی ہیں۔ نرم نہیں۔ محبت بھری نہیں۔ درندوں کی طرح۔ ٹوٹ پڑتی ہیں مجھ پر، نوچتی ہیں، کاٹتی ہیں، اور جاتے جاتے میرے اندر کا وہ حصہ بھی ساتھ لے جاتی ہیں جسے میں دن بھر بڑی مشکل سے سلامت رکھتا ہوں۔ لوگ سمجھتے ہیں وقت گزر گیا ہے۔ شاید انہیں لگتا ہے زخم بھی وقت کے ساتھ تھک جاتے ہیں۔ انہیں کیا معلوم، کچھ زخم بھرنے کے بجائے آدمی کے اندر خاموش رہنا سیکھ لیتے ہیں۔ میں بھی سیکھ گیا ہوں۔ دن کو ہنس لیتا ہوں، لوگوں میں بیٹھ لیتا ہوں، باتیں کر لیتا ہوں، ایسے چلتا پھرتا ہوں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ بس رات ہوتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ دن بھر جس شخص کو میں زندہ رکھے پھر رہا تھا، وہ اندر سے کب کا زخمی پڑا ہے۔ کبھی کوئی جملہ تمہاری طرف لے جاتا ہے، کبھی کوئی آواز، کبھی وہی پرانی خاموشی۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ یادیں مجھ سے اجازت نہیں مانگتیں۔ انہیں معلوم ہے میں انہیں روک نہیں سکتا۔ وہ آتی ہیں، بیٹھتی بھی نہیں، سیدھا وہیں ہاتھ ڈالتی ہیں جہاں زخم ابھی زندہ ہوتا ہے۔ میں نے کئی بار خود کو سمجھایا کہ یہ صرف یادیں ہیں، حقیقت نہیں۔ مگر دل منطق سے کہاں چلتا ہے؟ اسے تو وہی چہرہ یاد رہتا ہے، وہی آواز، وہی وقت، وہی شخص۔ اور پھر وہی سب کچھ ایک بار پھر میرے سامنے رکھ دیا جاتا ہے۔ جیسے وقت گزرا ہی نہ ہو۔ جیسے تم گئی ہی نہ ہو۔ جیسے میں آج بھی وہیں کھڑا ہوں جہاں تم نے مجھے چھوڑا تھا۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں، انسان آخر یادوں سے بھی کب تک لڑ سکتا ہے؟ وہ دشمن بھی تو عجیب ہیں جنہیں ہم خود اپنے اندر جگہ دیتے ہیں۔ انہیں نکالنے کی کوشش کرو تو وہ اور گہری اتر جاتی ہیں۔ بھلانا چاہو تو کوئی پرانا لمحہ سامنے لا کھڑا کرتی ہیں۔ اور اگر خود کو مصروف کر لو تو رات کو حساب لینے آ جاتی ہیں۔ دنیا سے تو چھپ سکتا ہوں، اپنی یادوں سے کہاں چھپوں؟ سو اب سسکنا بھی آتا ہے۔ خاموشی سے۔ بغیر کسی کو بتائے۔ کیونکہ ہر درد سنایا بھی تو نہیں جا سکتا۔ کچھ تکلیفیں لفظوں میں آ جائیں تو چھوٹی لگنے لگتی ہیں، اور میں اپنی اذیت کو چھوٹا نہیں کرنا چاہتا۔ اس لیے صبح پھر وہی چہرہ لے کر اٹھتا ہوں۔ لوگ سمجھتے ہیں میں ٹھیک ہوں۔ میں بھی انہیں یہی سمجھنے دیتا ہوں۔ کون ہر ایک کو بتائے کہ رات بھر کوئی شخص اپنے ہی ماضی کے ہاتھوں نوچا جاتا رہا ہے؟ کون سمجھائے کہ کچھ لوگ زندگی سے چلے جاتے ہیں، مگر ان کی یادیں انسان کے اندر رہ کر بھی اسے جینے نہیں دیتیں۔ تم چلی گئیں۔ یہ حقیقت تھی۔ مگر تمہاری یادیں؟ وہ شاید میری سزا بن کر رہ گئیں۔ سسکیاں لیتا ہے وجود میرا، نوچ کر کھا گئیں یادیں تیری۔
