@ketorolac650: MasyaAllah mimil @DA7 MILA , Terimakasih banyak bundaku @Bunda Nick @Abang Fatah , semoga mila selalu dikelilingi orang2 baik dan tulus ya dee, banyak cinta untuk mila 🫶 Eh ada @PAK JENGGOT SARIMI jugaaa🫶 #milada7 #fypシ゚viral #fypシ #fyppppppppppppppppppppppp #tukuemasindonesia

Ketorolac💕
Ketorolac💕
Open In TikTok:
Region: ID
Sunday 27 September 2026 08:41:51 GMT
11899
1171
9
14

Music

Download

Comments

1m4.xyz
، :
disini adek bener' di rayakan Banget 🥹🫶🏻
2026-09-27 11:20:56
14
zulaifahlevi42
Ifahh🦋 :
Dia di sayang banget bangga deh🥺🤗
2026-09-27 14:43:47
3
tikno.sm
SM Barokah. id :
bismillah berkah barokah
2026-09-27 16:17:06
0
kikinurcahya16
Kikiiyyy :
Bahagia terus ya dek💗🥹
2026-09-27 15:46:28
0
semiati9
🦄🦩🦑 Azizah_🦩🦑🦄 :
🥰🥰🥰
2026-09-27 10:33:10
3
ig.in_yuniii
yunii :
@DA7.Valen len lihatlah betapa banyaknya yg sayang ama mimilmu🥹❤️‍🔥
2026-09-27 15:26:22
0
bloomychoco
🌻 :
Mampir ke akun aku yu kak, aku banyak up tentang milen😍
2026-09-27 15:08:04
0
To see more videos from user @ketorolac650, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

یہ شعر صوفیانہ فکر اور عشقِ حقیقی کے عمیق مفہوم کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے، جس میں شاعر دنیا دار اور اپنے محبوب کو مخاطب کر کے عشق اور درد کی اصل حقیقت سے آگاہ کرتا ہے۔ دنیا پرستی میں مبتلا انسان اکثر مادی کامیابی، مال و دولت، نام و نمود اور دنیاوی آسائشوں کو ہی حاصلِ زندگی سمجھ بیٹھتا ہے، جبکہ اہلِل دل اور صوفیاء کے نزدیک دل کا درد اور تڑپ ہی انسان کی روح کو بیدار کر کے اسے حقیقی مقصدِ حیات تک پہنچاتی ہے۔ شعر میں لفظ
یہ شعر صوفیانہ فکر اور عشقِ حقیقی کے عمیق مفہوم کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے، جس میں شاعر دنیا دار اور اپنے محبوب کو مخاطب کر کے عشق اور درد کی اصل حقیقت سے آگاہ کرتا ہے۔ دنیا پرستی میں مبتلا انسان اکثر مادی کامیابی، مال و دولت، نام و نمود اور دنیاوی آسائشوں کو ہی حاصلِ زندگی سمجھ بیٹھتا ہے، جبکہ اہلِل دل اور صوفیاء کے نزدیک دل کا درد اور تڑپ ہی انسان کی روح کو بیدار کر کے اسے حقیقی مقصدِ حیات تک پہنچاتی ہے۔ شعر میں لفظ "درد" سے مراد وہ غمِ عشق اور جدائی کی تڑپ ہے جو بندے کو دنیا کے فانی سہاروں سے کاٹ کر اپنے خالقِ حقیقی کی طرف مائل کرتی ہے۔ جب انسان دنیاوی رشتوں یا مادی خواہشات میں ناکام ہو کر اندرونی طور پر ٹوٹتا ہے، تو یہی ٹوٹنا اور تڑپنا اس کے نفس، تکبر اور غرور کو ختم کر دیتا ہے اور اسے دنیا کی بے ثباتی کا احساس دلاتا ہے۔ شاعر اپنے مخاطب کے سامنے اس بات کا شکوہ اور فخر ایک ساتھ کرتا ہے کہ تجھے شاید اپنی ظاہری اور مادی کامیابی پر بڑا ناز ہے کہ تجھے یہ پوری فانی دنیا مل گئی، لیکن تو اس دردِ دل کے معجزے اور کمال سے بالکل ناواقف ہے۔ دنیا کی تمام تر نعمتیں، آسائشیں اور محبوب فانی ہیں جو ایک دن ختم ہو جائیں گے، جبکہ خدا کا قرب، اس کی معرفت اور اس سے لو لگانا ایک دائمی اور ابدی نعمت ہے۔ جس انسان کو اپنے رب کی قربت اور معرفت حاصل ہو جائے، اس کا دل دنیا کی ہر حسرت اور طمع سے آزاد ہو جاتا ہے اور اسے کسی دوسرے سہارے کی ضرورت نہیں رہتی۔ صوفیانہ حکمت ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ غم، تڑپ اور مصیبتیں دراصل انسان کو خدا کے قریب لانے کا ایک ذریعہ بنتی ہیں، کیونکہ اگر دل میں درد اور خدا کی طلب نہ ہو تو پورا جہاں بھی مل جائے انسان اندر سے خالی ہی رہتا ہے۔ سچی محبت اور پرخلوص درد انسان کے باطن کو پاک کر کے اسے تمام دنیاوی پابندیوں اور خواہشات سے بلند کر دیتا ہے۔ یہ شعر دراصل بندے اور اس کے رب کے درمیان قائم ہونے والے ایک انتہائی پاکیزہ اور مضبوط روحانی تعلق کی عکاسی کرتا ہے۔ حاصلِ کلام یہ ہے کہ مادی دنیا کا حاصل ہونا محض ایک وقتی اور عارضی خوشی ہے، جبکہ خدا کی ذات کا مل جانا ابدی، لا فانی اور حقیقی کامیابی ہے، اور اسی بنیاد پر شاعر دنیا کے مقابلے میں اپنے دردِ دل اور خدا کی قربت کو اعلیٰ و برتر قرار دیتا ہے۔ #viral #sufi_writes #sufi #sufism #فقیر_دل

About