@sidhu_writer.1: ہمیں مارنے پہ تُل گیا یہ زمانہ، لوگوں سے ہمارا مسکرانا دیکھا نہ گیا۔ ہم نے تو ہر درد کو ہنس کر سہہ لیا، مگر کسی سے ہمارا یوں خوش رہنا دیکھا نہ گیا۔ ہم نے کسی کا برا نہیں چاہا کبھی، پھر بھی ہمیں اپنوں سے ہی سکون ملا نہ گیا۔ جنہیں اپنا سمجھ کر دل میں جگہ دی، انہی سے ہمارا دل سنبھالا نہ گیا۔ ہم خاموش رہے تو لوگوں نے کمزور سمجھا، جو بول پڑے تو ہمارا سچ بھی سہا نہ گیا۔ ہم نے زخم چھپا کر بھی مسکرانا سیکھ لیا، مگر لوگوں سے ہمارا درد چھپانا دیکھا نہ گیا۔ کچھ لوگ ہماری خوشیوں سے بھی جلتے رہے، ہمیں ہنستا دیکھ کر ان سے رہا نہ گیا۔ آخر ہم بھی انسان تھے، پتھر تو نہیں، ہر بار ٹوٹے مگر کسی کو بتایا نہ گیا۔ عجیب دستور ہے اس دنیا کا بھی، یہاں کسی کا غم دیکھا گیا، مگر کسی کا بے وجہ مسکرانا دیکھا نہ گیا۔