سسکیاں لیتا ہے وجود میرا نوچ کر کھا گئیں یادیں تیری رات کا کوئی خاص وقت نہیں ہوتا جب یہ شروع ہوتا ہے۔ کبھی آنکھ بند کرتے ہی، کبھی کسی معمولی سی آواز پر، کبھی کسی خوشبو کے گزرنے سے، اور کبھی بالکل بےسبب۔ بس ایک لمحہ کافی ہوتا ہے۔ اور پھر یادیں آتی ہیں۔ نرم نہیں۔ محبت بھری نہیں۔ درندوں کی طرح۔ ٹوٹ پڑتی ہیں مجھ پر، نوچتی ہیں، کاٹتی ہیں، اور جاتے جاتے میرے اندر کا وہ حصہ بھی ساتھ لے جاتی ہیں جسے میں دن بھر بڑی مشکل سے سلامت رکھتا ہوں۔ لوگ سمجھتے ہیں وقت گزر گیا ہے۔ شاید انہیں لگتا ہے زخم بھی وقت کے ساتھ تھک جاتے ہیں۔ انہیں کیا معلوم، کچھ زخم بھرنے کے بجائے آدمی کے اندر خاموش رہنا سیکھ لیتے ہیں۔ میں بھی سیکھ گیا ہوں۔ دن کو ہنس لیتا ہوں، لوگوں میں بیٹھ لیتا ہوں، باتیں کر لیتا ہوں، ایسے چلتا پھرتا ہوں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ بس رات ہوتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ دن بھر جس شخص کو میں زندہ رکھے پھر رہا تھا، وہ اندر سے کب کا زخمی پڑا ہے۔ کبھی کوئی جملہ تمہاری طرف لے جاتا ہے، کبھی کوئی آواز، کبھی وہی پرانی خاموشی۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ یادیں مجھ سے اجازت نہیں مانگتیں۔ انہیں معلوم ہے میں انہیں روک نہیں سکتا۔ وہ آتی ہیں، بیٹھتی بھی نہیں، سیدھا وہیں ہاتھ ڈالتی ہیں جہاں زخم ابھی زندہ ہوتا ہے۔ میں نے کئی بار خود کو سمجھایا کہ یہ صرف یادیں ہیں، حقیقت نہیں۔ مگر دل منطق سے کہاں چلتا ہے؟ اسے تو وہی چہرہ یاد رہتا ہے، وہی آواز، وہی وقت، وہی شخص۔ اور پھر وہی سب کچھ ایک بار پھر میرے سامنے رکھ دیا جاتا ہے۔ جیسے وقت گزرا ہی نہ ہو۔ جیسے تم گئی ہی نہ ہو۔ جیسے میں آج بھی وہیں کھڑا ہوں جہاں تم نے مجھے چھوڑا تھا۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں، انسان آخر یادوں سے بھی کب تک لڑ سکتا ہے؟ وہ دشمن بھی تو عجیب ہیں جنہیں ہم خود اپنے اندر جگہ دیتے ہیں۔ انہیں نکالنے کی کوشش کرو تو وہ اور گہری اتر جاتی ہیں۔ بھلانا چاہو تو کوئی پرانا لمحہ سامنے لا کھڑا کرتی ہیں۔ اور اگر خود کو مصروف کر لو تو رات کو حساب لینے آ جاتی ہیں۔ دنیا سے تو چھپ سکتا ہوں، اپنی یادوں سے کہاں چھپوں؟ سو اب سسکنا بھی آتا ہے۔ خاموشی سے۔ بغیر کسی کو بتائے۔ کیونکہ ہر درد سنایا بھی تو نہیں جا سکتا۔ کچھ تکلیفیں لفظوں میں آ جائیں تو چھوٹی لگنے لگتی ہیں، اور میں اپنی اذیت کو چھوٹا نہیں کرنا چاہتا۔ اس لیے صبح پھر وہی چہرہ لے کر اٹھتا ہوں۔ لوگ سمجھتے ہیں میں ٹھیک ہوں۔ میں بھی انہیں یہی سمجھنے دیتا ہوں۔ کون ہر ایک کو بتائے کہ رات بھر کوئی شخص اپنے ہی ماضی کے ہاتھوں نوچا جاتا رہا ہے؟ کون سمجھائے کہ کچھ لوگ زندگی سے چلے جاتے ہیں، مگر ان کی یادیں انسان کے اندر رہ کر بھی اسے جینے نہیں دیتیں۔ تم چلی گئیں۔ یہ حقیقت تھی۔ مگر تمہاری یادیں؟ وہ شاید میری سزا بن کر رہ گئیں۔ سسکیاں لیتا ہے وجود میرا، نوچ کر کھا گئیں یادیں تیری۔

About